پاکستان آخری میچ جیت گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمیکا کے سبینا پارک میں پاکستان نے ورلڈ کپ کے آخری میچ میں زمبابوے کو 19.1 اوورز میں 99 رنز آؤٹ کر کے میچ 250 رنز سےجیت لیا ہے۔ عمران نذیر کو ایک عمدہ اننگز کھیلنے پر مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔ انہوں نے 121 گیندوں پر چودہ چوکوں اور آٹھ چھکوں کی مدد سے 160 رنز بنائے۔ پاکستان کی طرف سے شاہد آفریدی نے 20 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ جبکہ عمر گل اور محمد سمیع نے دو دو اور دانش کنیریا اور محمد یوسف نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ بارش کے باعث کھیل روکنا پڑا لیکن جب کھیل دوبارہ شروع کیا گیا تو ڈکورتھ لیوئس فارمولے کے باعث زمبابوے کو 20 اوورز میں 193 سکور کرنا ہے۔ آؤٹ ہونے والے کھلاڑیوں میں سبیندا صفر، چیبابا تین اور کستینی نو رنز بنا سکے۔ چیبابا اور کستینی کا کیچ انضمام نے عمر گل اور محمد سمیع کی گیند پر پکڑا۔ جبکہ سبیندا کا کیچ عمر گل کی ہی گیند پر عمران نذیر نے لیا۔
جب بارش کے بعد کھیل دوبارہ شروع ہوا تو فوراً ہی ٹیلر اور اگلی ہی گیند پر متسیکنیاری رن آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد چیگمبورا، ولیمز، برینٹ، موپاریوا اور مپوفو ایک ایک بعد ایک پولیین واپس چلے گئے۔ اس طرح پاکستان یہ میچ آسانی سے جیت گیا۔ اس سے قبل پاکستان کے کپتان انضمام الحق نے اپنا آخری ون ڈے میچ کھیلتے ہوئے 37 رنز بنائے تھے۔ یہ انضمام الحق کا بطور کپتان آخری ایک روزہ میچ ہے۔ وہ پاکستان کی کپتانی اور ایک روزہ میچوں سے ریٹائرمنٹ کا اعلان پہلے ہی کر چکے ہیں۔ پاکستان کی پوری ٹیم 49.5 اوورز میں 349 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ تاہم میچ کی مثبت بات عمران نذیر کی شاندار سینچری تھی جو انہوں نے 95 گیندوں پر بنائی۔ وہ 160 رنز بنا کر آؤٹ مپوفو کی گیند پر متسیکنیاری ہوئے۔
پاکستان کی طرف سے کامران اکمل اور عمران نذیر نے اننگز کا آغاز کیا لیکن جب سکور 31 پر پہنچا تو کامران اکمل پندرہ رنز بنانے کے بعد چیگمبرا کی گیند پر وکٹ کیپر وکٹ کیپر ٹیلر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ دوسری وکٹ 88 کے سکور پر گری جب شعیب ملک 21 رنز بنانے کے بعد ولیمز کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔ جب انضمام آؤٹ ہوئے اس وقت پاکستان کا سکور 158 تھا۔ انہوں نے 35 گیندوں پر دو چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے 37 رنز بنائے۔ انضمام کے آؤٹ ہونے کے کچھ دیر بعد ہی محمد یوسف بھی صرف تین رنز بنا کر برینٹ کے ہاتھوں ان کی ہی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ آؤٹ ہونے والے پانچویں بیٹسمین یونس خان تھے جو ایک بڑی اچھی تھرو پر رن آؤٹ ہوئے۔ شاہد آفریدی نے جو ورلڈ کپ کے پہلے دو میچ پابندی کی بنا پر کھیل نہیں پائے تھے ایک چھکا اور ایک چوکا لگا کر 15 رنز بنائے اور برینٹ کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ سمیع نے پانچ رنز، عمر گل نے 10، اور افتخار انجم نے 32 رنز بنائے۔ دانش کنیریا چھ رنز بنا کر ناٹ رہے۔ اس سے قبل دونوں ٹیموں کے کھلاڑی بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھ کر گراؤنڈ میں اترے۔ ٹاس کے بعد، جو کہ زمبابوے نے جیت لیا اور پاکستان کو کھیلنے کی دعوت دی، پاکستان اور زمبابوے کی ٹیموں نے آنجہانی کوچ باب وولمر کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
پاکستان یہ میچ جیت کر بھی ورلڈ کپ میں واپس نہیں آ سکتا لیکن پھر بھی پاکستان کے لیے یہ میچ سے بہت جذباتی حیثیت کا حامل تھا۔ پاکستان کی ٹیم: عمران نذیر، شاہد آفریدی، یونس خان، محمد یوسف، انضمام الحق، شعیب ملک، کامران اکمل، محمد سمیع، راؤ افتخار، عمر گل، دانش کنیریا۔ زمبابوے کی ٹیم: ووسی سیباندا، فرائڈے کستینی، چامو شیباندا، برینڈن ٹیلر، سٹیورٹ متسیکنیاری، شین ولیمز، ایلٹن چیگمبرا، گیری برینٹ، پراسپر اتسیا، تاواندا موپاریوا، کرسٹوفر مپوفو، چیبابا۔ |
اسی بارے میں وولمر: موت کے حالات ’مشکوک‘ 21 March, 2007 | کھیل وولمر کو خراج تحسین کا موقع21 March, 2007 | کھیل جنوبی افریقہ نے سکاٹ لینڈ کو ہرا دیا20 March, 2007 | کھیل کینیا کو 148 رنز سے شکست20 March, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||