’جدید‘ کوچ چاہیے: نسیم اشرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو کوچ کی ضرورت ہے جسے عصرحاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہئے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ آج کل باب وولمر کی جگہ نئے کوچ کی تلاش میں ہے لیکن پاکستانی کرکٹ حلقوں میں یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ ٹیم کو کوچ کی ضرورت ہے یا نہیں؟ چند روز قبل ہی شاہد آفریدی نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ ٹیم کو کوچ کی ضرورت نہیں جبکہ محمد یوسف نے اس کے بالکل برعکس خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اسی طرح سابق ٹیسٹ کرکٹرز بھی کوچ کے بارے میں مختلف آرا رکھے ہوئے ہیں۔ بیشتر کا خیال ہے کہ کوچ پاکستانی ہونا چاہئے جبکہ سابق ٹیسٹ کرکٹر رمیز راجہ کوچ کے بجائے بااختیار کپتان کے حق میں ہیں۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو کوچ کے عہدے کے لئے پاکستانی اور غیرملکیوں کی جانب سے تیرہ درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن پر تین رکنی کمیٹی غور کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ اس بارے میں حتمی فیصلہ کرلیا جائے گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے کہا کہ وہ پاکستانی ٹیم کے لیے تعلیم یافتہ کوچ دیکھنا چاہتے ہیں جو کرکٹ کے جدید تقاضوں کو سمجھتا ہو، لیپ ٹاپ پر اس کی دسترس ہو اس کے پاس تازہ خیالات ہوں اور وہ ٹیم سپرٹ پیدا کرسکے۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے کپتان شعیب ملک پر مکمل اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان میں زبردست قائدانہ صلاحیت ہے کہ وہ آئندہ تین ورلڈ کپ تک پاکستانی ٹیم کے کپتان رہ سکتے ہیں۔
شعیب ملک کو انضمام الحق کی جگہ قیادت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور ان کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم نے ابوظہبی میں سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز جیتی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا کیمپ تین مرحلوں میں لگایا جارہا ہے۔ پہلے مرحلے میں کھلاڑی دس سے پچیس جون تک ایبٹ آباد میں ٹریننگ کریں گے۔ دوسرا مرحلہ دس سے چوبیس جولائی تک کوئٹہ میں ہوگا جبکہ تیسرا کیمپ پچیس جولائی سے پندرہ اگست تک کراچی میں لگایا جائے گا۔ کیمپ کے لیے ہارون رشید بیٹنگ کوچ عاقب جاوید بولنگ کوچ اور محتشم رشید فیلڈنگ کوچ ہونگے۔ انضمام الحق کے مستقبل کے بارے میں ڈاکٹر نسیم اشرف کا کہنا ہے کہ فٹ انضمام الحق کو کوئی بھی کرکٹ کھیلنے سے نہیں روک سکتا لیکن انہیں ٹیم میں شامل کرنے کا اختیار سلیکشن کمیٹی کے پاس ہے۔ انضمام الحق ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی مایوس کن شکست کے بعد ون ڈے اور کپتانی کوخیرباد کہہ چکے ہیں تاہم وہ ٹیسٹ کرکٹ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ بھارتی ٹی وی چینل زی نے اس سال جس کرکٹ لیگ کے انعقاد کا اعلان کیا ہے اسے پُرکشش بنانے کے لئے اس نے چند بڑے ناموں کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ان میں انضمام الحق بھی شامل ہیں۔ تاہم انضمام الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال انہیں بھارتی لیگ میں کھیلنے کی پیشکش نہیں ہوئی ہے۔ | اسی بارے میں واٹمور پاکستانی ٹیم کے نئے کوچ؟09 May, 2007 | کھیل سلیکشن کمیٹی کے لیے معیار کا تعین10 April, 2007 | کھیل نسیم اشرف کا استعفی نامنظور30 March, 2007 | کھیل ’وولمر موت، ابہام، میڈیا ذمہ دار‘24 May, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||