BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 February, 2004, 14:50 GMT 19:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اخباری رپورٹ سے کچھ نہیں ہوگا‘

وسیم اکرم
وسیم اکرم
پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ تاثر مسترد کردیا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے شعبۂ انسداد بدعنوانی (اینٹی کرپشن یونٹ) کی جانب سے بعض پاکستانی کھلاڑیوں کی مبینہ مشکوک سرگرمیوں اور ناقص کارکردگی کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام کو لکھے جانے والے خطوط پر مبنی اخباری رپورٹ کے بعد نیا پنڈورا بکس کھل جائے گا۔

بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو رمیز راجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اس رپورٹ سے کوئی نئی بحث چھڑ سکتی ہے۔

رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کی تحقیقات کرنے والے جسٹس بھنڈاری کمیشن نے تمام دستیاب شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کرکے اپنی رپورٹ مرتب کردی تھی اب اس مرحلے پر ان باتوں کا دوہرانا حیران کن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ اب جبکہ پاکستان اور بھارت کرکٹ کی ایک سیریز کھیلنے والے ہیں اس طرح کی خبروں کا مقصد سنسنی پیدا کرنا ہو۔

رمیز راجہ نے کہا کہ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ نے جن اطلاعات کا ذکر کیا ہے وہ کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر محض مختلف ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔

پاکستان کے انگریزی اخبار دی نیوز نے انکشاف کیا ہے کہ اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ لارڈ پال کنڈن نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ توقیرضیاء کو ستمبرسن دو ہزار دو میں لکھے گئے خطوط میں مراکش اور نیروبی میں کھیلے گئے ایک روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی اور دو کھلاڑیوں کی ایک مشکوک شخص سے ملاقاتوں کا ذکر کیاتھا۔

اخبار کے مطابق پال کنڈن نے یہ بات بھی واضح کردی تھی کہ ان کی فراہم کردہ معلومات متعدد ذرائع سے حاصل کردہ ہیں اور ان کے پاس کسی بھی الزام کا ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔

اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ نے کرکٹ کے عالمی کپ کے بارے میں جسٹس بھنڈاری رپورٹ پر یقین نہیں کیا جس میں پاکستانی کھلاڑیوں کو بدعنوانی کے تمام تر الزامات سےبری قرار دے دیا گیا تھا۔

اخبار کا کہنا ہے کہ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے جسٹس ملک محمد قیوم کی طرف سے جرمانے کی سزا کے خلاف جو اپیل کی تھی اس پر لاہور کی عدالت عظمیٰ (ہائی کورٹ) نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو یہ معاملہ جلد نمٹانے کی ہدایت کی تھی لیکن اس وقت کے کرکٹ بورڈ کے سربراہ توقیرضیا سے ملاقات کے بعد وسیم اکرم نے نہ صرف یہ کہ اپنی اپیل پر اصرار نہیں کیا بلکہ بین الاقوامی کرکٹ کو بھی خیرباد کہہ دیا تھا۔

آئی سی سی نے اخبار کی اس رپورٹ پر تبصرے سے انکار کردیا ہے۔ آئی سی سی کا مؤقف ہے کہ چیف ایگزیکٹیو میلکم اسپیڈ نے کہا ہے کہ یہ اینٹی کرپشن یونٹ کا معاملہ ہے تاہم آئی سی سی پابند ہے کہ بدعنوانی سے کرکٹ کو سے نقصان نہ پہنچے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد