کرکٹ بورڈ میں استعفوں کی لہر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف کے بعد اب کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ اور اراکین بھی اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے ہیں۔ چیف سلیکٹر وسیم باری نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ انہوں نے اپنے دیگر دو ساتھیوں اقبال قاسم اور احتشام الدین سمیت استعفے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھجوا دیے ہیں۔ وسیم باری کو شہریار خان کے دور میں عامرسہیل کی جگہ چیف سلیکٹر بنایا گیا تھا۔ چارسال قبل جنوبی افریقہ میں ہونے والے عالمی کپ میں بھی وہ چیف سلیکٹر تھے لیکن اس ورلڈ کپ میں بھی پاکستانی ٹیم پہلے مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکی تھی۔ وسیم باری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سلیکشن کمیٹی کی مدت ورلڈ کپ تک ہے تاہم ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد اخلاقی طور پر اس عہدے پر رہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کی ذمہ داری بڑی حد تک سلیکشن کمیٹی پر بھی عائد ہوتی ہے۔ وسیم باری نے اس تاثر کو سختی سے مسترد کردیا کہ وہ ’ڈمی‘ یا ’یس مین‘ چیف سلیکٹر تھے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ پاکستان میں با اختیار چیف سلیکٹر ہونے کی روایت یا پالیسی نہیں رہی ہے لہذا انہوں نے کپتان اور ٹیم منیجمنٹ سے محاذ آرائی کے بجائے باہمی ملاپ سے اپنی ذمہ داری نبھائی۔ یاد رہے کہ پیر کی شب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے بھی اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا جبکہ ان سے قبل انضمام الحق ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد اور کپتانی چھوڑنے کا اعلان کرچکے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے انتہائی مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نسیم اشرف نے صدر مملکت کو، جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن انچیف بھی ہیں اپنا استعفی بھجوادیا ہے، لیکن ابھی تک یہ منظور نہیں ہوا ہے۔ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی انتہائی خراب کارکردگی پر ڈاکٹر نسیم اشرف سے مستعفی ہونے کا ملک گیر سطح پر مطالبہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے ٹیم کی کارکردگی پر رسمی معافی بھی مانگی تھی۔ ڈاکٹر نسیم اشرف جو صدر پرویز مشرف کے انتہائی قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں گزشتہ سال شہریارخان کی جگہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ بنے تھے لیکن اپنے مختصر دور میں انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ان کی سربراہی کے دوران پیدا ہونے والے تنازعات میں چیمپئنز ٹرافی سے قبل محمد یوسف کی جگہ یونس خان کی کپتانی، شعیب اختر اور محمد آصف کے خلاف کارروائی، ٹیم میں غیرمعمولی مذہبی رجحان پر کپتان انضمام الحق پر تنقید، آئی سی سی، واڈا اور کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت سے محاذ آرائی جیسے معاملات قابل ذکر ہیں۔ | اسی بارے میں وولمر: استعفے کی نوبت ہی نہ آئی18 March, 2007 | کھیل انضمام الحق مستعفی ہو گئے19 March, 2007 | کھیل ’انضمام، وولمر اور باری استعفیٰ دیں‘18 March, 2007 | کھیل پاکستان ورلڈ کپ سے باہر17 March, 2007 | کھیل ہند و پاک کرکٹ کا ’بلیک سیٹر ڈے‘18 March, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||