BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 February, 2007, 14:52 GMT 19:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کامیاب نہ سہی ناکام بھی نہیں‘

انضمام الحق
’اپنے آخری ورلڈ کپ کو جیت کر اسے یادگار بنانا چاہتا ہوں‘
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ کے دورے کو مکمل طور پر کامیاب نہیں تو ناکام بھی نہیں کہاجاسکتا۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کو جنوبی افریقہ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں دو ایک سے شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز بھی تین ایک سے میزبان ٹیم کے نام رہی۔

بلند حوصلے
 ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کے حوصلے پست نہیں ہوئے ہیں اور نہ ہی کھلاڑیوں کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے، ہر کھلاڑی کو عالمی مقابلے کی اہمیت کا بخوبی احساس ہے۔
انضمام الحق
انضمام الحق نے جوہانسبرگ سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آخری دو ون ڈے میچوں میں ٹیم بہت خراب کھیلی لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ اس دورے کو مکمل طور پر ناکام قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ’پاکستانی کھلاڑیوں نے فائٹ کی لیکن فٹنس کے مسائل حاوی رہے‘۔

انضمام نے کہا کہ پورے دورے میں کھلاڑی ان فٹ ہوتے رہے اور ان کے متبادل آتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ چھ کھلاڑیوں کے ان فٹ ہونے کی صورت میں آپ ٹیم کا کمبینیشن کیسے بنا سکتے ہیں۔

انضمام الحق نے کہا کہ کسی بھی بڑی ٹیم کے خلاف ٹیسٹ میچ مکمل ٹیم اور بھرپور قوت کے ساتھ ہی جیتا جاسکتا ہے۔

انضمام الحق نے کہا کہ پاکستانی ٹیم اتنی کمزور اور بری نہیں تھی۔ دورے میں جو کمزوریاں اورخامیاں سامنے آئی ہیں انہیں دور کیا جائےگا۔

انضمام الحق کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کے حوصلے پست نہیں ہوئے ہیں اور نہ ہی کھلاڑیوں کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے، ہر کھلاڑی کو عالمی مقابلے کی اہمیت کا بخوبی احساس ہے۔

یہ انضمام اور برائن لارا دونوں کا آخری ورلڈ کپ ہو سکتا ہے
فاسٹ بولرز شعیب اختر، عمرگل اور محمد آصف کی ٹیم میں فٹنس سے مشروط شمولیت کے بارے میں انضمام الحق نے کہا کہ ڈاکٹروں نے انہیں فٹ قرار دے دیا ہے اور اسی کلیئرنس کے بعد انہیں ٹیم میں شامل کیا گیا ہے البتہ میچ فٹنس مختلف چیز ہوتی ہے جس کا اندازہ انہیں میچز کھلا کر لگایا جائے گا اورانہیں امید ہے کہ وہ ورلڈ کپ میں حصہ لیں گے۔

انضمام الحق نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اپنے آخری ورلڈ کپ کو جیت کر اسے یادگار بنانا چاہتے ہیں۔

انضمام الحق نے 1992 میں پہلا ورلڈ کپ کھیلا تھا جو پاکستان نے جیتا تھا۔ وہ چار عالمی کپ مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ پاکستان ہی کے جاوید میانداد کو سب سے زیادہ چھ ورلڈ کپ کھیلنے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔

انضمام الحق نے ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر32 میچوں میں643 رنز سکور کیے ہیں جن میں چار نصف سنچریاں شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد