پولیس کی کھلاڑیوں سے پوچھ گچھ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمیکا کی پولیس نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے اراکین سے کوچ باب وولمر کی موت کے حوالے سے ’سوال جُواب‘ کیے ہیں۔ ٹیم کے مینیجر طلعت علی نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ہر کھلاڑی سے ’سوال جواب‘ کا یہ سلسلہ تقریباً ایک گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ آئر لینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ 58 سالہ باب وولمر ہوٹل کے کمرے میں بیہوش پائے گئے تھے۔ بعد میں ان کو مردہ قرار دیا گیا تھا۔ پولیس ابھی تک یہ نہیں بتا سکی ہے کہ ان کی موت کیونکر ہوئی؟۔ پولیس ان کی موت کو ’مشکوک‘ قرار دے رہی ہے۔ باب کی اہلیہ نے باب کے خودکشی کے امکان کو رد کیا ہے تاہم انہوں نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ ان کے شوہر کو قتل کیا گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ترجمان پرویز میر کا کہنا ہے کہ پولیس نے رسمی کارروائی کے تحت کھلاڑیوں سے سوال و جواب کیے کیونکہ پولیس وولمر کی زندگی کے آخری لمحات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنا چاہتی تھی۔
جمیکا کے ڈپٹی پولیس کمشنر مارک شیلڈز نے بتایا’ ہم ٹیم کے کھلاڑیوں سمیت تمام متعلقہ افراد سے بات کر رہے ہیں‘۔ کنگسٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار اینڈی گلاچر نے بتایا کہ وولمر کی موت نے ورلڈ کپ کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وولمر کی موت کے وقت کے حالات کے بارے میں اب بھی چہ مگوئیاں جاری ہیں۔ پولیس پر جلد از جلد ان کی موت کا سبب بننے والی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ وولمر کی لاش سے حاصل کیے گئے کئی نمونوں کے نتائج آنے ابھی باقی ہیں۔ پولیس کے ایک ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ایک اور پیتھالوجسٹ کی رائے لینا کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم اس نے ان خبروں کی تردید کی کہ وہ اسے قتل کی ایک واردات کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ برطانیہ کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس پال سٹیفنسن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وولمر کی موت کے حوالے سے برطانیہ جمیکا کی پولیس کی ہرممکن مدد کے لیے تیار ہے تاہم ابھی تک انہیں جمیکن پولیس کی جانب سے اس قسم کی کوئی درخواست نہیں ملی ہے۔
دریں اثناء باب وولمر کی اہلیہ نے انڈیا کے ایک ٹیلی ویژن چینل کو بتایا کہ وولمر کے زیادہ دوائی کھا لینے والی بات غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ وولمر کو ٹائپ ٹو قسم کی شوگر تھی جس کے لیے دوائی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ’اس قسم کی خبریں بکواس ہیں‘۔ مسز وولمر نے بتایا کہ انہوں نے کبھی دباؤ میں ہونے کا ذکر نہیں کیا تاہم وہ انہیں ٹی وی پر دیکھ کر اندازہ لگا سکتی تھیں کہ وہ دباؤ میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا اپنے شوہر سے آخری بار رابطہ انٹرنیٹ کے ذریعے ہوا جب وولمر نے آئرلینڈ کے میچ کے بعد انہیں ای میل بھیجی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’مجھے یہ میل اگلی صبح ملی تھی جس میں وولمر نے کہا تھا کہ وہ ان کی کارکردگی سے بہت مایوس ہوئے ہیں اور ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میچ کا یہ نتیجہ کیسے نکلا، وہ بہت افسردہ تھے‘۔ وولمر کی اہلیہ نے ٹی وی چینل پر اس بات کی بھی تصدیق کی کہ انہوں نے پاکستانی ٹیم کے کوچ کی حیثیت سے اچھا وقت گزارا اور ان کے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔ ’ان کے ٹیم کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے، وہ لڑکوں کے ساتھ خوش تھے اور میرا خیال ہے کہ کھلاڑیوں کے بھی ایسے ہی جذبات تھے۔ انہوں نے مِل کر محنت بھی کی اور مزہ بھی اور کرکٹ بورڈ نے بھی ان کا بہت خیال رکھا تھا‘۔ |
اسی بارے میں وولمر:موت کی وجہ تاحال معلوم نہیں22 March, 2007 | کھیل باب وولمر کے لیے ستارۂ امتیاز22 March, 2007 | کھیل وولمر بیہوش، ہسپتال میں18 March, 2007 | کھیل پاکستانی کوچ باب وولمر انتقال کرگئے18 March, 2007 | کھیل وولمر: استعفے کی نوبت ہی نہ آئی18 March, 2007 | کھیل وولمر: موت کے حالات ’مشکوک‘ 21 March, 2007 | کھیل وولمر کو خراج تحسین کا موقع21 March, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||