ویسٹ انڈیز کی تین وکٹیں گِر گئیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ٹیسٹ کے تیسرے روز پاکستان چار سو پچاسی کے جواب میں ویسٹ انڈیز کے چھپن رن پر تین کھلاڑی آؤٹ ہو گئے۔ گنگا رن آؤٹ ہوئے جبکہ کرس گیل اور رمیش ساروان کو عمر گُل نے آؤٹ کیا۔ محمد یوسف اور کامران اکمل کے درمیان اچھی شراکت کی بدولت پاکستان کی ٹیم ویسٹ انڈیز پر دو سو اناسی رن کی برتری حاصل کر سکی۔ دونوں کے درمیان ایک سو اڑتالیس رن کی شراکت ہوئی۔ محمد یوسف ایک سو بانوے اور اکمل اٹھہتر رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ویسٹ انڈیز کی طرف سے ٹیلر نے چار، محمد نے تین اور گیل نے دو کھلاڑی آؤٹ کیے۔ شعیب ملک انہتر اور عبدالرزاق پانچ رن بنا کر ٹیلر کی گیندوں کا نشانہ بنے۔ محمد یوسف کے لیے دو سخت لمحات آئے۔43 کے اسکور پر ٹیلر کی گیند پر گنگا نے ان کا کیچ ڈراپ کردیا۔53 کے اسکور پر ڈیو محمد کی گیند پر وکٹ کیپر رام دین نے انہیں اسٹمپ کرکے اپیل کی لیکن اسکوائر لیگ امپائر اشوکا ڈی سلوا نے ٹی وی امپائر ندیم غوری سے رجوع کرنا ہی مناسب نہیں سمجھا۔ ان دو مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے محمد یوسف71 ویں ٹیسٹ میں20 ویں سنچری بنانے میں کامیاب ہوگئے جس میں13 چوکے شامل تھے۔ یہ ویسٹ انڈیز کے خلاف چھ ٹیسٹ میچوں میں محمد یوسف کی چوتھی سنچری ہے۔ کم روشنی کے سبب پہلے روز کھیل اٹھارہ اوور اور دوسرے روز اکیس اوور پہلے ختم کرنا پڑا۔ پاکستانی ٹیم: عمران فرحت، محمد حفیظ، یونس خان، محمد یوسف، انضمام الحق، شعیب ملک، دانش کنیریا، عبدالرزاق، شاہد نذیر، عمر گُل اور کامران اکمل۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم: ڈی گنگا، کرس گیل، رمیش ساروان، شِو نرائن چندرپال، برائن لارا، ڈی جے براوو، ڈی رام دین، ڈی محمد، جے ٹیلر، سی کالیمور اور ایف ایچ ایڈورڈز۔ | اسی بارے میں لارا بمقابلہ انضمام، پہلا ٹیسٹ لاہور میں10 November, 2006 | کھیل شاہد آفریدی، رانا نوید ٹیم سے باہر06 November, 2006 | کھیل پاکستان کو ہرانے کا اچھا موقع ہے، لارا10 November, 2006 | کھیل دل چاہتا ہے کھیلتا ہی رہوں: انضمام10 November, 2006 | کھیل ’لارامجھ سے بہتر کھلاڑی ہیں‘07 November, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||