وولمر’قتل‘:ورلڈ کپ پسِ منظر میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر کے’قتل‘ اور اس ضمن میں ہونے والی تحقیقات نے عالمی کپ کو پیچھے دھکیل کر کر شہ سرخیوں میں جگہ بنا لی ہے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے اخبارات اور ٹی وی چینلز پر یہ خبر سب سے پہلی اور بڑی خبر کے طور پر موجود ہے۔ یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ اس معاملے میں اب’نیوز‘ سے زیادہ ’ویوز‘ شامل ہو چکے ہیں اور ہرطرف سے ہونے والے اظہارِ خیال نے اس نازک معاملے میں سنسنی خیزی کے عنصر کو اجاگر کر دیا ہے۔ برطانوی اخبار ’آبزرور‘ نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے میڈیا منیجر پی جے میر کے حوالے سے ٹیم کی روانگی سے قبل انضمام الحق۔ مشتاق احمد اور طلعت علی سے کی گئی پوچھ گچھ کی جو خبر دی ہے اس میں سب سے حیران کن بات یہ سامنے آئی ہے کہ طلعت علی نے باب وولمر کی موت کے بعد بارہویں سے سترہویں منزل پر کمرہ تبدیل کیا تھا لیکن ایک فرضی نام سے۔ طلعت علی کا کمرہ تبدیل کرنے کے بارے میں کہنا ہے کہ نہ صرف وہ بلکہ پوری ٹیم وولمر کی موت کے واقعے سے خوفزدہ ہوگئی تھی۔ یہی سوال انضمام الحق سے بھی کیا گیا کہ وہ بارہویں منزل سے پانچویں منزل پر کیوں آگئے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ ان حالات میں ٹیم کے دوسرے کھلاڑیوں کے ساتھ رہنا چاہتے تھے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ نے باب وولمر کی موت کے تانے بانے میچ فکسنگ سے جوڑے ہوئے ہیں۔ ہندوستان ٹائمز نے بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے حوالے سے خبر دی ہے کہ آئی سی سی کے انٹی کرپشن یونٹ کے سرکردہ اہلکار جیفری ریز پاکستان اور آئرلینڈ کے میچ کی وڈیو ریکارڈنگ دیکھیں گے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین شہریارخان کے اس بیان کو بھی نمایاں جگہ دی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ کرکٹ میں اب بھی ’سپاٹ فکسنگ‘ ہوتی ہے۔
جمیکا کے کثیرالاشاعت اخبار ” جمیکا گلینر،، نے باب وولمر قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے سینئر افسر مارک شیلڈز کے حوالے سے خبر دی ہے کہ پولیس یہ معمہ حل کرنے کے قریب پہنچ گئی ہے اور اسے مزید اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ جمیکا کے ایک اخبار ’جمیکا آبزرور‘ نے تحقیقاتی افسر مارک شیلڈز کا یہ بیان نمایاں طور پر شائع کیا ہے جس میں انہوں نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی ہے کہ تحقیقاتی عمل ’سی سی ٹی وی‘ کی کمزور ریکارڈنگ سے متاثر ہوا ہے۔ برطانوی اخبار’ٹیلیگراف‘ نے بھی کلوز سرکٹ کیمروں کی ’فوٹیج‘ کو اہمیت دیتے ہوئے سرخی لگائی ہے’ہم وولمر کے قاتل کیسے پکڑیں گے‘۔ ایک اور برطانوی اخبار’گارڈین‘نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین شہریار خان کے بیان کی روشنی میں تفصیلی خبر دی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وولمر کا ٹیم پر کنٹرول نہیں تھا اور تمام تر اختیارات انضمام الحق کو حاصل تھے۔ شہریارخان کے بیان میں یہ بات بھی موجود ہے کہ باب وولمر کھلاڑیوں کے لنچ، چائے اور میچ کے بعد نمازوں سے بھی پریشان تھے کیونکہ ان کے خیال میں اس سے وہ کرکٹ کے معاملات پر ٹیم سے بات نہیں کر پاتے تھے۔انہیں یہ بھی شکایت تھی کہ اکثر ٹیم میٹنگز میں یا تو انہیں شریک نہیں کیا گیا یا پھر ساری کارروائی ان کی سمجھ میں نہ آنے والی اردو میں ہوتی تھی۔ گارڈین کی اسی رپورٹ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے میڈیا منیجر پی جے میر کا بیان بھی شامل ہے جس میں انہوں نے شہریارخان کے بیان کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ باب وولمر اور انضمام الحق میں مکمل ہم آہنگی تھی۔ باب وولمر کی موت کی بازگشت سری لنکن میڈیا میں بھی سنی گئی ہے۔ کولمبو کے اخبار ’سنڈے آبزرور‘ نے پاکستانی کھلاڑیوں کے ڈی این اے ٹیسٹ اور فنگر پرنٹس لیے جانے سمیت تحقیقاتی عمل کی تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔ |
اسی بارے میں وولمر تحقیقات، پولیس پر دباؤ25 March, 2007 | کھیل پاکستانی کرکٹ ٹیم لندن پہنچ گئی25 March, 2007 | کھیل ’میچ فِکسنگ مستقل ہوتی ہے‘25 March, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||