’ریٹائرمنٹ کا فیصلہ اچانک کیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ہر دلعزیز بیٹسمین شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ سے عارضی ریٹائرمنٹ کے بارے میں انہوں نے کافی عرصے سے سوچ رکھا تھا لیکن فیصلہ اچانک کیا ہے۔ ادھر پاکستان کی ٹیم کے کپتان انضمام الحق نے شاہد آفریدی کے فیصلے کو جذباتی قرار دیا۔ شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ انہوں نے اس لیے نہیں کیا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی کاکردگی خراب ہو گئی تھی بلکہ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصے سے ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی پرفارمنس میں کافی بہتری آ گئی تھی۔ تاہم انہیں محسوس ہوا کہ ون ڈے کرکٹ میں خاص طور پر ان کی بیٹنگ میں کارکردگی بہت زیادہ اور تھکا دینے والی کرکٹ کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے اس لیے انہوں نے ورلڈ کپ کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ صرف ورلڈ کپ کو مد نظر رکھتے ہوئے صرف ون ڈے کرکٹ پر توجہ مرکوز رکھیں۔ شاہد آفریدی نے کہا کہ ان کی ریٹائرمنٹ سری لنکا میں ٹیسٹ نہ کھلانے کا کوئی رد عمل نہیں ہے اور سری لنکا کے لیے تو وہ ویسے بھی ذہنی طور پر تیار نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ انگلینڈ اور بھارت کے خلاف اتنی بڑی اور تھکا دینے والی سیریز کے بعد کچھ آرام ہونا چاہیے تھا۔ شاہد آفریدی نے شکایت بھرے انداز میں کہا کہ آج کل کی کرکٹ میں اگر کوئی بیٹسمین اچھے رنز بناتا ہے تو اسے اس کارکردگی سے لطف اٹھانے کا وقت نہیں ملتا اور اسے اگلے دن ہی پھر کھیلنا ہوتا ہے اور سکور کرنا ہوتا ہے اور اگر نہ کر سکے تو دو دن پہلے کی کارکردگی کی کوئی اہمیت ہی نہیں رہتی۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو پرفارمنس دکھانے کے لیے ریسٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ شاہد آفریدی کے مطابق کرکٹ اب کھیل نہیں ایک بزنس بن گیا ہے۔ شاہد آفریدی نے کہا کہ انہوں نے جس سے بھی مشورہ کیا اس نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا، ’لیکن میرے خیال میں مجھے اس کی ضرورت تھی اور یہ میرا اپنا فیصلہ ہے‘۔ انگلینڈ کے خلاف جولائی میں ہونے والی سیریز میں ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی غیر موجودگی پر شائقین کی مایوسی کے بارے میں آفریدی کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ’ایک کھلاڑی کے نہ ہونے سے لوگوں کو کوئی فرق پڑے گا۔پاکستان کی ٹیم انضمام کی کپتانی میں کافی اچھی جا رہی ہے اور ایسا نہیں کہ ٹیم کو ٹیسٹ میچز میں میرے نہ ہونے سے مسئلہ ہو گا‘۔ پاکستان کی ٹیم کے کپتان انضمام نے کہا کہ ہر شخص کو حق حاصل ہے وہ اپنے لیے جو فیصلہ کرنا چاہے کرے اور یہ آفریدی کا ذاتی فیصلہ ہے لیکن انضمام نے کہا کہ ان کا یہ خیال ہے کہ یہ ایک جذباتی فیصلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ آفریدی کی ان سے کوئی لڑائی ہوئی ہے یا انہوں نے ناراض ہو کر یہ فیصلہ کیا ہے انضمام نے ہنستے ہوئے کہا کہ اگر ایک کھلاڑی ایک میچ میں نہ کھلانے پر ناراض ہو کر ایسا فیصلہ کرتا ہے تو پھر تو میری بات درست ہے کہ وہ اس کا جذباتی فیصلہ ہے لیکن ایسا نہیں ہے کرکٹ بہت زیادہ ہونے سے کھلاڑی تھک بھی سکتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ انہیں آرام کی ضرورت ہوکیونکہ وہ بہت زیادہ کرکٹ کی وجہ سے اس کی کارکردگی متاثر ہو رہی تھی۔ انضمام نے کہا کہ اچھا ہے کہ وہ کچھ دیر آرام کر لے تو وہ کم بیک بھی کر لے گا اور کچھ عرصے بعد اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر سکتا ہے۔ | اسی بارے میں ابوظہبی ون ڈے، ٹیم کا اعلان07 April, 2006 | کھیل پاکستان کی ٹیسٹ سیریز میں فتح05 April, 2006 | کھیل ہسپتال کا قیام، انضمام کا خواب 12 February, 2006 | کھیل ’ذمہ داری کا کچھ احساس ہے‘10 March, 2006 | کھیل ورلڈ کپ کی تیاری کا وقت 08 April, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||