’پٹےہوئےمہروں سے جان چھڑائیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برصغیر میں کرکٹ کی کشش کے سامنے اگر دوسرے کھیلوں کی چمک ماند نظر آتی ہے تو اس پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔ پیسے کی فراوانی، میڈیا کی غیرمعمولی کوریج اور تشہیر کے نت نئے انداز نے کرکٹ اور کرکٹرز دونوں کی قسمت ہی بدل دی ہے۔ قسمت کے دھنی یہ کرکٹرز اگر شاندار پرفارمنس دیں تو قوم انہیں سرآنکھوں پہ بٹھاتی ہے لیکن ان کرکٹرز کے لیے وہ دن بہت برے ہوتے ہیں جب ان کی پرفارمنس بری ہو اور اس وقت انہیں لوگوں کے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال اس وقت پاکستانی کرکٹرز کو درپیش ہے۔ورلڈ کپ سے باہر ہونے پر پہلے شائقین کے دل اور پھر کرکٹرز کے پتلے جلے لیکن کوچ باب وولمر کی موت کے ساتھ ہی غم نے غصے کی جگہ لے لی۔ ورلڈ کپ کی شکست کے بعد ایک بار پھر سہانے مستقبل کے سپنے دکھائے جا رہے ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے کہ طویل اور مختصر مدتی اقدامات سے پاکستانی کرکٹ پھر جیت کی راہ پر گامزن ہو جائے گی۔ کرکٹ پرگہری نظر رکھنے والے سابق ٹیسٹ کرکٹرز اور تجزیہ نگار پاکستانی کرکٹ کی بہتری کے لیے مختلف سوچ لیکن ایک ہی درد رکھتے ہیں۔ سابق کپتان راشد لطیف کہتے ہیں’جب بھی پاکستانی کرکٹ پر برا وقت آتا ہے ہم لوگ مستقبل کی باتیں شروع کر دیتے ہیں لیکن یہ وقت مستقبل کی طرف دیکھنے کا نہیں ہے۔ ہمیں یہیں رک کر اپنی غلطیوں اور خرابیوں کو تلاش کر کے انہیں دور کرنا ہوگا ۔ پاکستانی کرکٹ بااثر لوگوں کے سبب تباہی سے دوچار رہی ہے یہ لوگ سلیکشن سے لے کر دوسرے معاملات تک مداخلت کرتے رہے ہیں‘۔
راشد لطیف پاکستانی ٹیم سے مکمل طور پر سینئر کھلاڑیوں کو نکالنے کے حق میں نہیں لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نوجوان باصلاحیت کرکٹرز کو موقع دے کر’پٹے ہوئے مہروں‘ سے جان چھڑائی جا سکتی ہے جو بری کارکردگی کے باوجود ٹیم میں شامل رہے ہیں۔ کوچ کا عہدہ ختم کرکے بااختیار کپتان بنانے کے حق میں رمیز راجہ کہتے ہیں’مضبوط ڈھانچے کے بغیر کوئی بھی کوچ کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کپتان کو ذمہ دار بنایا جائے‘۔ رمیز راجہ کپتانی کے لیے یونس خان کو فی الحال موزوں سمجھتے ہیں۔ پاکستانی کرکٹ پچھلے آٹھ سال سے مسلسل ایڈہاک ازم پر چل رہی ہے جسے بہت ساری خرابیوں کی وجہ بھی سمجھاجاتا ہے۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر صلاح الدین صلو کا کہنا ہے’ اگر آئین بحال کر کے جنرل باڈی اور کونسل کو کام کرنے دیا جائے تو اس سے ارباب اختیار کا احتساب ہوسکے گا اور معاملات درست انداز میں چلائے جا سکیں گے‘۔
کرکٹ کمنٹیٹر چشتی مجاہد کی رائے اس سے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے’ایسوسی ایشنز میں طویل عرصے سے مخصوص چہرے ہی نظرآتے ہیں اگر انہی کے ذریعے معاملات چلانے ہیں تو پھر ایسا نہ کیا جائے‘۔ چشتی مجاہد ٹیم میں نئے باصلاحیت کرکٹرز کی شمولیت کے حق میں ہیں ان کے خیال میں کافی عرصے سے ٹیم میں چند کھلاڑیوں کی اجارہ داری رہی ہے۔ وہ پاکستانی کرکٹ کے معاملات میں ایوان صدر کے تعلق کو بھی تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’ملکہ برطانیہ سمیت کئی ملکوں کے سربراہان کرکٹ کے معاملات سے دور ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ تبدیلی آجائے تو بری بات نہیں ہے‘۔ سابق ٹیسٹ کرکٹرز ہوں یا مبصر یا پھر کرکٹ کا ایک عام شائق ہر کوئی پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ایک بار پھر جیتتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے لیکن اس کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ارباب اختیار کو حالات و واقعات سے سبق سیکھ کر ایسے فیصلے کرنے ہوں گے جو ذاتی مفادات سے بالاتر اور ملکی مفاد کے لیے ہوں۔ | اسی بارے میں کانٹریکٹ ختم، بورڈ میں تبدیلیاں31 March, 2007 | کھیل ’دو میچ ہارے تو کیا پاکستانی نہیں رہے‘31 March, 2007 | کھیل پاکستانی ٹیم کا ایک ’طویل ڈراؤنا خواب‘23 March, 2007 | کھیل انضمام، آج کل سے مختلف23 March, 2007 | کھیل پاکستانی کرکٹ کے سات ہنگامہ خیز ماہ23 March, 2007 | کھیل پاکستان کرکٹ: نئی قیادت کی تلاش22 March, 2007 | کھیل کرکٹ بورڈ میں استعفوں کی لہر20 March, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||