BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 March, 2007, 01:20 GMT 06:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان، کرکٹ کو نشانہ نہ بنائیں‘
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ رِچرڈ پائبس
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ رِچرڈ پائبس نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ باب وولمر کے قتل کے بعد پاکستان، پاکستانی عوام اور پاکستانی کرکٹ کو نشانہ نہ بنائیں۔

رِچرڈ پائبس 1999 سے 2001 تک اور پھر 2003 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے پہلے غیرملکی کوچ رہے۔ ان کا کہنا تھا: ’لوگوں کو خیال رکھنا ہوگا کہ یہ معاملہ پاکستان مخالف نہ بن جائے۔‘

پائبس نے مزید کہا: ’یہ پاکستانی عوام یا کرکٹ کے بارے میں ایک معاملہ نہیں بننا چاہیے۔‘ سابق پاکستانی کوچ نے کہا: ’میں نے اپنے دور میں پاکستانی کلچر اور کھیل کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔ میں نے اس سے بہت کچھ حاصل کیا۔‘

آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست کے ایک دن بعد پاکستانی کرکٹ کوچ باب وولمر جمیکا کی پولیس کے مطابق کِنگسٹن میں اپنے ہوٹل کے کمرے میں ایک قتل کے واقعے میں ہلاک ہوگئے۔

 مجھے ایسا سوچنا بھی افسوسناک ہوگا کہ جب میں کوچ تھا ایسا کچھ ہوا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو مجھے یقین ہے کہ مجھے اس کے بارے میں علم ہوتی کیوں کہ مینیجر نے مجھے بتایا ہوتا۔
سابق کوچ رِچرڈ پائبس
رِچرڈ پائبس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے دور میں پاکستان میں میچ فِکسنگ کے شواہد نہیں دیکھے۔ ’مجھے کھلاڑیوں پر اثر یا ان کے کم کھیلنے کے بارے میں جانکاری نہیں تھی۔‘

’مجھے ایسا سوچنا بھی افسوسناک ہوگا کہ جب میں کوچ تھا ایسا کچھ ہوا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو مجھے یقین ہے کہ مجھے اس کے بارے میں علم ہوتی کیوں کہ مینیجر نے مجھے بتایا ہوتا۔‘

تاہم پائبس کا کہنا تھا کہ دوسری طرف یہ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے کہ دنیائے کرکٹ کافی صاف و شفاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کوچ کا عہدہ کافی ذمہ داری بھی لاتا ہے۔ انہوں نے کہا:’کھیل سے باہر کی چیزوں اور انتظامیہ اور وسائل سے متعلق کافی چیلنجز ہوتی ہیں۔‘

پائبس نے کہا: ’ٹیم کے اندر سے ہی اہداف کو ثبوتاژ کرنے کی کافی اہلیت ہے۔ اس سے مستقل پلاننگ کرنا کافی مشکل ہوجاتا ہے۔ ایک کوچ کی حیثیت سے آپ کو لائحـۂ عمل تیار کرنا ہوتا ہے، باہری معاملات کو حل کرنا نہیں۔ یہ کافی حساس ماحول ہوتا ہے۔‘

تاہم انہوں نے کہا کہ ’یہ کام کافی تسکین بخش ہوسکتا ہے۔ پاکستان میں کچھ بہترین کرکٹرز اور منتظمین ہیں۔‘

وولمر اپنے ہوٹل میں مردہ پائے گئے
پائبس کے خیال میں باب وولمر اور انضمام الحق کے دور میں پاکستانی کرکٹ نے کافی کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے ون ڈے اور ٹیسٹ کی رینکِنگ میں تیسرا مقام حاصل کیا اور ٹیم کو استحکام دلایا۔

رِچرڈ پائبس کا کہنا ہے کہ اوول کے واقعے سے حالات کچھ خراب ہونا شروع ہوئے۔ اوول کے میدان پر امپائر ڈیرل ہیئر کی جانب سے بال ٹیمپرِنگ کے الزام کے بعد انگلینڈ کے خلاف پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں نے پِچ پر جانے سے انکار کردیا تھا۔

پھر شعیب اختر اور محمد آصف پر گزشتہ سال کے اختتام پر ایک ڈرگ ٹیسٹ مثبت ثابت ہوا۔ پائبس کے خیال میں اس طرح کے واقعات سے پاکستانی کوچ پر ذہنی دباؤ بنتا گیا۔ ’میں سمجھتا ہوں کہ باب کے لیے بھی کچھ ایسا ہی ہوا، بالخصوص اوول کے واقعے کے بعد۔‘

رچرڈ پائبس نے اپنے کوچِنگ کریئر کے آغاز میں باب وولمر کی مدد کی سراہنا کی۔ انیس سو کے عشرے میں جب پائبس کوچ کی حیثیت سے کام کرنا شروع کررہے تھے تب وولمر جنوبی افریقہ کے کوچ تھے۔

 پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر’ کھلاڑی بھی انسان‘
کھیل کو کھیل کیوں نہیں رہنے دیتے؟
’طویل ڈراؤنا خواب‘
کوچ کے قتل پر کھلاڑی کیا کہتے ہیں
 وسیم باری’آل آؤٹ‘
چیئرمین کے بعد سلیکشن کمیٹی بھی مستعفی
ہنسی کرونیئےکرونیئے سے اظہرتک
کرکٹ اور کرپشن پر پھر بحث کا آغاز
انضمام الحقجمیکا: آخری دن
پاکستان ٹیم کا ہوٹل میں آخری دن
کپتان انضمام الحق
اچھے نتائج کا کریڈِٹ، شکست کی واحد وجہ؟
’بھارت سوگوار‘
وولمر کے قتل کی خبر بھارت میں بھی زیر بحث
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد