وولمر تحقیقات، پولیس پر دباؤ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمیکا کی پولیس باب وولمر کی موت کا فوری نتیجہ برآمد کرنے کے سلسلے میں مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کے زبردست دباؤ میں آگئی ہے۔ میڈیا کو مطمئن کرنے کے لیے اسے اتوار کو پھر پریس کانفرنس کر کے بعض باتوں کی وضاحت کرنی پڑی ہے جو اخبارات میں آئی ہیں اور جن پر ٹی وی ریڈیو میں تبصرے ہو رہے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ ہوٹل پیگیسز کی بارہویں منزل کے کلوز سرکٹ کیمرے کی ریکارڈنگ یا ’فوٹیج‘ کا ڈیجیٹل ورژن تیار کیا جارہا ہے جس سے باب وولمر کے فلور پر آنے جانے والے یا ’قاتل‘ کا چہرہ پہچاننے میں مدد ملے گی۔ کہا جا رہا ہے کہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے میں فوٹیج اہم ثابت ہوسکتی ہے۔ جمیکن پولیس کے ڈپٹی کمشنر مارک شیلڈز کا کہنا تھا کہ ’اب ہم نے برطانوی میٹروپولیٹن پولیس اور دنیا کے ایسے سکیورٹی اداروں سے مدد طلب کرلی ہے جو پراسرار قتل کی وارداتوں کو حل کرتے رہے ہیں۔‘ پولیس نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے تابڑ توڑ سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ٹیم کے آئرلینڈ سے میچ ہارنے کے بعد ٹیم کے کھلاڑیوں اور انتظامیہ میں کسی قسم کی تلخ کلامی یا الزام تراشی یا ہاتھا پائی نہیں ہوئی تھی۔
پولیس کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ سٹے بازی، میچ فکسنگ یا داؤد ابراہیم جیسے ناموں سمیت دیگر کئی افراد کے بارے میں بھی حرکت میں آچکا ہے لیکن یہ کام جمیکن پولیس نہیں بلکہ دیگر ادارے کر رہے ہیں۔ پولیس نے باب وولمر کی موت میں پاکستانی کھلاڑیوں کے ملوث ہونے کے بارے میں اطلاعات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ اب تک ایسے شواہد نہیں ملے ہیں جس سے کسی پاکستانی فرد پر انگلی اٹھ سکے۔ انضمام الحق، مشتاق احمد اور طلعت علی کے دوبارہ بیانات کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ان ابہام کو دور کرنے کے لئے تھے جو ان کے پہلے بیانات سے پیدا ہوئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وولمر کے جسمانی ٹشوز، موت کے وقت بدن میں موجود خوراک، خون اور دیگر رقیق مادوں کی رپورٹ آئندہ ہفتے تک آ سکے گی۔ پولیس نے تسلیم کیا کہ وہ جلد سے جلد نتیجہ بتانے کے لئے مختلف قسم کے دباؤ میں ہے لیکن وہ نہ توجلد بازی سے کام لے گی اور نہ ہی لیباریٹریز پر جلد سے جلد کام نمٹانے کے لئے دباؤ ڈالنے کے حق میں ہے۔ جمیکا کے پیگیسز ہوٹل میں واشنگٹن کے پاکستانی سفارتخانے کے دو افسران زاہد حفیظ چوہدری اور شاہد احمد بھی آ ٹھہرے ہیں۔ یہ دونوں رابطہ کاری اور کسی بھی قسم کی معلومات کے لیے پولیس کی مدد کے لیے آئے ہیں کیونکہ جمیکا میں پاکستانی سفارتخانہ یا قونصل خانہ نہیں ہے۔ یہ دونوں حضرات بھی دباؤ میں ہیں۔خواہ وہ کمرے سے باہر نکلیں یا ناشتے کے لئے باہر آئیں یا کہیں جائیں کیمرے اور مائیک انہیں دیکھ کر کھل جاتے ہیں اور وہ سب کچھ چھوڑ کر سوالات کے جوابات دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ادھر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ترجمان نے بھی اس بات کی تردید کی ہے کہ باب وولمر کے قتل سے پہلے پاکستانی کھلاڑیوں اور باب وولمر کے درمیان تو تو میں میں ہوئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||