’تفتیش میں وقت لگ سکتا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمیکن پولیس نے اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر کے قتل کی تفتیش کے نتیجہ خیز ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔ ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمیکن پولیس کے ڈپٹی کمشنر مارک شیلڈز نے ان خبروں کی پر زور تردید کی کہ وولمر کے قاتلوں کی شناخت ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب غلط ہے اور قیاس آرائیاں اور افواہ سازی کرنے والے قتل کی اس واردات کی جاری تفتیش میں انتہائی غیر مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ ’پولیس ابھی تک کسی کا نام لینے کے قابل نہیں ہوئی ہے‘۔ مارک شیلڈز کا کہنا تھا کہ وولمر قتل کیس میں ذرائع ابلاغ کی طرف سے کی جانے والی قیاس آرائیاں مقتول کے اہل خانہ کے لیے پریشانی کا باعث ہیں۔
انہوں نے صحافیوں کا بتایا کہ اب تک کی تفتیش میں کئی ممکنہ مشتبہ افراد اور کارآمد گواہ سامنے آئے ہیں، لیکن معلومات اکٹھی کرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ پولیس پیگیسز ہوٹل میں لگے کلوز سرکٹ ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ کا جائزہ لینے میں بھی مصروف ہے۔ مارک شیلڈز کا کہنا تھا ’ہم اس کام کو اچھی طرح اور پیشہ وارانہ انداز میں کر رہے ہیں اور ہو سکتا ہے آخر میں ہم کسی مشتبہ فرد کی شناخت کرنے میں کامیاب ہو جائیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اس امکان کے تحت وولمر کے کیمپوٹر کی ’ہارڈ ڈرائیو‘ کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ اس سے تفتیش میں شاید کوئی مدد مل جائے۔ یہ تحقیق بھی کی جا رہی ہے کہ کہیں کسی اور نے وولمر کے کمرے کی کارڈ والی چابی استعمال نہ کی ہو۔
پولیس کا خیال ہے کہ وولمر کے قاتل ان کے جاننے والے تھے، کیونکہ ان کے کمرے میں کسی کے زبردستی گھسنے کے نہ تو کوئی آثار ہیں اور نہ ہی ان کی کوئی چیز چرائی گئی ہے۔ باب وولمر اٹھارہ مارچ کی صبح ہوٹل پیگیسز کے کمرہ نمبر 374 میں بے ہوش پائے گئے تھے۔ انہیں اسی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کی موت واقع ہو چکی ہے۔ بعد میں پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں کہا گیا کہ وولمر کی موت ’مینوئل سٹرینگولیشن‘ یعنی ہاتھوں سے گلا دبانے سے واقع ہوئی ہے۔ |
اسی بارے میں ’تاحال کوئی شک سے خارج نہیں‘26 March, 2007 | کھیل ’میچ فِکسنگ مستقل ہوتی ہے‘25 March, 2007 | کھیل لاعلم تھے کہ باب کو خطرہ تھا: فیملی24 March, 2007 | کھیل ’پاکستان، کرکٹ کو نشانہ نہ بنائیں‘24 March, 2007 | کھیل ’ کھلاڑی یا اہلکار ملوث نہیں‘23 March, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||