ساری ٹیم کی چھٹی کر دی گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین نسیم اشرف نے کہا ہے کہ کرکٹ ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کا مرکزی کنٹریکٹ فوری طور پر ختم کردیا گیا ہے اور ورلڈ کپ میں پہلے ہی راؤنڈ میں شکست کھانے کی وجوہات جاننے کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ نسیم اشرف نے سنیچر کو لاہور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے دفتر میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کھلاڑیوں کے موجودہ مرکزی کنٹریکٹ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تین ماہ میں نیا کنٹریکٹ سسٹم لایا جائے جو کارکردگی کی بنیاد پر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر پاکستان کے شکرگزار ہیں جنہوں نے ان کا استعفی نامنظور کرتے ہوئے ان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ نسیم اشرف نے تین رکنی اعلٰی اختیاراتی کمیٹی بنانے کا بھی اعلان کیا جو ایک ماہ میں کرکٹ ٹیم کی ورلڈ کپ میں شکست کے عوامل کی تحقیق کرے گی۔ یہ کمیٹی صلاح الدین سلو، اعجاز بٹ اور سلیم الطاف پر مشتمل ہوگی۔ یاد رہے کہ سلیم الطاف پہلے ہی بورڈ میں ڈائریکٹر آپریشنز کے عہدہ پر فائز ہیں اور کمیٹی کے دوسرے رکن سابق ٹیسٹ کرکٹر اعجاز بٹ سبکدوش ہونے والے کپتان انضمام الحق کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں اور تبلیغی جماعت سے تعلق کی بنا پر ٹیم میں مذہبی اثرات پھیلانے والے لوگوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
نسیم اشرف نے سبکدوش ہونے والے کپتان انضمام الحق کو خراج تحسین بھی پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے پاکستان کرکٹ کو ایک نئی شان دی اور تاریخ میں ان کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ میں شکست کے بعد ضرورت سے زیادہ ردعمل دکھانے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں اس سے سبق سیکھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے اور صبر کرنا چاہیے اور یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ کرکٹ محض ایک کھیل ہے اور ورلڈ کپ سے پہلے ہماری ٹیم دنیا کی رینکنگ میں تیسرے نمبر پر تھی۔ نسیم اشرف نے کہا کہ کرکٹ بورڈ کا آئین جلد پوری طرح نافذ کردیا جائے گا اور یہ اس وقت محکمۂ قانون کے پاس قانونی مشاورت کے لیے گیا ہوا ہے اور وہاں سے آنے کے بعد صدر اس کی منظوری دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کرکٹ بورڈ ایک کارپوریٹ بورڈ کے طور پر کام کرے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ڈی ایم جی افسر شفقت نغمی بورڈ کے چیف آپریٹنگ افسر ہوں گے جبکہ سلیم الطاف خصوصی پراجیکٹس کے ڈائریکٹر ہوں گے۔
نسیم اشرف نے یہ بھی بتایا کہ کھلاڑیوں کی جسمانی فٹنس کو بہتر بنانے اور ان کی فیلڈنگ بہتر بنانے کے لیے امریکہ سے بیس بال کا کوچ لایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ امکان ہے کہ کرکٹ ٹیم کا نیا کوچ ملکی ہوگا جس کی واضح وجوہات ہیں۔ نسیم اشرف نے کہا کہ کپتان اور نائب کپتان کے انتخاب پر ابھی غور کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم کے پاس وقت ہے کیونکہ اگلے پانچ چھ ماہ تک پاکستان ٹیم کو عالمی کرکٹ نہیں کھیلنی۔ نسیم اشرف نے کہا’ٹیم مینیجر کو بااختیار بنایا جارہا ہے اور اب وہ وقت نہیں رہا کہ کوئی کھلاڑی اپنی مرضی سے کھیلے کہ وہ وہاں جائے گا اور وہاں نہیں جائے گا‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ سے ہر کھلاڑی کو ایک اخلاقی ضابطہ پر بھی دستخط کرنا ہوں گے۔ پی سی بی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ مدثر نذر پاکستان ٹیم کو دو اوپنرز اور ایک وکٹ کیپر بیٹسمین ڈھونڈ کر دیں جو ضرورت پڑنے پر کامران اکمل کے متبادل کے طور پر کھیل سکے۔ نسیم اشرف نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کے لیے سب سے بڑی خرابی سیمنٹ کی پچیں ہیں اور بورڈ پورے ملک میں گراؤنڈز اور پچیں مہیا کرنے کے لیے ایک ارب روپے خرچ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں صوبائی حکومت کے تعاون سے چالیس گراؤنڈز بہتر بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے جبکہ قبائلی علاقوں باجوڑ، جمرود اور پاراچنار میں بھی تین کرکٹ گراؤنڈز بنائے جائیں گے۔ | اسی بارے میں ’دو میچ ہارے تو کیا پاکستانی نہیں رہے‘31 March, 2007 | کھیل نسیم اشرف کا استعفی نامنظور30 March, 2007 | کھیل ’ کھلاڑی یا اہلکار ملوث نہیں‘23 March, 2007 | کھیل کرکٹ بورڈ میں استعفوں کی لہر20 March, 2007 | کھیل ڈاکٹر نسیم اشرف کا تبصرے سے انکار18 March, 2007 | کھیل ’انضمام، وولمر اور باری استعفیٰ دیں‘18 March, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||