ویسٹ انڈیز شدید مشکل میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ٹیسٹ میں پاکستان کے 485 رن کے جواب میں ویسٹ انڈیز نے تیسرے دِن کے کھیل کے اختتام پر دوسری اننگز میں تین کھلاڑیوں کے نقصان پر چوہتر رن بنائے تھے۔ اس طرح اسے اننگز کی شکست سے بچنے کے لیے ابھی دو سو پانچ رن چاہیں۔ پاکستانی ٹیم کو مضبوط پوزیشن پر لانے کا سہرا محمد یوسف کے سرجاتا ہے جنہوں نے192 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جس کے نتیجے میں میزبان ٹیم485 رنز تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی۔ محمد یوسف اس لحاظ سے خوش قسمت رہے کہ ان کے تین کیچز ڈراپ ہوئے اور سمٹپڈ کی اپیل پر امپائر اشوکا ڈی سلوا نے کان نہیں دھرے لیکن مجموعی طور پر یہ ایک ورلڈ کلاس بیٹسمین کی ایسی اننگز تھی جس میں ذمہ داری کا عنصر بھی غالب تھا اور اسٹروکس کی دلکشی بھی جھلک رہی تھی۔ محمد یوسف کی یہ قذافی سٹیڈیم میں پانچویں سنچری ہے۔اپنے ہوم گراؤنڈ پر دس ٹیسٹ میچوں میں ان کے بنائے گئے رنز کی تعداد1037 ہوگئی ہے۔ محمد یوسف نے دو سنچری شراکتوں کے ذریعے پاکستانی اننگز کو استحکام بخشا۔ انہوں نے شعیب ملک کے ساتھ پانچویں وکٹ کے لیے139 رنز کا اضافہ کیا اور پھر وکٹ کیپر کامران اکمل کے ساتھ ساتویں وکٹ کے لیے148 رنز بنائے۔ شعیب ملک اور کامران اکمل اپنی اننگز کو تین ہندسوں میں تبدیل نہ کرسکے۔ انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں نصف سنچری کے بعد سے کامران اکمل کے ستارے گردش میں تھے اور اس اننگز نے ان کے اعتماد کو بحال کردیا۔ ویسٹ انڈیز کی مایوسی کو ٹیل اینڈرز دانش کنیریا اور عمرگل کو اپنی جارحانہ بیٹنگ کے ذریعے مزید بڑھادیا۔ جیروم ٹیلر115 رنز دے کر چار وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے لیکن تیسرے دن کے سب سے قابل ذکر بولر کرس گیل رہے جنہوں نے محمد یوسف اور کامران اکمل کی قیمتی وکٹیں حاصل کیں۔ ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگز ابتدا ہی میں دونوں اوپنرز گنگا اور گیل سے محروم ہونے کے بعد دباؤ کا شکار ہوگئی۔ گنگا پانچ رن بناکر عمران فرحت کے ہاتھوں رن آؤٹ ہوئے اور کرس گیل کو گیارہ رن پر عمر گل نے کامران اکمل کے ہاتھوں کیچ کرادیا۔ رام نریش سروان تئیس رن بنا کر عمرگل کی گیند پر امپائر اشوکا ڈی سلوا کے غلط ایل بی ڈبلیو فیصلے کی بھینٹ چڑھ گئے۔ برائن لارا ایک اینڈ سنبھالتے ہوئے کھیل کے اختتام پر اٹھائیس رن پر ناٹ آؤٹ تھے۔ فیڈل ایڈورڈز پانچ رن پر ان کے ساتھ کریز پر تھے۔ پہلے دو دنوں کی طرح تیسرے دن کا کھیل بھی کم روشنی کے سبب مقررہ وقت سے پہلے ختم کردیا گیا۔ تین دنوں میں اب تک چوالیس اوور کا کھیل ضائع ہوچکا ہے۔ پاکستانی ٹیم: عمران فرحت، محمد حفیظ، یونس خان، محمد یوسف، انضمام الحق، شعیب ملک، دانش کنیریا، عبدالرزاق، شاہد نذیر، عمر گُل اور کامران اکمل۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم: ڈی گنگا، کرس گیل، رمیش ساروان، شِو نرائن چندرپال، برائن لارا، ڈی جے براوو، ڈی رام دین، ڈی محمد، جے ٹیلر، سی کالیمور اور ایف ایچ ایڈورڈز۔ | اسی بارے میں لارا بمقابلہ انضمام، پہلا ٹیسٹ لاہور میں10 November, 2006 | کھیل شاہد آفریدی، رانا نوید ٹیم سے باہر06 November, 2006 | کھیل پاکستان کو ہرانے کا اچھا موقع ہے، لارا10 November, 2006 | کھیل دل چاہتا ہے کھیلتا ہی رہوں: انضمام10 November, 2006 | کھیل ’لارامجھ سے بہتر کھلاڑی ہیں‘07 November, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||