BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 March, 2007, 03:18 GMT 08:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میری محنت ضائع گئی: جسٹس قیوم
جسٹس قیوم
جسٹس قیوم نے ’میچ فکسنگ‘ کے مسئلے پر تفصیلی تحقیقات کی تھیں
کرکٹ کے حوالے سے پاکستان میں ’میچ فکسنگ‘ کی تحقیقات کرنے والے ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس ملک قیوم نے کہا ہے کہ اس برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے گئے۔

جسٹس قیوم نے اٹھارہ ماہ پر محیط تحقیقات کے بعد سنہ دو ہزار میں میچ فکسنگ کے مسئلے پر اپنی تفصیلی رپورٹ جاری کی تھی اور انہیں کی تجویز پر سلیم ملک کے کرکٹ کھیلنے پر تاحیات پابندی لگا دی گئی تھی۔

انہوں نے وسیم اکرم، وقار یونس، انضمام الحق، مشتاق احمد اور سعید انور پر جرمانہ عائد کیا تھا اور ساتھ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کو مشورہ دیا تھا کہ وسیم اکرم اور مشتاق احمد کو کوئی ذمہ داری نہ سونپی جائے۔ مشتاق احمد پاکستان کی موجودہ کرکٹ کے ساتھ بطور اسسٹنٹ کوچ وابستہ ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے جسٹس قیوم نے کہا ’مجھے لگتا ہے کہ باب وولمر کی موت کے ساتھ ہی میری وہ ساری محنت ضائع ہو گئی ہے جو میں نے کرکٹ میں میچ فکسنگ کی موجودگی ثابت کرنے کے لیے کی تھی‘۔

شکوک و شبہات دور کیے جائیں
 وہ ہماری قومی ٹیم کے کوچ تھے اور ہمیں چاہیے کہ ان کی پراسرار موت کے حوالے سے جو بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں انہیں دور کیا جائے
جسٹس قیوم

انہوں نے کہا ’مجھے ان کی (وولمر) موت کے دکھ کے ساتھ ساتھ یہ مایوسی بھی ہے کہ کرکٹ میں بدعنوانی میں ملوث افراد سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی تجاویز پر عمل ہوا ہوتا تو اب میچ فکسنگ کے الزامات سامنے نہ آتے۔

جسٹس قیوم نے کہا کہ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وولمر کی ہلاکت کے حوالے سے جاری تفتیش کے لیے اپنی بھی ایک تحقیقاتی ٹیم جمیکا بھیجے، جو آئرلینڈ کے ہاتھوں پاکستان کی شکست کا بھی جائزہ لے۔ ’وہ ہماری قومی ٹیم کے کوچ تھے اور ہمیں چاہیے کہ ان کی پراسرار موت کے حوالے سے جو بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں انہیں دور کیا جائے‘۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اینٹی کرپشن یونٹ قائم کر رکھا ہے لیکن کھیل کو صاف کرنے کے لیے اسے متحرک ہونا پڑے گا۔

جسٹس قیوم نے کہا کہ ان کی تحقیقاتی رپورٹ میں دی گئی تجاویز پر پاکستان میں عمل ہونا چاہیے اور ان کی روشنی میں کھلاڑیوں کے اثاثوں کی سالانہ جانچ پڑتال ہونی چاہیے تاکہ ان کے ذرائع آمدنی معلوم ہو سکیں‘۔

پاکستانی کرکٹ کوچ باب وولمر اٹھارہ مارچ کو جمیکا میں اپنے ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائے گئے تھے۔ جمیکن پولیس کے مطابق وولمر کی موت گلا دبانے سے ہوئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وولمر قتل کیس کی تحقیقات میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

وولمر قتل کیس کی تفتیشی ٹیم میں پاکستانی اہلکار کی شمولیت کی درخواست کی گئی ہے

جمیکن پولیس نے پاکستانی کرکٹ ٹیم اور آفیشلز کی وطن روانگی سے پہلے فنگر پرنٹ اور ڈی این اے کے نمونے بھی حاصل کیے تھے۔ تاہم جمیکن پولیس حکام کا کہنا تھا کہ یہ معمول کی کارروائی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے جمیکن پولیس سے کہا ہے کہ وہ ’وولمر کیس‘ کی تحقیقات جلد از جلد مکمل کرنے کی کوشش کرے۔

پی سی بی کے چیئرمین نسیم اشرف نے کہا کہ کرکٹ بورڈ نے پاکستانی محکمہ خارجہ کے ذریعے جمیکن حکام سے درخواست کی ہے کہ وولمر کیس کے حوالے سے جاری تحقیقات میں ایک سینئر پاکستانی اہلکار کو بھی تفتیشی ٹیم میں شامل کیا جائے۔

وولمروولمر کا ’استعفیٰ‘
ایک مختلف ٹیم کی کوچنگ
یونس خان’ٹیم کو آگے بڑھنا ہے‘
یونس خان پہلے کھلاڑی جو وطن واپس پہنچے ہیں
مقابلے پسِ منظر میں
ورلڈ کپ وولمر’قتل‘ کے پیچھے چھپ گیا
رِچرڈ پائبس کی اپیل
’پاکستان، کرکٹ کو نشانہ نہ بنائیں‘
کوچ باب وولمر’کرونئے اور وولمر‘
’وولمر کو کوچ رکھتے وقت سوچنا چاہیے تھا‘
ہنسی کرونیئےکرونیئے سے اظہرتک
کرکٹ اور کرپشن پر پھر بحث کا آغاز
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد