BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 March, 2007, 17:00 GMT 22:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وولمر کے ساتھ جھگڑا نہ تکرار‘
ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ باب وولمر کی موت کا سبب کیا تھا
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ساتھ گئے ایک اہلکار نے اس بات کی تردید کی ہے کہ باب وولمر کے قتل سے پہلے پاکستانی کھلاڑیوں اور باب وولمر کے درمیان تو تو میں میں ہوئی تھی۔

ٹیم کے ترجمان پرویز میر نے کہا کہ سترہ تاریخ کو آئرلینڈ کے ہاتھوں پاکستان کی غیر متوقع شکست کے بعد پاکستانی ٹیم کے حلقے میں کوئی جھگڑا نہیں ہوا تھا بلکہ خاموشی تھی۔

سنیچر کے روز لندن روانگی سے قبل ٹیم مینیجر طلعت علی، نائب کوچ مشتاق احمد اور کپتان انضمام الحق سے پولیس نے دوبارہ گفتگو کی تھی۔

جمیکا کی پولیس کے ڈپٹی کمشنر مارک شیلڈز نے، جو کہ باب وولمر کی موت کی تفتیش کر رہے ہیں، اس بارے میں کہا کہ ان تینوں سے اضافی سوال و جواب محض ایک معمول کی بات تھی۔

لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر پہنچنے کے بعد پرویز میر نے کہا آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد کھلاڑی سکتے میں تھے۔


گزشتہ برسوں میں انضمام الحق اور باب وولمر کے تعلقات میں شکست و ریخت کا شکار رہے ہیں اور دونوں طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے الجھتے رہے ہیں، تاہم ترجمان نے ان خبروں کی ترید کی۔ ’ ڈریسنگ روم میں کسی قسم کا لڑائی جھگڑا نہیں ہوا۔ بس میں بھی کوئی جھگڑا نہیں ہوا بلکہ وہاں سکتے جیسی خاموشی تھی۔‘

اس کے بعد وولمر نے اپنے کمرے میں جانے سے قبل اپنی ٹیم کے کپتان انضمام الحق سے آخری بات کرتے ہوئے کہا ’ یہ دکھ کی بات ہے کہ ہم یوں الگ ہو رہے ہیں۔‘

پولیس باب وولمر کی موت کی تفتیش کے سلسے میں جن عوامل کا جائزہ لے رہی ہے ان میں آئرلینڈ کے ہاتھوں پاکستان کی شکست سے پیدا ہونے والی صورتحال بھی شامل ہے۔

پاکستانی ٹیم اور انتظامیہ اتوار کو دوپہر سے ذرا پہلے ہیتھرو ائر پورٹ پر پر اترے اور انہیں فوراً انتظار میں کھڑے ذرائع ابلاغ سے نمائندوں سے دور کر دیا گیا۔

محض وضاحت
 سنیچر کو پاکستانی ٹیم کے تین ارکان سے جو سوال و جواب کیے گئے ان کا مقصد ان ممکنہ ’غیر واضح‘ چیزوں کی ’وضاحت‘ کرانا تھا جن کی وضاحت ٹیم کے ارکان کے پہلے انٹرویوز میں نہیں ہو سکی تھی۔
مارک شیلڈز

باب وولمر کی لاش کو اس وقت تک کنگسٹن میں روک لیا گیا ہے جب تک کہ اس پر سرکاری تفتیش (انکوئسٹ) مکمل نہیں ہوجاتی۔

جمیکا میں پولیس کے ڈپٹی کمشنر مارک شیلڈز کا کہنا تھا کہ سنیچر کو پاکستانی ٹیم کے تین ارکان سے جو سوال و جواب کیے گئے ان کا مقصد ان ممکنہ ’غیر واضح‘ چیزوں کی ’وضاحت‘ کرانا تھا جن کی وضاحت ٹیم کے ارکان کے پہلے انٹرویوز میں نہیں ہو سکی تھی۔

اس موقع پر مارک شیلڈز نے کہا کہ ’ اس سارے عمل کے دوران ہمیں پاکستان ٹیم کی طرف سے مکمل تعاون ملا ہے۔‘

مشتاق احمد نے سکائی ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’پولیس نے بہت سے افراد سے مختلف سوال کیے۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں تھیں جو پولیس جاننا چاہتی تھی۔‘

مشتاق احمد نے مزید کہا ’ ہمیں پولیس کے طریقہ کار کے مطابق چلنا ہے، سب کچھ ٹھیک ہے۔ ہم پولیس کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ ہم یہاں سے جا رہے ہیں اور پولیس چاہتی تھی کہ وہ تمام معاملات صاف کر لے۔‘

’انشاء اللہ مجھے ایک سو دس فیصد یقین ہے: مشتاق احمد

انضمام نے بھی تصدیق کی انہوں نے دوبارہ پولیس سے بات کی ہے لیکن انہوں نے اس کی کوئی تفصیل بتانے سے انکار کیا۔’کسی نے مجھ سے سوال کیا اور میں نے اس کو جواب دے دیا۔ میں آپ کو یہ نہیں بتاؤں گا کہ سوال کیا تھا تاہم یہ کوئی پریشانی والی بات نہیں تھی۔‘

جمیکا میں سراغرسانوں کا خیال ہے کہ شاید باب وولمر اس فرد (یا ان افراد) کو جانتے تھے جس (جنہوں) نے انہیں مارا ہے کیونکہ ان کے کمرے میں کسی کے زبردستی گھسنے کے کوئی نشانات نہیں اور نہ ہی ان کے ساز وسامان میں سے کوئی شے چرائی گئی ہے۔

پاکستانی کھلاڑی پہلے ہی انگلیوں کے نشانات اور اپنے ڈی این اے کے نمونے پولیس کو دے چکے ہیں، تاہم مشتاق احمد پر اعتماد تھے کہ پاکستانی ٹیم میں سے کوئی بھی باب وولمر کے قتل میں ملوث نہیں ہو سکتا۔ ’انشاء اللہ مجھے (اس بات کا) ایک سو دس فیصد یقین ہے۔‘

گزشتہ اتوار کے روز کِنگسٹن کے پیگسس ہوٹل میں باب وولمر بیہوش پائے گئے تھے جس کے بعد انہیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا ہے۔

جمیکا کی پولیس نے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ باب وولمر کا ان کے ہوٹل کے کمرے میں گلا گھونٹ دیا گیا تھا۔

پاکستانی ٹیم(فائل فوٹو)کرکٹ ٹیم پر پابندی
وولمر پوسٹ مارٹم تک جمیکا نہ چھوڑیں: حکام
ہنسی کرونیئےکرونیئے سے اظہرتک
کرکٹ اور کرپشن پر پھر بحث کا آغاز
انضمام الحقجمیکا: آخری دن
پاکستان ٹیم کا ہوٹل میں آخری دن
’بھارت سوگوار‘
وولمر کے قتل کی خبر بھارت میں بھی زیر بحث
رِچرڈ پائبس کی اپیل
’پاکستان، کرکٹ کو نشانہ نہ بنائیں‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد