سلیکشن کمیٹی کے لیے معیار کا تعین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیم کے نئے کپتان اور ٹیم کی نئی سلیکشن کمیٹی کے لیے معیار کا تعین کیا ہے۔ نیا کپتان اور نئی سلیکشن کمیٹی کے ممبران کیسے ہونے چاہئیں اس کی بابت منگل کو قزافی سٹیڈیم میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایڈہاک کمیٹی میں اہم فیصلے ہوئے لیکن کمیٹی نے توقع کے خلاف کپتان اور سلیکشن کمیٹی کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کپتان کو بنیادی طور پراس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ وہ پاکستان کی ٹیم کے لیے کھیل رہا ہے۔ ان کے مطابق کپتان کے لیے دوسری شرط یہ کہ اس کی ٹیم میں سو فیصد جگہ بنتی ہو اور وہ بحیثیت کھلاڑی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے اور ایک اہم شرط یہ کہ کپتان کو سو فیصد فٹ ہونا چاہیے اور اسے اپنی فٹ نس کا خود خیال کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کپتان ایک سیریز کے لیے بنایا جائے گا اور اگلی سیریز کے لیے اس کی کپتانی کارکردگی سے مشروط ہوگی۔ سلیکشن کمیٹی تنخواہ دار ہوگی اور کوشش ہوگی کہ اس میں ملک کے تمام حصوں سے نمائندگی ہو۔ سلیکشن کمیٹی کے ممبران کرکٹرز ہوں گے لیکن یہ ایسے لوگ ہوں گے جو باوقار ہوں اور ان کے کردار میں فیصلہ کرنے اور اس پر قائم رہنے کی خاصیت ہو۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ کھلاڑیوں کے نئے معاہدے ان کی کارکردگی سے جڑے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدوں میں اے، بی، سی کیٹیگری ختم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایڈہاک کمیٹی نے کہا ہے کہ تین چار کرکٹ کھیلنے والے ممالک کے کھلاڑیوں کے کانٹریکٹ منگوائے جائیں ان کو دیکھ کر پاکستانی کھلاڑیوں کے کانٹریکٹ بنائے جائیں گے۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے بتایا کہ مئی میں ابو ظہبی میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تین میچوں کی سیریز کروائے جانے کا کافی امکان ہے اور اس سیریز سے پہلے کپتان اور سلیکشن کمیٹی کا فیصلہ کر لیا جائے گا اور ایڈہاک کمیٹی ان فیصلوں کے لیے کوئی جلد بازی نہیں کرنا چاہتی۔
ٹیم کے لیے پاکستانی کوچ موزوں ہے یا غیرملکی کوچ اس کا جائزہ لینے کے لیے ایک سرچ کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔ اجلاس میں ایڈہاک کمیٹی نے ایک قرارداد پیش کی کہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں موجود کوچنگ کی سہولت کو باب وولمر کے نام سے منسوب کیا جائے۔ پاکستان کی ٹیم کے عالمی کپ کے لیے مینجر طلعت علی نے بھی کمیٹی کے سامنے زبانی اور تحریری طور پر اپنی رپورٹ پیش کی کہ ورلڈ کپ میں آخر پاکستان کی ٹیم کی اتنی بری شکست کی وجہ کیا تھی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ سابق فاسٹ بالر سرفراز نواز کی جانب سے دس کروڑ ہرجانے کے دعوے کا نوٹس انہیں موصول ہوگیا ہے اور وہ اس قانونی نوٹس کا قانونی طریقے سے جواب دیں گے۔ یاد رہے کہ سرفراز نواز نے ڈاکٹر نسیم اشرف کے خلاف ان کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر ہتک عزت اور دس کروڑ روپے کے ہرجانے کا نوٹس بھجوایا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||