بالروں کوکریڈٹ جاتا ہے: انضمام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق خوش ہیں کہ ان کی ٹیم نے سری لنکا میں ٹیسٹ سیریز جیت لی ہے۔ وہ کینڈی ٹیسٹ کی جیت کو اپنے بالرز کے حصے میں ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک سو نو رنز کے خسارے میں جانے کے بعد یہ بالرز ہی تھے جنہوں نے سری لنکا کو دوسری اننگز میں صرف 73 رنز پر آؤٹ کردیا۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ فاسٹ بالرز نے گرمی میں سخت محنت کی اور جیت کی بنیاد رکھی۔ پاکستانی کپتان بلے بازوں کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کولمبو میں بھی پاکستانی ٹیم کو جیتنے کا موقع ملا تھا لیکن بلے بازوں کی کارکردگی کے سبب وہ ضائع ہوگیا تھا اور اس مرتبہ بھی پہلی اننگز میں بیٹنگ ناکام رہی۔ پہلی اننگز میں170 رنز پر ٹیم کے آؤٹ ہونے کے بارے میں انضمام الحق کا کہنا ہے کہ اس میں بیٹسمینوں کی غلطیوں کا دخل تھا سری لنکا کے بالرز کا کارنامہ نہیں۔ اسگیریا اسٹیڈیم کی وکٹ کے بارے میں پاکستانی کپتان کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کے لیئے یہ اچھی وکٹ تھی۔ انضمام الحق کی قیادت میں پاکستانی ٹیم پانچ سیریز سے ناقابل شکست ہے۔ اس نے ویسٹ انڈیز اور بھارت میں ٹیسٹ سیریز برابر کھیلی جبکہ انگلینڈ اور بھارت کے خلاف ہوم سیریز جیتنے کے بعد اس نے اب سری لنکا کو زیر کیا ہے۔ انضمام الحق اسے ٹیم سپرٹ کانتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سپرٹ پہلے ٹیم میں نہیں تھی لیکن اب ٹیم متحد ہوکر کھیل رہی ہے یہ اسی کا صلہ ہے کہ نتائج اس کے حق میں رہے ہیں۔ انضمام الحق کے مطابق اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اگر بیٹنگ ناکام ہوجاتی ہے تو بالرز اپنی عمدہ کارکردگی سے حساب برابر کردیتے ہیں۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ مرلی دھرن کے لیئے ٹیم نے خاص حکمت عملی بنائی تھی اور پچ پر رف ایریا بنا کر اس کی پریکٹس کی تھی۔ سری لنکا کی ٹیم کے کپتان مہیلاجے وردھنے کا کہنا ہے کہ وہ تیسرے دن جلد وکٹیں حاصل کرنا چاہتے تھے جس میں انہیں کامیابی نہیں ہوئی جس کے بعد میچ پر پاکستان کی گرفت مضبوط ہوگئی۔ | اسی بارے میں جےسوریا نہیں کھیل سکیں گے04 April, 2006 | کھیل سری لنکن کپتان جیت کے منتظر02 April, 2006 | کھیل پاکستان کی ٹیسٹ سیریز میں فتح05 April, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||