نمازیں شکست کی وجہ نہیں: انضمام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مستعفی کپتان انضمام الحق نے میڈیا منیجر پی جے میر کے اس الزام کو مسترد کردیا ہے جس میں انہوں نے ورلڈ کپ میں ٹیم کی شکست کا بنیادی سبب کھلاڑیوں کی کھیل سے زیادہ مذہب پر توجہ کو قرار دیا ہے۔ پی جے میر نے جمعہ کو ورلڈ کپ میں ناکامی کے اسباب معلوم کرنے والی کمیٹی کے روبرو بیان میں کہا تھا کہ ورلڈ کپ کے دوران انہوں نے یہ بات واضح طور پر محسوس کی کہ کھلاڑیوں کی توجہ کھیل سے زیادہ غیرضروری طور پر مذہبی سرگرمیوں پر رہی۔ وہ اپنے طور پر نمازیں پڑھنے کے بجائے سرعام نمازیں پڑھتے رہے یہاں تک کہ انضمام الحق سمیت کئی کھلاڑیوں نے فلائٹ کے دوران اذان دیے جانے کے بعد نماز پڑھی۔
انضمام الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی جے میر کا یہ بیان انتہائی تکلیف دہ ہے کیونکہ کوئی بھی مسلمان اس طرح کی بات نہیں کہہ سکتا۔ یہ منفی سوچ اور تنقید ہے۔ کھلاڑیوں کی نمازوں کو شکست کی وجہ قرار دینے کا مقصد معاملے کو دوسرے رخ پر ڈالنا اور کچھ لوگوں کی طرف سے توجہ ہٹانا ہے۔ انضمام الحق نے کہا کہ کھلاڑیوں کی نمازوں سے ٹیم کی کارکردگی کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اس سے میچ یہاں تک کہ ٹیم کا ٹریننگ پروگرام متاثر ہوا ہے۔ انضمام الحق نے کہا کہ مذہب کو کرکٹ سے جوڑ کر کچھ لوگ غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور سنبھالنے کے فوراً بعد ڈاکٹر نسیم اشرف نے بھی ٹیم میں غیرمعمولی مذہبی رجحان پر تنقید کی تھی اور یہ تاثر دیا تھا کہ ٹیم جبراً مذہبی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ اس وقت بھی انضمام الحق نے شدید ردعمل ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ نہ وہ جبراً نمازیں پڑھواتے ہیں اور نہ کھلاڑیوں کو داڑھیاں رکھنے پر مجبور کررہے ہیں۔ | اسی بارے میں کھلاڑیوں پر عبادت کا دباؤ غلط: اشرف22 October, 2006 | کھیل جبراً نماز نہیں پڑھواتا: انضمام23 October, 2006 | کھیل ’سب اللہ کا کرم ہے‘01 December, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||