’ایشز کےغبارے سے ہوا نکال دیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر کا خیال ہے کہ ان کی ٹیم میں اتنا ٹیلنٹ موجود ہے کہ وہ نومبر میں ہونے والی ٹیسٹ سیریز میں برطانوی ٹیم کے’غبارے میں سے ہوا نکال دیں گے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ برطانوی ٹیم نے بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن انہیں دنیائے کرکٹ میں ستّر کی دہائی میں ویسٹ انڈیز اور حالیہ سالوں میں آسٹریلوی ٹیم جیسا مقام حاصل کرنے کے لیے مزید کامیابیوں کی ضرورت ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ میرا خیال ہے کہ اس سیریز میں بہت کانٹے دار مقابلہ ہو گا اور ہم ایک سخت حریف کے طور پر سامنے آئیں گے‘۔ اگرچہ باب وولمر کے پاس اس وقت پاکستانی ٹیم کے لیے بہت اچھا ٹیلنٹ دستیاب ہے مگر ابھی بھی پاکستانی ٹیم اپنے بلے بازوں اور خصوصاً کپتان انضمام الحق کے تجربے پر بھروسہ کرتی ہے۔
اس سلسلے میں وولمر کا کہنا تھا کہ’ وہ ٹیم جو کھیل کے تینوں شعبوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی، سیریز جیت جائے گی۔ ہمیں انگلینڈ کے خلاف بہت منظم ہو کر کھیلنا ہو گا کیونکہ ان کی ٹیم میں اچھے بولر اور بلے باز موجود ہیں‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں اپنی ٹیم کی فٹنس اور طاقت سے بہت مطمئن ہوں۔ ہم ایک ماہ سے ٹریننگ کر رہے ہیں اور اس تربیت کی وجہ سے ہم اس مقابلے کے قابل ہوئے ہیں‘۔ ریورس سوئنگ نے ایشز میں برطانوی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ اس سلسلے میں وولمر کا خیال ہے کہ پاکستان اور انگلینڈ کی سیریز میں یہ ایک اہم عنصر نہیں ہو گا کیونکہ اس سیریز میں ایشز سے مختلف گیندیں استعمال کی جائیں گی۔ انہوں نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ پاکستان دو سپن بالروں کے ساتھ میدان میں اتر سکتا ہے اور اس کیلیے تجربہ کار لیگ سپنر مشتاق احمد کو ٹیم میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ اگر ہم نے دو سپن بالروں کے ساتھ کھیلنے کا فیصلہ کیا تو مشتاق احمد دانش کنیریا کے ساتھ کھیلیں گے‘۔ مشتاق احمد نے برطانوی کاؤنٹی سسیکس کے لیے حالیہ سیزن میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ دورہ پاکستان کے لیے برطانوی ٹیم کا اعلان پیر کو لارڈز میں کیا جائے گا اور یہ دورہ 26 اکتوبر سے شروع ہوگا۔ ٹیسٹ سیریز کے تین میچ ملتان، فیصل آباد اور لاہور میں کھیلے جائیں گے اور پہلے ٹیسٹ میچ کا آغاز بارہ نومبر کو ہوگا۔ یاد رہے کہ برطانوی کرکٹ ٹیم نے آخری مرتبہ پانچ برس قبل پاکستان کا دورہ کیا تھا اور ٹیسٹ سیریز میں فتح یاب رہی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||