ملک پر پابندی، وضاحت طلب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے وضاحت طلب کی ہے کہ اس نے ملک کے نامور کرکٹر سلیم ملک پر تاحیات کرکٹ کھیلنے پر پابندی کس قانون کے تحت لگائی ہے۔ انیس سو اٹھانوے میں میچ فکسنگ کے الزامات کی تحقیقات کرنے والے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد قیوم پر مشتمل کمیشن نے سلیم ملک پر ساری عمر کے لیے کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگانے کی سفارش کی تھی۔ سلیم ملک نے سنہ دو ہزار دو میں اس پابندی کے خلاف عدالت عظمی سے رجوع کیا تھا۔ جمعرات کو لاہور میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری، تصدق حسین جیلانی اور سید جمشید علی پر مشتمل بینچ نے اس مقدمہ کی سماعت کی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے وکیل تفضل ایچ رضوی نے عدالت عظمی سے کہا کہ جب سلیم ملک پر پابندی لگائی گئی تو ان کا کیرئیر ختم ہوچکا تھا اور یہ کہ عدالتی کمیشن کے فیصلہ کو کسی سول دعوی کے ذریعے چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ سلیم ملک نے تو ابھی تک ان پر عائد کیا گیا جرمانہ بھی ادا نہیں کیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ قتل کے مجرم کو بھی تاحیات قید کی سزا نہیں دی جاتی بلکہ عمر قید دی جاتی ہے تو میچ فکسنگ کے الزام میں تاحیات سزا کیسے دی جاسکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سلیم ملک کا پاکستان ٹیم میں کیرئیر ختم بھی ہوگیا ہے تو وہ کسی اور ملک جا کر کرکٹ کھیل سکتے ہیں اور کوچ کے طور پر کام کرسکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ تاحیات پابندی کے خلاف فیصلہ دیتی ہے اور سلیم ملک گزشتہ برسوں ان پر لگائی گئی پابندی کے خلاف پاکستان کرکٹ بورڈ پر ہرجانہ کا دعوی کردیں تو بورڈ کو انہیں ہرجانہ دینا پڑے گا۔ اب اس مقدمہ کی سماعت جمعہ تک ملتوی کردی گئی ہے۔ |
اسی بارے میں ’اخباری رپورٹ سے کچھ نہیں ہوگا‘03 February, 2004 | کھیل ’کرکٹ میچ اب فکس نہیں ہوتے‘12 December, 2005 | کھیل سلیم ملک: کرکٹ اکیڈمی کا منصوبہ 09 June, 2004 | کھیل ’مقدموں میں مدد ملےگی‘ | کھیل سلیم ملک اپیل کرینگے10 November, 2006 | کھیل کپتان نے پیسوں کی پیشکش کی: گِبس12 October, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||