ورلڈ کپ کی تیاری کا وقت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا کے خلاف ون ڈے کے بعد ٹیسٹ سیریز کی جیت نے پاکستانی کپتان انضمام الحق کو اس لیے بھی مطمئن کردیا ہوگا کہ بھارت کے خلاف ون ڈے سیریز ہارنے کے بعد ان کی کپتانی پر کافی تنقید ہورہی تھی حالانکہ ان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے بھارت اور انگلینڈ سے ہوم ٹیسٹ سیریز جیتی تھیں اور اس سے بھی پیچھے مڑ کر دیکھیں تو بھارت اور ویسٹ انڈیز کے خلاف انہی کے دیس میں ٹیسٹ سیریز برابر کرنا مذاق نہ تھا۔ پانچ ناقابل شکست ٹیسٹ سیریز میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ متعدد مواقع پر ٹیم مشکل پوزیشن سے نکل کر میچ جیتی یا ڈرا کرنے میں کامیاب ہوئی، جس سے اس کی موجود فائٹنگ سپرٹ کا پتہ چلتا ہے۔ پاکستانی ٹیم کا اصل امتحان اب شروع ہونے والا ہے کیونکہ اب اس کی کرکٹ ایشیائی وکٹوں سے باہر ہونے والی ہے۔ پاکستانی ٹیم نے جس آسانی سے انگلینڈ کو اپنے میدانوں پر رنز کے انبار لگاکر زیر کیا انگریز ٹیم اپنے ماحول اور وکٹوں پر ترنوالہ ثابت نہیں ہوگی اگرچہ بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز برابر کرنے کے بعد وہ جس طرح ون ڈے سیریز میں بے بسی کی تصویر بنی ہے وہ حیران کن ہے لیکن انگلینڈ کو انگلینڈ میں ہرانے کے لیے پاکستانی ٹیم کو اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا۔ حالیہ میچوں میں پاکستان کی بیٹنگ میں انفرادی کارکردگی کا عنصر غالب رہا ہے۔ انگلینڈ کے دورے میں جہاں موسم اور وکٹیں بولرز کے لیے موافق ہوتی ہیں پاکستانی بیٹسمینوں کو بڑا اسکور فراہم کرنے کے لیے اجتماعی طور پر غیرمعمولی کارکردگی دکھانی ہوگی۔ عمران فرحت اور شعیب ملک کی اوپننگ جوڑی پر کپتان انضمام الحق کا اعتماد پختہ ہوچکا ہے لیکن عمران فرحت کو نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد عجلت پسندی ترک کر کے خود کو بڑی اننگز کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ کولمبو اور کینڈی دونوں ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے اپنی غلطی سے وکٹ گنوائی۔ انگلینڈ کے مخصوص موسم میں جہاں گیند سوئنگ ہوتی ہے عمران فرحت کو اپنے بیٹ اور جذبات دونوں کو قابو میں رکھنا ہوگا۔
سری لنکا کے دورے میں شعیب اختر کی غیرموجودگی میں محمد آصف ہیرو بن کر ابھرے۔ بھارت کے خلاف کراچی ٹیسٹ کے بعد سری لنکا کے خلاف دونوں ٹیسٹ میچوں میں بھی ان کی عمدہ کارکردگی یہ ثابت کرچکی ہے کہ ان کی بولنگ میں نکھار آتا جارہا ہے اور وہ اس وقت انضمام الحق کو کامیابی سے ہم کنار کرنے والے کھلاڑیوں میں شامل ہیں لیکن دوسرے اینڈ پر ایک ایسے بولر کی کمی بھی شدت سے محسوس کی گئی ہے جو محمد آصف کا بھرپور ساتھ دے سکے۔ کینڈی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں عبدالرزاق نے شاندار بولنگ کرکے محمد آصف کا ساتھ دیا لیکن عمر گل اور راؤ افتخار کے غیرموثر رہنے سے بولنگ کا زیادہ تر بوجھ محمد آصف نے ہی اٹھایا۔ سابق کپتان رمیز راجہ کو ڈر ہے کہ طویل بولنگ کرانے سے محمد آصف کا کریئر خطرے سے دوچار نہ ہوجائے جیسا کہ فاسٹ بولر محمد زاہد کے ساتھ ہوا تھا۔ انگلینڈ کے دورے میں فٹ شعیب اختر کی موجودگی ٹیم کے لیے ضروری ہے۔ بدقسمتی سے محمد سمیع خراب کارکردگی کے سبب ٹیم میں جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ عمر گل فٹ ہوکر ٹیم میں واپس آئے ہیں لیکن ان کی گیندوں میں وہ کاٹ نظر نہیں آئی جبکہ شبیراحمد بولنگ ایکشن کے مسئلے سے ہی نکل نہیں پارہے ہیں۔ان حالات میں رانانوید الحسن عبدالرزاق اور محمد آصف ہی پاکستانی بولنگ اٹیک کو سنبھالے ہوئے ہونگے۔
کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ ٹیم کی موجودہ کارکردگی یہ بتارہی ہے کہ ورلڈ کپ کی جانب اس کا سفر صحیح طور پر جاری ہے لیکن انہیں کوچ باب وولمر کے ساتھ ملکر ون ڈے کی اس ٹیم کو تقریبا حتمی شکل دے دینی ہوگی جو ورلڈ کپ میں میدان میں اترے گی تاکہ ہر کھلاڑی اس کے لیے خود کو تیار کرسکے۔ پچھلے کئی ماہ سے مسلسل کھیلتے ہوئے سلیکٹرز، کپتان اور کوچ کو یہ اندازہ تو ہوگیا ہوگا کہ ورلڈ کپ کے لیے کیا کامبی نیشن تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ |
اسی بارے میں جےسوریا نہیں کھیل سکیں گے04 April, 2006 | کھیل سری لنکن کپتان جیت کے منتظر02 April, 2006 | کھیل پاکستان کی ٹیسٹ سیریز میں فتح05 April, 2006 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||