’ کھلاڑی یا اہلکار ملوث نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مستعفی ہونے والے چئیرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا ہے کہ باب وولمر کے قتل میں پاکستان کرکٹ ٹیم کا کوئی کھلاڑی یا اہلکار ملوث نہیں جبکہ جمیکن پولیس کی طرف سے کھلاڑیوں سے جاری تفتیش ایک معمول کی کارروائی ہے۔ جمعہ کو پشاور میں صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر نسیم اشرف نے بتایا کہ جمیکا میں پاکستانی کھلاڑیوں اور آفیشلز پر کوئی پابندی نہیں، جو لوگ اس قسم کی افواہیں پھیلا رہے ہیں وہ ملک و قوم کے دشمن ہیں۔ انہوں نے کہا ’میری آج صبح خود جمیکا کے ایک اہم پولیس اہلکارسے بات ہوئی ہے جس میں انہوں نے مجھے یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان کے کسی کھلاڑی یا اہلکار پر نہ تو پاکستان جانے پر پابندی ہے اور نہ جمیکا میں ادھر ادھر جانے پر کوئی پابندی ہے ۔‘ ڈاکٹر نسیم اشرف نے وضاحت کی کہ پاکستانی کھلاڑیوں سمیت باب وولمر کے تمام ملنے والوں کی انگلیوں کے نشانات لیے گئے ہیں جو ایک معمول کی تفتیش کا حصہ ہے اور جس پر کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جمیکن پولیس کے مطابق اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ کوچ باب وولمر کو قتل کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ باب وولمر کی موت بورڈ اور کھلاڑیوں کےلیے ایک سانحہ ہے تاہم اس کے باوجود کھلاڑی ایک نئے جذبے سے کھیلے ہیں۔ واضح رہے کہ ورلڈکپ کرکٹ میں پاکستان کی آئرلینڈ کے ہاتھوں شرمناک شکست کے بعد کرکٹ بورڈ کے چیرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے اپنے عہدے سے استعفی دیا تھا تاہم اطلاعات کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے تاحال ان کا استعفی باضابط طورپر منظور نہیں کیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں پولیس کو وولمر کے قاتلوں کی تلاش23 March, 2007 | کھیل وولمر:موت کی وجہ تاحال معلوم نہیں22 March, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||