’ذمہ داری کا کچھ احساس ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آل رونڈر شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ بطور سینیئر کھلاڑی اب وہ خود پر’ کچھ‘ ذمہ داری محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے ہرکھلاڑی کا کھیل اسی وقت نکھرتا ہےجب اسے تجربہ حاصل ہو وہ چاہے آسٹریلیا کا کھلاڑی ہو یا کسی اور ملک کا اور میرے کھیل میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ کافی بہتری آئی ہے۔ سری لنکا کے خلاف تیز ترین سنچری بنانے کا ورلڈ ریکارڈ بنانے والے شاہد آفریدی سری لنکا کے دورے میں بھی زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے بے چین ہیں۔ شاہد آفریدی نے سری لنکا کے خلاف 97-1996 میں نیروبی میں ہونے والی ٹرائی سیریز میں محض 37 گیندوں پر سنچری بنا کر ورلڈ ریکارڈ بنایا تھا۔ اپنی اس کارکردگی کی بارے میں شاہد آفریدی کا کہنا تھا ’اس میں میرا کمال نہیں تھا وہ سب اللہ کا کرم تھا‘۔ سپن بالنگ کے خلاف بہتر کھیلنے کے لیے مشہور شاہد آفریدی نے کہا کہ مرلی دھرن سے خوفزدہ یا مرعوب نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ٹیم میں کچھ خاص کھلاڑی ہوتے ہیں۔’اگر ان کے پاس مرلی ہے تو ہماری ٹیم میں انضمام ،یوسف اور یونس جیسے کھلاڑی ہیں‘۔ شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ ہماری ٹیم اس وقت بہت متحد ہے اور ٹیم کا ہر کھلاڑی اچھی کارکردگی دکھانا چاہتا ہے تاکہ بھارت سے ون ڈے سیریز میں ہونے والی شکست کا داغ دھویا جا سکےاور جب ہر کھلاڑی اپنے لیے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا تو وہ مجموعی طور پر ٹیم کے لیے اچھا ہو گا۔ اپنی فٹ نس کی بابت انہوں نے کہا کہ وہ اب بالکل ٹھیک ہیں۔ شاہد آفریدی کا کہنا کہ سری لنکا کی ٹیم اپنی گراؤنڈز پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے لیکن پاکستان کے ٹیم بھی بہت مضبوط ہے۔ بھارت کے خلاف آخری دو میچوں میں تکلیف کے سبب نہ کھیلنے کا انہیں اب بھی افسوس ہے ۔ | اسی بارے میں پچ خراب کرنے کی سزا21 November, 2005 | کھیل شاہد آفریدی کی شاندار واپسی20 November, 2005 | کھیل فیصل آباد: میچ کے دوران زوردار دھماکہ21 November, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||