انضمام الحق کیوں جذباتی ہوئے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کے ورلڈ الیون میں کھیلنے اور نہ کھیلنے کا معاملہ آنکھ مچولی کے بعد بالآخر طے پاگیا ہے۔ لیکن اس نے بین الاقوامی سطح پر پاکستانی کرکٹ کے بارے میں اچھا پیغام نہیں دیا ہے بلکہ اس سے انضمام الحق اور پاکستانی کرکٹ دونوں کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ انضمام الحق دنیائے کرکٹ میں تحمل مزاج کرکٹر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ شاذونادر ہی وہ میدان میں اپنے جذبات کا اظہار جارحانہ انداز میں کرتے دکھائی دیئے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے ورلڈ الیون کی طرف سے کھیلنے سے انکار کے فیصلے کو ہر کسی نے حیرت سے دیکھا اور اسے ایک جذباتی فیصلہ قرار دیا۔ انضمام الحق کا یہ انکار اس لیے بھی حیران کن تھا کہ اس سے چند روز قبل ہی انہوں نے ورلڈ الیون میں شمولیت کو اپنے لیے اعزاز قرار دیا تھا لیکن ان کے یہ جذبات ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں ٹیموں میں شمولیت کی خبر ملنے پر سامنے آئے تھے جبکہ حقیقت اس کے برعکس تھی کیونکہ ان کی شمولیت صرف ٹیسٹ ٹیم میں ہوئی تھی۔ انضمام الحق کو اس بات پر غصہ تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں یہ بتانے کی زحمت ہی نہیں کی کہ وہ ایک ٹیم میں منتخب ہوئے ہیں دو میں نہیں۔ انضمام الحق نے آئی سی سی ایوارڈز کی تقریب اور کپتانوں کے اجلاس میں بھی شرکت سے معذوری ظاہر کردی تھی لیکن اس وقت تک وہ ورلڈ الیون میں منتخب نہیں ہوئے تھے۔ اب جب وہ آسٹریلیا جارہے ہیں یہ بات کسی طور نظرانداز کرنے والی نہیں کہ وہ کمر کی پرانی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ آسٹریلیا تک کا طویل سفر ان کے لیے اور پاکستانی کرکٹ کو خطرے سے دوچار کرسکتا ہے کیونکہ دونوں کے لیے سپر سیریز سے زیادہ اہمیت کی حامل انگلینڈ کے خلاف سیریز ہے۔ انضمام الحق ایفروایشین سیریز کے دوران بھی فٹنس کے مسائل سے دوچار رہے تھے۔ اگر سپرسیریز کے دوران کمر کی تکلیف نے انہیں دوبارہ جکڑ لیا تو پاکستانی بیٹنگ لائن کی کمر ٹوٹ سکتی ہے۔ یہ بات اپنی جگہ اہم کہ ورلڈ الیون میں نمائندگی اعزاز ہے لیکن جب آئی سی سی کے سلیکٹرز نے انضمام الحق کو ان کے شاندار ریکارڈز کے باوجود پہلی مرتبہ منتخب نہیں کیا تو انہیں چاہیے تھا کہ وہ بعد میں شامل کیے جانے کی پیشکش قبول نہ کرتے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو بتادیتے کہ وہ ورلڈ الیون میں کھیلنے کے لیے تیار نہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی انضمام الحق کے منتخب نہ کیے جانے پر واضح موقف اختیار کرنا چاہیے تھا اور یہ بات طے کرلینی تھی کہ کسی کے متبادل کے طور پر انضمام الحق کے انتخاب کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ایک صورت یہ بھی ہوسکتی تھی کہ پاکستان کرکٹ بورڈ انگلینڈ کے خلاف سیریز کی اہمیت کے پیش نظر سچن تندلکر کی جگہ انضمام الحق کے منتخب کیے جانے کے وقت آئی سی سی سے معذرت کرلیتا لیکن دونوں پی سی بی اور انضمام الحق شاید ورلڈ الیون کو انگلینڈ کے خلاف سیریز سے زیادہ اہم سمجھ رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||