’پاکستان، کرکٹ کو نشانہ نہ بنائیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ رِچرڈ پائبس نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ باب وولمر کے قتل کے بعد پاکستان، پاکستانی عوام اور پاکستانی کرکٹ کو نشانہ نہ بنائیں۔ رِچرڈ پائبس 1999 سے 2001 تک اور پھر 2003 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے پہلے غیرملکی کوچ رہے۔ ان کا کہنا تھا: ’لوگوں کو خیال رکھنا ہوگا کہ یہ معاملہ پاکستان مخالف نہ بن جائے۔‘ پائبس نے مزید کہا: ’یہ پاکستانی عوام یا کرکٹ کے بارے میں ایک معاملہ نہیں بننا چاہیے۔‘ سابق پاکستانی کوچ نے کہا: ’میں نے اپنے دور میں پاکستانی کلچر اور کھیل کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔ میں نے اس سے بہت کچھ حاصل کیا۔‘ آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست کے ایک دن بعد پاکستانی کرکٹ کوچ باب وولمر جمیکا کی پولیس کے مطابق کِنگسٹن میں اپنے ہوٹل کے کمرے میں ایک قتل کے واقعے میں ہلاک ہوگئے۔ ’مجھے ایسا سوچنا بھی افسوسناک ہوگا کہ جب میں کوچ تھا ایسا کچھ ہوا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو مجھے یقین ہے کہ مجھے اس کے بارے میں علم ہوتی کیوں کہ مینیجر نے مجھے بتایا ہوتا۔‘ تاہم پائبس کا کہنا تھا کہ دوسری طرف یہ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے کہ دنیائے کرکٹ کافی صاف و شفاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کوچ کا عہدہ کافی ذمہ داری بھی لاتا ہے۔ انہوں نے کہا:’کھیل سے باہر کی چیزوں اور انتظامیہ اور وسائل سے متعلق کافی چیلنجز ہوتی ہیں۔‘ پائبس نے کہا: ’ٹیم کے اندر سے ہی اہداف کو ثبوتاژ کرنے کی کافی اہلیت ہے۔ اس سے مستقل پلاننگ کرنا کافی مشکل ہوجاتا ہے۔ ایک کوچ کی حیثیت سے آپ کو لائحـۂ عمل تیار کرنا ہوتا ہے، باہری معاملات کو حل کرنا نہیں۔ یہ کافی حساس ماحول ہوتا ہے۔‘ تاہم انہوں نے کہا کہ ’یہ کام کافی تسکین بخش ہوسکتا ہے۔ پاکستان میں کچھ بہترین کرکٹرز اور منتظمین ہیں۔‘
رِچرڈ پائبس کا کہنا ہے کہ اوول کے واقعے سے حالات کچھ خراب ہونا شروع ہوئے۔ اوول کے میدان پر امپائر ڈیرل ہیئر کی جانب سے بال ٹیمپرِنگ کے الزام کے بعد انگلینڈ کے خلاف پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں نے پِچ پر جانے سے انکار کردیا تھا۔ پھر شعیب اختر اور محمد آصف پر گزشتہ سال کے اختتام پر ایک ڈرگ ٹیسٹ مثبت ثابت ہوا۔ پائبس کے خیال میں اس طرح کے واقعات سے پاکستانی کوچ پر ذہنی دباؤ بنتا گیا۔ ’میں سمجھتا ہوں کہ باب کے لیے بھی کچھ ایسا ہی ہوا، بالخصوص اوول کے واقعے کے بعد۔‘ رچرڈ پائبس نے اپنے کوچِنگ کریئر کے آغاز میں باب وولمر کی مدد کی سراہنا کی۔ انیس سو کے عشرے میں جب پائبس کوچ کی حیثیت سے کام کرنا شروع کررہے تھے تب وولمر جنوبی افریقہ کے کوچ تھے۔ |
اسی بارے میں باب وولمر کے لیے ستارۂ امتیاز22 March, 2007 | کھیل پاکستانی کرکٹ کے سات ہنگامہ خیز ماہ23 March, 2007 | کھیل ’پاکستان کو محتاط ہونا چاہیے تھا‘23 March, 2007 | کھیل انضمام، آج کل سے مختلف23 March, 2007 | کھیل ’ کھلاڑی یا اہلکار ملوث نہیں‘23 March, 2007 | کھیل پاکستانی کرکٹ کے سات ہنگامہ خیز ماہ23 March, 2007 | کھیل وولمر کی خبر انڈیا میں سرِ فہرست 23 March, 2007 | کھیل ورلڈ کپ جاری رہے گا: آئی سی سی23 March, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||