انضمام کا انکار اقرار میں تبدیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کپتان انضمام الحق آسٹریلیا کے خلاف سپر سیریز ٹیسٹ میں ورلڈ الیون میں پاکستان کی نمائندگی کرنے پر راضی ہوگئے ہیں۔ انضمام الحق نے پیر کے روز آسٹریلیا جانے سے انکار کردیا تھا اور منگل کو اس کا باقاعدہ اعلان کرنے والے تھے تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان اور دیگر اعلی افسران سے طویل مذاکرات کے بعد انہوں نے اپنے فیصلے پر نظرثانی کی ہے۔ انضمام الحق کو شکایت تھی کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں پہلے یہ اطلاع دی کہ وہ ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں عالمی الیون میں منتخب کرلئے گئے ہیں لیکن بعد میں صرف ٹیسٹ ٹیم میں منتخب کئے جانے کی اطلاع انہیں میڈیا سے ملی کرکٹ بورڈ نے انہیں یہ بتانے کی زحمت تک نہیں کی۔ انضمام الحق کی ناراضگی میں جنرل منیجر ذاکر خان کے ساتھ ان کی تلخ کلامی نے جلتی پہ تیل کا کام کیا۔ پیر کے روز سکیورٹی گارڈ نے انضمام الحق کو گاڑی قذافی اسٹیڈیم میں پارک کرنے کی اجازت نہیں دی اور کہا کہ یہ حکم جنرل منیجر ذاکر خان نے دیا ہے جس پر انضمام الحق ذاکر خان کو گیٹ پر لے آئے اور ان سے ان کے حکم نامے کی وضاحت کے لئے کہا جس پر ذاکر خان کا کہنا تھا کہ یہ حکم ان کا نہیں دوسرے جنرل منیجر کا تھا۔ انضمام الحق نے پیر کی شب شہریارخان سے ملاقات کی تھی یہ سلسلہ منگل کو بھی جاری رہا جس کے بعد انضمام الحق کا کہنا تھا کہ اگر وہ آسٹریلیا نہیں جاتے تو یہ تاثر ملتا کہ وہ آئی سی سی اور پی سی بی سے ناراض ہیں اور یہ قدم پاکستان کرکٹ کے لئے بہتر نہ ہوتا۔ شہریارخان کا بھی یہی کہنا تھا کہ انضمام الحق کے انکار سے پاکستان کرکٹ اور خصوصا نوجوانوں پر اچھے اثرات مرتب نہ ہوتے کہ کپتان انکار کررہا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلی افسران کے درمیان رابطے کے فقدان کا یہ پہلا موقع نہیں ہے۔اس سے قبل شبیراحمد اور بھارت میں مجوزہ سہ فریقی سیریز میں پاکستانی ٹیم کی شرکت کے بارے میں شہریارخان اور سلیم الطاف کے متضاد بیانات سامنے آچکے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||