آئی سی سی: انضمام الحق کی مایوسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق نے آسٹریلیا کے خلاف سپر سیریز کھیلنے والی ورلڈ الیون میں شامل نہ کیےجانے پر شدید مایوسی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ انہیں اس فیصلے کی قطعاً توقع نہیں تھی۔ ورلڈ الیون پانچ سات اور نو اکتوبر کو میلبرن میں آسٹریلیا کے خلاف تین ون ڈے میچز اور سڈنی میں 14 سے 19 اکتوبر تک چھ روزہ ٹیسٹ کھیلے گی۔ ٹیسٹ میچ کے لیے اعلان کردہ ورلڈ الیون کے کپتان گریم اسمتھ ہیں جبکہ ون ڈے میچوں کے لیے کپتان شان پولاک کو مقرر کیا گیا ہے۔ انضمام الحق نے اس سیزن میں کھیلے گئے 6 ٹیسٹ میچوں میں دو سنچریوں اور دو نصف سنچریوں کی مدد سے 554 رنز بنائے ہیں جبکہ 19 ون ڈے میچوں میں دس نصف سنچریوں کی مدد سے ان کے بنائے گئے رنز کی تعداد 820 ہے۔ انضمام الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس طرح باہر ہونے کی توقع نہیں تھی کیونکہ اس سیزن میں ان کی پرفارمنس بہت اچھی رہی تھی۔ کسی بھی کھلاڑی کے لیے عالمی الیون کی نمائندگی اعزاز ہوتا ہے انہوں نے کپتانی کے بار ے بالکل نہیں سوچا تھا لیکن انہیں یقین تھا کہ وہ بحیثیت کھلاڑی ضرور ٹیم میں شامل ہونگے۔ انضمام الحق نے کہا کہ وہ مایوس ہیں اس کے علاوہ وہ کیا کرسکتے ہیں۔ پاکستان میں انضمام الحق کو ورلڈ الیون میں شامل نہ کیےجانے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے آئی سی سی کے سلیکٹرز پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کو انہیں اس فیصلے پر نظرثانی کے لیے کہا ہے ۔ پاکستان کے سابق ٹیسٹ کھلاڑیوں نے بھی انضمام الحق کو آسٹریلیا کے خلاف سپر سیریز کھیلنے والی ورلڈ الیون میں شامل نہ کیے جانے پر آئی سی سی کے سلیکٹرز پر تنقید کی ہے۔ سنیل گاوسکر کی سربراہی میں قائم آئی سی سی کے سلیکشن پینل نے سڈنی میں 14 سے 19 ا کتوبر تک ہونے والے چھ روزہ سپر ٹیسٹ کے لیے جنوبی افریقہ کے گریم اسمتھ اور ملبورن میں 5 ،7 اور9 ا کتوبر کو ہونے والے تین ون ڈے میچوں کے لیے جنوبی افریقہ ہی کے شان پولاک کو ورلڈ الیون کا کپتان مقرر کیا ہے۔ پاکستانی کپتان انضمام الحق دونوں ٹیموں میں جگہ نہیں بنا سکے ہیں۔ سابق کپتان جاوید میانداد نے اس سلیکشن پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کس بنیاد پر سلیکشن کی گئی ہے۔ سلیکشن کے وقت کھلاڑی کی موجودہ فارم دیکھی جاتی ہے اور اگر بات ورلڈ الیون کی ہو تو کسی بھی ٹیم میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون کھلاڑی کامیاب ہے اس پیمانے پر انضمام الحق پورے اترتے ہیں۔ اس وقت وہ نہ صرف بحیثیت کپتان بلکہ بیٹسمین شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ جاوید میانداد کے مطابق انضمام الحق کو ورلڈ الیون میں شامل نہ کیا جانا غلط فیصلہ ہے جس سے انہیں سخت مایوسی ہوئی ہے۔ سابق کپتان اور ایشین بریڈمین ظہیر عباس کا کہنا ہے کہ انضمام الحق اپنی موجودہ کارکردگی کی بنیاد پر کسی بھی ٹیم میں جگہ بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔اس وقت وہ شاندار فارم میں ہیں اور انہیں ورلڈ الیون میں ضرور شامل کیا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کے سلیکٹرز کو چاہیے کہ وہ اپنے سلیکشن کا ازسرنو جائزہ لیں۔ لٹل ماسٹرحنیف محمد نے انضمام الحق کو ورلڈ الیون میں شامل نہ کیے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حیران کن فیصلہ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||