BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 31 March, 2007, 08:27 GMT 13:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دو میچ ہارے تو کیا پاکستانی نہیں‘

انضمام
’دو میچ ہارنے سے کیا ہم پاکستانی نہیں رہے‘
کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران مستعفی ہونے والے پاکستانی کپتان انضمام الحق نے پاکستانی ذرائع ابلاغ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ان خیالات کو رد کر دیا ہے کہ پاکستانی ٹیم حالیہ میچوں میں میچ فکسنگ میں ملوث تھی۔

ورلڈ کپ کے پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہو جانے والی پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق نے پاکستانی میڈیا اور سابق کرکٹ کھلاڑیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر پاکستانی پریس اور لوگوں کو اپنی کرکٹ ٹیم کا ساتھ دینا چاہیے تھا۔

ویسٹ انڈیز سے آنے کے بعد انضمام الحق سنیچر کو پہلی بار ملکی میڈیا کا سامنا کر رہے تھے۔

لاہور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے دفتر میں پریس کانفرنس میں بات چیت کرتے ہوئے سبکدوش ہونے والے کپتان نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ ہم نے اچھا نہیں کھیلا لیکن یہ کہنا ٹھیک نہیں کہ ہم نے تیاری نہیں کی تھی۔

گلہ تو اپنوں سے ہے
 مجھے اپنے لوگوں سےگِلہ ہے کہ ٹھیک ہے پاکستان ٹیم اچھا نہیں کھیلی لیکن پاکستانی پریس کو اور لوگوں کو اپنی ٹیم کا ساتھ دینا چاہیے تھا

انہوں نے کہا کہ وہ شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں لیکن ٹیم سب کی مشاورت کے بعد منتخب کی گئی تھی اور کسی ایک شخص کو قصور وار ٹھہرانا ٹھیک نہیں۔

انضمام الحق پاکستانی میڈیا کی کرکٹ ٹیم پر میچ فکسنگ اور باب وولمر کے قتل کے حوالہ سے الزمات کا ذکر کرتے ہوئے جذباتی ہوگئے اور ان کی آنکھیں بھیگ گئیں۔

پاکستانی کپتان کا کہنا تھا کہ آئرلینڈ کے خلاف میچ ہارنے کی وجہ خراب پچ تھی اور ’دو میچ ہارنے سے کیا ہم پاکستانی نہیں رہے‘۔ انہوں نے باب وولمر کے قتل میں پاکستان ٹیم کے ممکنہ طور پر ملوث ہونے کے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ صرف افواہیں ہیں جو باہر والوں نے پھیلائی ہیں۔

جب انضمام سے پوچھا گیا کہ کہا جارہا ہے کہ کھلاڑی مذہبی سرگرمیوں میں زیادہ مشغول رہے جو ان کی کارکردگی پر اثر انداز ہوئیں تو انہوں نے کہا کہ لڑکے صرف نماز پڑھتے تھے اور کوئی ایسا کام نہیں کرتے تھے جس کا ان کی کارکردگی پر اثر پڑے۔

انہوں نے کہا کہ دوسروں کے میڈیا نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے باب وولمر کے قتل میں مشکوک ہونے کے حوالہ سے ایسی افواہیں پھیلائیں جن کا اپنا ایجنڈا تھا۔انہوں نے کہا ’مجھے اپنے لوگوں سےگِلہ ہے کہ ٹھیک ہے پاکستان ٹیم اچھا نہیں کھیلی لیکن پاکستانی پریس کو اور لوگوں کو اپنی ٹیم کا ساتھ دینا چاہیے تھا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ شکست کے وقت ایسی تنقید کرنا ٹھیک نہیں۔

انضمام نے کہا کہ کرکٹ ٹیم نے اپنی طرف سے کوشش میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ تاہم انضمام نے کہا کہ وہ ایک بار پھر قوم سے معذرت کرتے ہیں جسے کرکٹ ٹیم سے بہت توقعات تھیں۔

انضمام نے ویسٹ انڈیز میں پاکستان کے میچوں کے لیے بنائی گئی وکٹوں کو ٹیم کی شکست کی بڑی وجہ بتایا اور کہا کہ آئرلینڈ کے خلاف میچ میں’گرین ٹاپ‘ پچ تھی جس پر بیٹنگ کرنا مشکل تھا اور ساری بات ٹاس پر آ گئی تھی جو پاکستان ہار گیا۔

انہوں نے کہا آئرلینڈ کے خلاف ان کے میچ میں پچ ون ڈے میچ کی وکٹ نہیں تھی اور انہیں نہیں معلوم ایسا کیوں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ کے کسی اور میچ میں ایسی وکٹ نہیں بنائی گئی۔

مرضی میری نہیں بلکہ بورڈ کی
 اب تو ایسا لگ رہا ہے جیسے کرکٹ بورڈ کا چپڑاسی بھی میری مرضی سے لگتا تھا۔
انضمام الحق

میچ فکسنگ کے الزامات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تین سال سے میچ فکسنگ کا ایشو نہیں تھا اور اب اگر ٹیم کوئی ٹورنامنٹ ہارگئی ہے تو ایسے الزامات لگانا ٹھیک نہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کا سارا پریس الزامات لگا رہا تھا لیکن کیا وہ میچ ہارنے کے بعد پاکستانی نہیں رہے تھے جو ان پر میڈیا میں الزامات لگائے گئے اور ہر چینل کی کوشش تھی کہ وہ دوسرے سے پیچھے نہ رہ جائے۔

انہوں نے کہا کہ پریس اور سابق کھلاڑیوں نے کرکٹ ٹیم پر ایسے وقت الزامات لگائے جب انہیں سب سے زیادہ مدد کی ضرورت تھی۔ انضمام نے کہا کہ ’مجھے سولہ سترہ سال کے کھیل کے بعد یہ والی چیز ملی ہے۔’

کرکٹ ٹیم کے سبکدوش ہونے والے کپتان نے جذباتی انداز میں کہا کہ’اگر پاکستان ٹیم پر ایسے ہی تنقید کی جائے گی تو ٹیم کوئی بڑا ٹورنامنٹ نہیں جیت سکے گی کیونکہ لڑکے ڈرجاتے ہیں کہ اگر میچ ہار گئے تو کیا ہوگا‘۔

انضمام نے کہا کہ اس وقت بہت ناامیدی ہے کیونکہ ٹیم اچھی پرفارمنس نہیں دے سکی لیکن نوجوان لڑکے بہت اچھے ہیں اور آئندہ اچھی پرفارمنس دیں گے۔

انضمام کا کہنا تھا کہ وہ ورلڈ کپ سے پہلے ہی فیصلہ کر چکے تھے کہ واپسی پر ون ڈے کرکٹ سے ریٹائر ہوجائیں گے لیکن اگر اچھی پرفارمنس کے بعد ریٹائر ہوتے تو اچھا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے رہیں گے لیکن ٹیسٹ میچوں میں بھی کپتانی نہیں کریں گے۔ تاہم وہ ون ڈے کرکٹ نہیں کھیلیں گے ’جو بہت تیز ہوگئی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ ٹیسٹ کیرئیر کا خاتمہ اس سے بہتر انداز میں ہو۔

’اگر اچھی پرفارمنس کے بعد ریٹائر ہوتا تو اچھا تھا‘

انضمام نے کہا کہ کوچ اور کپتان مقرر کرنا بورڈ کا فیصلہ ہوگا۔ تاہم ان کے خیال میں یونس خان کو موقع ملنا چاہیے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب کہا کہ جب کرکٹ ٹیم ہار جاتی ہے تو لوگ الزامات لگانے شروع کردیتے ہیں کہ ٹیم متحد نہیں تھی حالانکہ یہ بات درست نہیں اور ہماری ٹیم متحد تھی۔

سابق کھلاڑیوں کے تبصروں پر بات کرتے ہوئے انضمام الحق نے کہا’سب کے اپنے ایجنڈے ہوتے ہیں اور موجودہ ٹیم پر تنقید کرنے والے افراد کا اپنا ریکارڈ بھی دیکھا جانا چاہیے‘۔

انہوں نے کہا کہ برصغیر کے ملکوں میں ہار کے بعد ایسا ردعمل ہوتا ہے اسی لیے ان کی کرکٹ اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے۔

انضمام نے باب وولمر کی موت کے بارے میں کہا کہ یہ ان کی زندگی کا مشکل ترین دن تھا۔ انہوں نے کہا کہ باب بہت مخلص آدمی تھے اور انہوں نے ساڑھے تین سال اپنی بہترین مہارت کے ساتھ ٹیم کی کوچنگ کی۔ انہوں نے بتایا کہ جمیکا پولیس نے کھلاڑیوں سے معمول کی پوچھ گچھ کی اور انہیں پہلے سے کوئی تجربہ نہیں تھا کہ ایسے معاملات کو کیسے ہینڈل کیا جاتا ہے۔

انضمام نے یہ تنقید مسترد کردی کہ ٹیم کے سارے معاملات ان کی مرضی سے چلائے جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ’اب تو ایسا لگ رہا ہے جیسے کرکٹ بورڈ کا چپڑاسی بھی میری مرضی سے لگتا تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ وقار یونس کو بولنگ کوچ کے عہدے سے ہٹانا ان کا نہیں بورڈ کا فیصلہ تھا اور مشتاق احمد تین سال سے اسسٹنٹ کوچ کے طور پر کام کر رہے تھے اور ورلڈ کپ میں ہار کے بعد ہی اس تقرری پر تنقید کی گئی ہے۔

انضمام الحق نے کہا کہ انہیں پاکستان کرکٹ ٹیم کے لڑکوں سے بہتری کی امیدیں ہیں اور ہمیں انہیں موقع دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم ایک فرسٹ کلاس ٹیم ہے جسے بہتر بنایا جانا چاہیے۔

نسیم اشرفکام کرتے رہیں
صدر نے نسیم اشرف کا استعفی نامنظور کر دیا
مقابلے پسِ منظر میں
ورلڈ کپ وولمر’قتل‘ کے پیچھے چھپ گیا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد