 | | | پولیس کے مطابق گزشتہ اتوار کو باب وولمر کا گلا گھونٹ دیا گیا |
پاکستانی کوچ باب وولمر کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والی جمیکا کی پولیس ٹیم نے سنیچر کو انضمام الحق اور اسٹنٹ کوچ مشتاق احمد سے پوچھ گھ کے بعد ٹیم کو واپس پاکستان جانے کی اجازت دیدی ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ترجمان پی جے میر نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کو جمیکا کی پولیس نے انضمام الحق اور اسسٹنٹ کوچ مشتاق احمد سے وولمر قتل کے معاملے میں بات چیت کی۔ انضمام الحق اور مشتاق احمد سے پوچھ گچھ وولمر ’قتل‘ معاملے میں پاکستانی ٹیم کے اراکین سے پولیس کی دوسری پوچھ گچھ ہے۔ جمیکا کی پولیس کے ڈِپٹی کمِشنر مارک شیلڈز نے کہا کہ پاکستانی ٹیم نے وولمر کے ’قتل‘ کی تحقیقات میں پوری طرح مدد کی اور سنیچر کو کی جانے والی پوچھ گچھ چند باتیں واضح کرنے کے لیے تھی۔ پاکستان کی ٹیم سنیچر کی شام مونٹیگو بے سے پاکستان واپس جارہی ہے۔ سنیچر کے روز انضمام الحق اور مشتاق احمد سے کی جانے والی پوچھ گچھ کو رسمی کارروائی بتایا گیا۔ پولیس اہلکاروں کی جانب سے پوچھ گچھ کے بعد انضمام الحق نے برطانوی ٹیلی ویژن اسکائی نیوز کو بتایا کہ یہ معمول کی کارروائی تھی جس کے بعد کہا گیا وہ واپس پاکستان جاسکتے ہیں۔ پاکستانی ٹیم کی وطن واپسی پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ ادھر امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں واقع پاکستانی سفارت خانے کے دو اہلکار فرسٹ سیکرٹری زاہد حسین چودھری اور کونسلر شاہد احمد جمیکا پہنچ گئے ہیں۔ کِنگسٹن میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نامہ نگار شفی نقی جامعی کے مطابق جمیکا کی پولیس کے اہلکاروں دونوں پاکستانی سفارتکاروں کو باب وولمر کے قتل کے معاملے میں بریفِنگ دی ہے۔ باب وولمر کی میت ابھی بھی تحقیقات کے سلسلے میں جمیکا میں ہی ہے۔ ان کے ’قتل‘ کی تحقیقات کرنے والی پولیس ٹیم فارنزِک رپورٹ کا انتظار کررہی ہے۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کی بنیاد پر جمیکا کی پولیس نے کہا ہے کہ باب وولمر کو گزشتہ اتوار کے روز ان کے ہوٹل کے کمرے میں گلا گھونٹ کر ہلاک کردیا گیا۔ |