شاہد آفریدی، رانا نوید ٹیم سے باہر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے پہلے دو ٹیسٹ میچوں کے لیے پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں شاہد آفریدی اور رانا نوید الحسن کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ ٹیم کا اعلان پی سی بی کی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ وسیم باری نے پیر کو لاہور میں کیا۔ ٹیم میں شاہد آفریدی اور رانا نوید کی عدم شمولیت کے بارے میں وسیم باری کا کہنا تھا کہ آفریدی کچھ عرصہ سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پا رہے تھے، جبکہ رانا نوید نے انجری سے نجات پانے کے بعد دوبارہ بالنگ شروع کی تو ان کی لائن اور لینتھ درست نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں کہ یہ دونوں ٹیم سے بالکل باہر ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ڈومیسٹک سیزن شروع ہو چکا ہے، اگر دونوں نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا تو ویسٹ انڈیز کے خلاف آخری ٹیسٹ یا ون ڈے سیریز کے لیے ان کی شمولیت پر غور کیا جا سکتا ہے۔ دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے یاسر حمید کو دوبارہ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ اٹھائیس سالہ یاسر حمید سترہ ٹیسٹ میچ کھیل چکے ہیں۔ کافی عرصہ سے آؤٹ آف فارم اوپنر یاسر حمید کو ٹیم میں شامل کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے وسیم باری نے کہا کہ پاکستان کے ٹیسٹ کھلاڑیوں کے سرکل میں صرف چار ہی اوپنرز ہیں اور یاسر حمید ان میں سے ایک ہیں۔ چیف سلیکٹر کا کہنا تھا کہ سلمان بٹ کے آؤٹ آف فارم ہونے کے بعد تجربہ کار اوپنر یاسر حمید کو ہی ٹیم میں شامل کیا جا سکتا تھا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اننگز کا آغاز عمران فرحت اور محمد حفیظ ہی کریں گے کیونکہ دونوں نے انگلینڈ کے خلاف آخری ٹیسٹ میچ میں بہتر کارکردگی دکھائی تھی۔ ٹیم کے لیے تین تیز بالرز عمر گل، شاہد نذیر اور سمیع اللہ نیازی کا چناؤ کیا گیا ہے جبکہ دانش کنیریا اور بائیں ہاتھ سے لیگ سپِن بالنگ کرنے والے کھلاڑی عبدالرحمن بھی ٹیم میں شامل کیے گئے ہیں۔ ٹیم میں شعیب اختر اور محمد آصف کی کمی کو تسلیم کرتے ہوئے وسیم باری کا کہنا تھا ’یہ ایسے ہی ہے جیسے آسٹریلیا کی ٹیم سے میک گرا اور شین وارن کو نکال دیا جائے‘۔ انہوں نے کہا کہ تاہم کپتان اور کوچ کے مشورے سے متوازن ٹیم تشکیل دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ٹیم کی قیادت انضمام الحق کریں گے۔ ان پر اوول ٹیسٹ تنازعے کے بعد چار ایک روزہ میچوں میں کھیلنے کی پابندی لگائی گئی تھی۔ کوچ باب وولمر نے کہا کہ انہوں نے ایسی وکٹ بنانے کی درخواست کی ہے جو ٹرن لے اور سپن بالرز کی مدد کرے، اسی لیے دو سپیشلسٹ سپن بالرز دانش کنیریا اور عبدالرحمن کے علاوہ شعیب ملک اور محمد حفیظ کی صورت میں دو ایسے آل راؤنڈرز کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے جو سپِن بالنگ کراتے ہیں۔ وولمر کا کہنا تھا کہ تاہم ٹیم کے حتمی چناؤ کے بارے میں فیصلہ میچ سے قبل وکٹ دیکھ کر ہی کیا جائے گا کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ انہیں ٹرنگ وکٹ ملیں گی بھی یا نہیں۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلا ٹیسٹ گیارہ نومبر سے شروع ہو گا جبکہ دوسرا میچ انیس نومبر سے کھیلا جائے گا۔ پاکستان ٹیم: |
اسی بارے میں پاکستان کی 51 رنز سے شکست25 October, 2006 | کھیل ’ تھِنک ٹینک بنائیں گے‘30 October, 2006 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||