BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 March, 2007, 10:35 GMT 15:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سلیکشن کمیٹی بھی مستعفی

وسیم باری
شکست اور خراب کارکردگی کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہئے: وسیم باری
پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی مستعفی ہوگئی ہے۔ چیف سلیکٹر وسیم باری نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ انہوں نے اپنے دیگر دو ساتھیوں اقبال قاسم اور احتشام الدین سمیت استعفے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھجوادیئے ہیں۔

ورلڈ کپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی شرمناک شکست کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد وسیم باری کا استعفی غیرمتوقع نہیں۔

پیر کی شب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے بھی اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا جبکہ ان سے قبل انضمام الحق ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد اور کپتانی چھوڑنے کا اعلان کرچکے ہیں۔

ورلڈ کپ کی شکست کا صدمہ اس قدر شدید تھا کہ پاکستانی ٹیم کے کوچ باب وولمر اسے برداشت نہ کرسکے اور چل بسے۔

وسیم باری کو شہریار خان کے دور میں عامرسہیل کی جگہ چیف سلیکٹر بنایا گیا تھا۔ چارسال قبل جنوبی افریقہ میں ہونے والے عالمی کپ میں بھی وہ چیف سلیکٹر تھے لیکن اس ورلڈ کپ میں بھی پاکستانی ٹیم پہلے مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکی تھی۔

وسیم باری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سلیکشن کمیٹی کی مدت ورلڈ کپ تک ہے تاہم ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد اخلاقی طور پر اس عہدے پر رہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کی ذمہ داری بڑی حد تک سلیکشن کمیٹی پر بھی عائد ہوتی ہے۔

وسیم باری نے اس تاثر کو سختی سے مسترد کردیا کہ وہ ’ڈمی‘ یا ’یس مین‘ چیف سلیکٹر تھے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ پاکستان میں با اختیار چیف سلیکٹر ہونے کی روایت یا پالیسی نہیں رہی ہے لہذا انہوں نے کپتان اور ٹیم منیجمنٹ سے محاذ آرائی کے بجائے باہمی ملاپ سے اپنی ذمہ داری نبھائی۔

انہوں نے کہا کہ آج جو لوگ انہیں بے اختیار سلیکٹر قرار دیتے ہیں انہوں نے خود اپنے دور کپتانی میں سلیکشن کمیٹی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے پسند کے کرکٹرز ٹیم میں شامل کرائےاور یہ لوگ منیجرکے ذریعے پرچیاں بھجوادیتے تھے۔

وسیم باری نے کہا کہ کپتان کی خواہشات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا لیکن پھر اسے جیت کے کریڈٹ کے ساتھ ساتھ شکست اور خراب کارکردگی کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہئے۔

نسیم اشرف مستعفی
مختصر دور میں انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا
اسی بارے میں
میچ مشکل ہوگا: وولمر
17 March, 2007 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد