پاکستانی ٹیم کا ایک ’طویل ڈراؤنا خواب‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جب ساتویں ورلڈ کپ کے سلسلے میں میچوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو رہا تھا تو پاکستانی ٹیم ان مقابلوں سے بہت دور کھڑی تھی۔ وہ جمیکا کے جزیرے مونٹیگو میں پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ کے چند خوفناک ترین دنوں کے اختتام پر وطن واپس جانے کے لیئے اپنا سامان باندھ رہے تھے۔ پاکستانی ٹیم کے جمعرات کو کنسگسٹن کے پیگیسس ہوٹل سے روانہ ہونے سے محض چار گھنٹے بعد پولیس نے اعلان کیا کہ اسی ہوٹل میں ہونے والی ان کے کوچ کی موت کو اب وہ ایک قتل سمجھ رہے ہیں۔ لیکن ہوٹل سے روانہ ہونے سے پہلے ہی اس افواہ نے کہ باب وولمر کو قتل کیا گیا ہے ٹیم کو پریشان کرنا شروع کر دیا تھا۔ بی بی سی ارود کے شفیع نقی جامعی سے بات کرتے ہوئے شاہد آفریدی کا کہنا تھا ’ مجھے تو یہ ایک ڈراؤنا خواب لگتا ہے۔‘ آئرلینڈ کے ہاتھوں پاکستان کی شکست، پھر وولمر کی موت اور پھر ان کی موت کی تفتیش کے حوالے سے آفریدی نے کہا ’ لگتا ہے کہ یہ خواب ختم نہیں ہوگا کیونکہ ایک کے بعد دوسری بات آ رہی ہے۔‘
آفریدی کا کہنا تھا کہ وولمر کی موت کی وجہ سے وہ بہت افسردہ ہیں۔ ’ایسا لگتا ہے جیسے آپ کے جسم کا کوئی حصہ کھوگیا ہو، جیسا آپ کے والد کو آپ سے چھین لیا گیا ہو۔‘ نائب کوچ، مشتاق احمد، جو اب وولمر کی موت کی وجہ سے قائم مقام کوچ ہیں کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم مایوس ہے اور بہت غمگین ہے۔‘ ہوٹل میں سپنسر دانش کنیریا کا کمرہ باب کے کمرے کے ساتھ ہی تھا۔ ان کا کہنا تھا ’مجھے سخت افسوس ہے کہ اس مشکل وقت میں میں باب کے لیئے کچھ نہ کر سکا۔‘ کنیریا کے مطابق ’ پاکستانی ٹیم کے کوچ بننے سے پہلے بھی باب ایک عظیم کوچ تھے۔ یہ ذاتی طور میرے لیئے ایک عظیم نقصان ہے پاکستان کے لیے بہت بڑا المیہ۔‘ ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ پولیس نے انہیں ذرائع ابلاغ سے اپنے انفرادی انٹرویوز سمیت کسی معاملے پر بھی بات کرنے سے منع کیا ہے، لیکن ٹیم کے ترجمان پرویز جمیل میر نے بتایا کہ پولیس نے کھلاڑیوں سے جو بات چیت کی ہے وہ ’معمول‘ کی کارروائی تھی۔ ہر کھلاڑی کے ساتھ بات چیت کے دوران اس کے انگلیوں کے نشانات کے نمونے بھی لیئے گئے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ کھلاڑیوں سے پوچھا گیا کہ انہوں نے آخری مرتبہ باب کو کب دیکھا تھا اور آیا انہوں نے باب کے رویے میں کوئی غیرمعمولی تبدیلی دیکھی تھی یا نہیں۔ جمیکا کی پولیس کے ڈپٹی کمشنر مارک شیلڈز نے بی بی سی بات کرتے ہوئے اس خبر کی تصدیق کی کہ ٹیم کو سنیچر کے روز واپس چلے جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ باب وولمر کی میت بھی اسی طیارے میں ہوگی جس میں ٹیم لندن جائے گی۔ ادھر پاکستان میں کرکٹ بورڈ کے مستعفی ہونے والے چئیرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا ہے کہ باب وولمر کے قتل میں پاکستان کرکٹ ٹیم کا کوئی کھلاڑی یا اہلکار ملوث نہیں اور جمیکن پولیس کی طرف سے کھلاڑیوں سے جاری تفتیش ایک معمول کی کارروائی ہے۔ |
اسی بارے میں باب وولمر کے لیے ستارۂ امتیاز22 March, 2007 | کھیل پولیس کو وولمر کے قاتلوں کی تلاش23 March, 2007 | کھیل ٹیم کے جمیکا چھوڑنے پر پابندی 19 March, 2007 | کھیل انضمام: اچھا نہ کھیلنے پر معذرت22 March, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||