BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عظیم کرکٹر جو ’رن آؤٹ‘ ہو گیا

انضمام
ورلڈ کپ کی ’نحوست‘ انضمام کا پیچھا کرتی رہی
انضمام کا عروج بھی ورلڈ کپ سے ہوا، زوال کے طرف بھی ورلڈ کپ ہی لے گیا اور ون ڈے کیریئر کا اختتام بھی ورلڈ کپ پر ہی کیا۔

اس دوران انہوں نے 378 ون ڈے کھیلے، 11،109 رنز بنائے جن میں دس سنچریاں اور 83 نصف سنچریاں تھیں۔ یہ سکور انہوں نے 39.53 کی اوسط سے کیا۔

انضمام الحق نے اپنا پہلا ایک روزہ میچ تو 1991 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا جس میں وہ صرف 20 رنز بنا سکے لیکن ان کے شاندار ون ڈے کیریئر کا آغاز 1992 کے ورلڈ کپ کے دوران نیوزی لینڈ کے خلاف میچ سے ہوا۔ انہوں نے اس میچ میں 37 گیندوں پر 60 رنز بنائے اور پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی بدولت پاکستان ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچا اور عالمی چیمپئن بنا۔ میلبورن میں انگلینڈ کے خلاف ہونے والے فائنل میں بھی انہوں نے 42 رنز بنائے۔ اس پورے ٹورنامنٹ میں انضمام چار مرتبہ رن آؤٹ ہوئے اور مجموعی طور پر 225 رنز بنا پائے۔

1996 کے ورلڈ کپ میں انضمام کوئی قابلِ قدر کارکردگی نہ دکھا سکے اور دو مرتبہ رن آؤٹ ہونے کے ساتھ انہوں نے کل 145 رنز بنائے۔

اسی طرح 1999 کے ورلڈ کپ میں انضمام نے 31.75 رنز کی اوسط سے 245 رنز بنائے جس میں 81 سب سے زیادہ سکور تھا۔

جنوبی افریقہ میں ہونے والا 2003 کا ورلڈ کپ انضمام کے ایک روزہ کیریئر کا بدترین دور تھا۔ اس پورے ٹورنامنٹ میں انضمام کل 19 رنز بنا پائے اور ان کا سب سے زیادہ سکور 6 تھا۔

انضمام
آخری میچ میں آؤٹ ہونے کے بعد انضمام اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور رو پڑے

مایوس کن کارکردگی کے بعد انضمام نے کرکٹ چھوڑنے کے متعلق بھی سوچا لیکن پھر ساتھیوں کے سمجھانے پر باز آئے۔ بقول انضمام کے اس مشکل گھڑی میں ان کے والد کی نصیحت نے ان کا ساتھ دیا کہ ’بیٹا برے وقت کے بعد اچھا وقت بھی ضرور آتا ہے۔‘

انضمام کا اچھا وقت بھی آیا، وہ ٹیم کے کپتان بنے، اچھی فارم میں واپس آئے، پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ ٹیسٹ سنچریاں بنانے کا ریکارڈ قائم کیا، انڈیا میں ون ڈے سیریز جیتی اور ٹیسٹ سیریز برابر کی، اسی طرح ویسٹ انڈیز جا کر وہاں ون ڈے سیریز جیتی اور ٹیسٹ سیریز برابر کی۔

انضمام کے متعلق کہا جاتا تھا کہ ان کا کیریئر پاکستان کے سابق کپتانوں کے برعکس کافی شفاف ہے۔ نہ کبھی ان پر جوئے کا الزام لگا اور نہ ان پر گالی گلوچ کے الزام لگے۔ تاہم ان کو کسی نہ کسی طرح آئی سی سی کی طرف سے سزا ملتی رہی۔ وہ دنیائے کرکٹ کے ان کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جن پر سب سے زیادہ جرمانے اور میچ نہ کھیلنے کی پابندیاں لگی ہیں۔ ان کی زندگی کا سب سے بڑا تنازعہ انگلینڈ میں لگایا جانے والے بال ٹیمپرنگ کا الزام تھا۔ جس کی وجہ سے وہ ٹیم کو گراؤنڈ سے باہر لے گئے اور پھر وقت پر گراؤنڈ پر نہ آنے کی وجہ سے میچ کا فیصلہ ایمپائیرز نے انگلینڈ کے حق میں دے دیا۔ انضمام پر اس کی وجہ سے بہت تنقید ہوئی لیکن انہوں نے اپنا کیس لڑا اور آخر کار بال ٹیمپرنگ کے الزام سے بری ہوئے۔ تاہم کھیل کو بدنام کرنے کے الزام میں انہیں قصور پاتے ہوئے چار ایک روزہ میچوں کی پابندی کی سزا دی گئی۔

انضمام کتنی ٹیسٹ کرکٹ کھیلیں گے یہ ان کی فارم اور آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن یہ بات واضح ہے کہ پاکستان کی ون ڈے ٹیم ایک عظیم کرکٹر سے محروم ہو گئی ہے۔

ایک ایسا کرکٹر جسے عالمی کپ نے اٹھایا اور عالمی کپ نے ہی گرا دیا۔

ورلڈ کپ کی نحوست نے انضمام کا پیچھا نہیں چھوڑا۔

انضمامانضمام کا آخری میچ
پاکستان کے کپتان ایک روزہ کرکٹ سے دستبردار
 وسیم باری’آل آؤٹ‘
چیئرمین کے بعد سلیکشن کمیٹی بھی مستعفی
وولمروولمر کا ’استعفیٰ‘
ایک مختلف ٹیم کی کوچنگ
انضمام الحقسبینا میں شبینہ
ہند و پاک کرکٹ کا ’سیاہ‘ سنیچر
ایک تماشائیایک بڑا اپ سیٹ
آئرش جذبہ پاکستانی تجربے پر غالب
’مشکل میچ ہوگا‘
آئرلینڈ کو کمزور ٹیم نہ سمجھیں: باب وولمر
دعا کے ساتھ دوا بھی
’ابتدائی شکست مایوس کن لیکن امید قائم‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد