’کامیاب نہ سہی ناکام بھی نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ کے دورے کو مکمل طور پر کامیاب نہیں تو ناکام بھی نہیں کہاجاسکتا۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو جنوبی افریقہ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں دو ایک سے شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز بھی تین ایک سے میزبان ٹیم کے نام رہی۔
انضمام نے کہا کہ پورے دورے میں کھلاڑی ان فٹ ہوتے رہے اور ان کے متبادل آتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ چھ کھلاڑیوں کے ان فٹ ہونے کی صورت میں آپ ٹیم کا کمبینیشن کیسے بنا سکتے ہیں۔ انضمام الحق نے کہا کہ کسی بھی بڑی ٹیم کے خلاف ٹیسٹ میچ مکمل ٹیم اور بھرپور قوت کے ساتھ ہی جیتا جاسکتا ہے۔ انضمام الحق نے کہا کہ پاکستانی ٹیم اتنی کمزور اور بری نہیں تھی۔ دورے میں جو کمزوریاں اورخامیاں سامنے آئی ہیں انہیں دور کیا جائےگا۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کے حوصلے پست نہیں ہوئے ہیں اور نہ ہی کھلاڑیوں کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے، ہر کھلاڑی کو عالمی مقابلے کی اہمیت کا بخوبی احساس ہے۔
انضمام الحق نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اپنے آخری ورلڈ کپ کو جیت کر اسے یادگار بنانا چاہتے ہیں۔ انضمام الحق نے 1992 میں پہلا ورلڈ کپ کھیلا تھا جو پاکستان نے جیتا تھا۔ وہ چار عالمی کپ مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ پاکستان ہی کے جاوید میانداد کو سب سے زیادہ چھ ورلڈ کپ کھیلنے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔ انضمام الحق نے ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر32 میچوں میں643 رنز سکور کیے ہیں جن میں چار نصف سنچریاں شامل ہیں۔ | اسی بارے میں دل چاہتا ہے کھیلتا ہی رہوں: انضمام10 November, 2006 | کھیل ورلڈ کپ میں بھی انضمام کپتان17 December, 2006 | کھیل کمزور حریف نہیں ہیں: انضمام18 December, 2006 | کھیل وجہ اختلافات نہیں فٹنس ہے، انضمام 03 January, 2007 | کھیل کپتانی آنی جانی چیز ہے: انضمام 09 October, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||