BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 March, 2007, 00:11 GMT 05:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پولیس کو وولمر کے قاتلوں کی تلاش
بوب وولمر کا سوگ
کراچی میں کئی جگہ پاکستانی ٹیم کے آنجہانی کوچ کی موت کا سوگ منایا گیا

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر کے قتل کے سلسلے میں جمیکا پولیس تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے اور تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ مقتول اپنے قاتل (یا قاتلوں) جانتے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ آنجہانی وولمر کے کمرے میں کسی کے زبردستی داخل ہونے کے کوئی ثبوت نہیں ملے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے آخری وقت میں ان کے ساتھ کوئی واقف کار ہی تھا۔


اس سے قبل جمیکا کے پولیس کمشنر لوسیز ٹامس نے کِنگسٹن میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ پوسٹ مارٹم میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وولمر کی موت ’مینوئل سٹرینگولیشن‘ یعنی ہاتھوں سے گلا دبانے کے نتیجے میں ہوئی۔

پولیس کمشنر نے اخباری کانفرنس سے اسی ہوٹل پیگسس میں خطاب کیا جہاں اٹھاون سالہ باب وولمر 18 مارچ کو اپنے کمرے میں بے ہوش پائے گئے تھے۔

جمیکا پولیس کے ڈپٹی کمشنر مارک شیلڈز کا کہنا تھا ’باب ایک جسیم شخص تھے اور انہیں قابو کرنے کے لیے کافی قوت درکار ہوئی ہوگی اور پولیس کو اب دو یا دو سے زیادہ قاتلوں کی تلاش ہے‘۔

بی بی سی ریڈیو لائیو سے بات کرتے ہوئے مارک شیلڈز کا کہنا تھا کہ ’اس موقع پر یہ بات ماننا مشکل ہے کہ باب کو مارنے والا شخص ان کے لیے اجنبی تھا۔ ضروری ہے کہ ہم اپنا ذہن کھلا رکھیں لیکن میں کہوں گا کہ یہ شخص باب کو جانتا تھا کیونکہ یہ بات واضح ہے کہ انہوں نے خود اسے اپنے کمرے میں آنے دیا۔‘

بوب وولمر
ویسٹ انڈیز کا ایک نامعلوم پولیس افسر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ایک رکن عمران نذیر سے بوب وولمر کے بارے میں تفتیش کر رہا ہے

ڈپٹی کمشنر مارک شیلڈز ان افواہوں کی ’پر زور تردید‘ کی باب وولمر کی موت کے سلسلے میں کوئی گرفتار یاں بھی ہوئی ہیں۔ ’یہ بالکل لغو بات ہے۔ جہاں تک مجھے پتہ ہے اس بات میں کوئی سچائی نہیں ہے۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ کمرے میں زبردستی گھسنے کے کوئی شواہد نہیں ملے اور نہ ہی وولمر کے زیر استعمال کسی چیز کو اٹھایا گیا ہے۔ حکام ہوٹل میں لگے کلوز سرکٹ ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ کو بھی دیکھ رہے ہیں۔

پولیس کمشنر نے اپیل کی کہ اگر کسی بھی شخص کے پاس اس واقعہ کے حوالے سے کوئی معلومات ہیں تو وہ مہربانی کر کے سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ میں ملوث اشخاص رضا کارانہ طور پر خود کو پولیس کے حوالے کردیں۔

کنگسٹن میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار اینڈی گالچر کا کہنا ہے کہ وولمر کے قتل نے سب کو حیران کر دیا ہے اور ورلڈ کپ پیچھے رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ وولمر کے قتل کے پیچھے کرکٹ کے ’جواریوں‘ کا ہاتھ ہے۔

باب وولمر کی ہلاکت اس وقت پورے ورلڈ کپ اور کرکٹ کی دنیا میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ وولمر دنیائے کرکٹ کے موجودہ کئی ستاروں کی کوچنگ کرنے کی وجہ سے کیریئر میں ان کے لیے باپ کی سی حیثیت رکھتے تھے۔

تاہم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اعلان کیا کہا ہے کہ ورلڈ کپ اپنے شیڈول کے مطابق جاری رہے گا۔ ایک اخباری کانفرنس کے دوران آئی سی سی کے چیف میلکم اسپیڈ نے کہا: ’میچ جاری رہیں گے۔۔۔ ہر ممکن طریقے سے ہم جمیکا کی پولیس کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں یقین ہے کہ ہماری ٹیمیں بھی پولیس اور دیگر تحقیقاتی اہلکاروں کی مدد کریں گی۔‘

کھلاڑی وولمر کی ناگہانی موت پر افسردہ بیٹھے ہیں

جنوبی افریقہ کے سابق کھلاڑی ایلن ڈونلڈ نے مطالبہ کیا ہے کہ وولمر کے قتل کی خبر آنے کے بعد ورلڈ کپ ملتوی کر دینا چاہیے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ اس واقعہ کے بعد ورلڈ کپ کیسے جاری رہ سکتا ہے‘۔

باب وولمر کی ہلاکت کِنگسٹن کے پیگسس ہوٹل کے کمرے میں اتوار کے روز ہوئی تھی۔ انہیں ان کے کمرے میں بیہوش پایا گیا تھا اور ہسپتال لے جانے پر مردہ قرار دیا گیا۔

جمیکا کی پولیس نے جمعرات کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہر کھلاڑی سے سوال جواب کیے اور ہر کھلاڑی سے سوال جواب کا سلسلہ لگ بھگ ایک گھنٹے تک جاری رہا تھا۔ پولیس نے پاکستانی کھلاڑیوں کے فنگر پرِنٹِنس اور ڈی این اے نمونے بھی لیے گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستانی کرکٹ ٹیم نے جمیکا کی پولیس کو کہا ہے کہ اسے وطن واپس جانے کی اجازت دی جائے۔ ٹیم مینیجر طلعت علی نے کہا ’جتنی جلدی ممکن ہو سکے، ہم گھر واپس جانا چاہتے ہیں‘۔

پاکستانی ٹیم اس وقت مونٹیگو بے میں ہے جہاں سے اس نے سنیچر کو واپس روانہ ہونا ہے۔

جمیکا پولیس کا کہنا ہے ’ہمیں یقین ہے کہ جن لوگوں کی وولمر تک رسائی تھی یا جو ان سے وابستہ تھے، ان کے پاس اس تحقیقات کے سلسلے میں اہم معلومات ہوسکتی ہیں۔‘‘

جمیکا پولیس نے ہر کھلاڑی سے ایک ایک گھنٹہ علیحدگی میں پوچھ گچھ کی ہے

پاکستان کرکٹ ٹیم کے میڈیا ترجمان پی جے میر سے جب برطانوی ٹیلی ویژن چینل اسکائی نیوز نے پوچھا کہ کیا کھلاڑیوں نے اس معاملے میں میچ فِکسنگ یا سٹے بازی سے متعقل کچھ باتیں کی ہیں تو انہوں نے کہا بالکل نہیں۔ ’جہاں تک میں جانتا ہوں کھلاڑیوں نے میچ فِکسنگ کے کسی واقعے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ہے، کیونکہ اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

پی جے میر نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑی اس بارے میں فکرمند ہیں کہ باب وولمر کے ساتھ کیا ہوا۔

سابق پاکستانی کھلاڑی سرفراز نواز نے چند روز قبل اس طرح کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ باب وولمر کی ہلاکت میچ فِکسنگ اور سٹے بازی میں ملوث لوگوں کی وجہ سے ہے۔

باب وولمر کی ہلاکت کی پولیس رپورٹ پر کرکٹ ٹیم کے میڈیا ترجمان پی جے میر نے اپنے افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا: ’پاکستانی ٹیم کو اس طرح کی خبر کی امید نہیں تھی اور میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ حیرت کی بات ہے، اس نے مجھے حیرت میں ڈال دیا ہے۔‘

صدر پرویز مشرف نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آنجہانی کوچ باب وولمر کے لیے اعلی شہری اعزاز ستارۂ امتیاز کا اعلان کیا ہے۔ صدر مشرف نے باب وولمر کی بیوہ سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا: ’پاکستانی عوام انہیں ہمیشہ یاد رکھیں گے ان کا خلاء پر ہونا بہت مشکل ہے۔‘

وولمروولمر کا ’استعفیٰ‘
ایک مختلف ٹیم کی کوچنگ
پاکستانی اخبارات ’دلبرداشتہ وولمر‘
تاریخی شکست اور وولمر کی موت پر سرخیاں
پاکستانی ٹیم(فائل فوٹو)کرکٹ ٹیم پر پابندی
وولمر پوسٹ مارٹم تک جمیکا نہ چھوڑیں: حکام
باب وولمر تعزیت، خراج تحسین
وہ پاکستانی ٹیم کی دنیا تھے: ڈکی برڈ
سلیکٹرز بھی مستعفی
وسیم باری، اقبال قاسم، احتشام الدین بھی مستعفی
نسیم اشرف مستعفی
مختصر دور میں انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا
انضمامانضمام کا کیریئر
ورلڈ کپ سے عروج، ورلڈ کپ پر اختتام
اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد