BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 May, 2007, 18:07 GMT 23:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وولمر موت، ابہام، میڈیا ذمہ دار‘

جمیکا پولیس نے ابتدا میں کہا تھا کہ وولمر کا گلا گھونٹ دیا گیا
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر کی موت کی تحقیقات کے سلسلے میں جمیکا جانے والی پاکستانی ٹیم کے ارکان کی رائے ہے کہ وولمر کی موت کے بارے میں پائے جانے والے ابہام اور غلط فہمیوں کی ذمہ داری بہت حد تک میڈیا پر عائد ہوتی ہے۔

ٹیم کی رپورٹ کے حوالے سے وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ میڈیا نے پولیس کی تصدیق کے بغیر وولمر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کی بنیاد پر اسے قتل قرار دے دیا۔

پولیس گروپ کے دو سینئیر افسروں میر زبیر محمود اور سید کلیم امام پر مشتمل یہ ٹیم دس اپریل کو جمیکا پہنچی تھی اور سولہ دن قیام کے دوران باب وولمر کے قتل میں ہونے والی تفتیش کا بہت قریب سے مشاہدہ کرنے کے بعد چھبیس اپریل کو وطن واپس پہنچی تھی۔

ان تفتیش کاروں کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی درخواست پر وزارت داخلہ نے جمیکا روانہ کیا تھا اور واپسی پر انہوں نے اپنی رپورٹ بھی وزارت داخلہ کے حوالے کردی ہے۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق اپنی اس رپورٹ میں تفتیشی ٹیم کے ارکان نے واضح کیا ہے کہ ان کے مینڈیٹ میں وولمر کی موت کی تحقیقات شامل نہیں تھیں بلکہ وہ ایک رابطہ کار کی حیثیت میں جمیکا گئے تھے تاکہ باب وولمر کے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ کی حیثیت میں گزرے وقت کے بارے میں تفتیش کاروں کے سوالات کے جواب تلاش کرنے میں ان کے ساتھ تعاون کریں۔

مینڈیٹ: موت کی تحقیقات نہیں
 وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق اپنی اس رپورٹ میں تفتیشی ٹیم کے ارکان نے واضح کیا ہے کہ ان کے مینڈیٹ میں وولمر کی موت کی تحقیقات شامل نہیں تھیں بلکہ وہ ایک رابطہ کار کی حیثیت میں جمیکا گئے تھے تاکہ باب وولمر کے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ کی حیثیت میں گزرے وقت کے بارے میں تفتیش کاروں کے سوالات کے جواب تلاش کرنے میں ان کے ساتھ تعاون کریں۔
تاہم اس دوران ٹیم کے ارکان نے اپنے طور پر مختلف زاویوں سے اس واقعہ اور اس کی تحقیقات کا تفصیلی تجزیہ کیا۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میڈیا نے اس موت کی تحقیقات کو بری طرح متاثر کیا ہے اور اس کی ذمہ داری بہت حد تک باب وولمر کی ابتدائی پوسٹ مارٹم کرنے والی میڈیکل ٹیم پر عائد کی جا سکتی ہے جس نے پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس کے حوالے کرنے اور پولیس کی ماہرانہ رائے آنے سے پہلے ہی میڈیا کو غیراعلانیہ طور پر جاری کر دی جس میں اس موت کو گلا دبا کر قتل ثابت کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق پوسٹ مارٹم کرنے والوں کو اس بات کا ہرگز اختیار نہیں تھا کہ وہ میڈیکل شواہد کی بنیاد پر، پولیس کی رائے کے بغیر اس موت کو قتل قرار دے دیتے۔ لیکن جب ایک بار یہ معاملہ باہر نکل گیا پھر پولیس سمیت کوئی اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ اس میڈیکل رپورٹ کی تردید کر سکے۔

پاکستانی تحقیق کاروں کی رپورٹ میں اس پوسٹ مارٹم رپورٹ کا حوالہ دے کر بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹروں نے جب باب وولمر کے گلے کے اندرونی حصے کا جائزہ لیا تو وہاں انہیں دو نازک ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ملیں جس سے انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ باب وولمر کا گلا گھونٹا گیا تھا۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ گلے کے بیرونی حصے پر دباؤ کا کوئی نشان نہیں تھا جو ایک غیرمعمولی صورتحال ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ نکلتا ہے کہ قاتل اتنا ماہر تھا کہ اس نے وولمر کا گلا دبانے کے لئے دو انگلیاں اور ایک انگوٹھا استعمال کیا اور وہ بھی اتنی نفاست سے کہ گلے پر انکا کوئی نشان نہیں چھوڑا۔

باب وولمر کی عمومی صحت
 پاکستانی تفتیش کاروں کی رپورٹ میں باب وولمر کی عمومی صحت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کی مجموعی صحت بہت اچھی نہیں تھی۔ انکا دل بڑھا ہوا تھا اور وہ سانس کے عارضے میں بھی مبتلا تھے۔ اور موت کے بعد ہونے والی طبی تحقیق سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اس رات باب وولمر کو دل کا دورہ بھی پڑا تھا۔
پاکستانی تفتیش کاروں کی رپورٹ میں باب وولمر کی عمومی صحت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کی مجموعی صحت بہت اچھی نہیں تھی۔ انکا دل بڑھا ہوا تھا اور وہ سانس کے عارضے میں بھی مبتلا تھے۔ اور موت کے بعد ہونے والی طبی تحقیق سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اس رات باب وولمر کو دل کا دورہ بھی پڑا تھا۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں پاکستانی پولیس افسروں نے بتایا ہے کہ اس زاویے سے انہوں نے اس کیس کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر سے طویل جرح بھی کی ہے تاہم وہ خود کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ ویسے بھی اصولاً کسی کو بھی اس موت کے بارے میں کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچنا چاہیئے تھا کیونکہ ابھی اس میڈیکل رپورٹ کی مزید دو مختلف ٹیمیں جائزہ لے کر اپنی رائے دیں گی۔

اس کے بعد کیمیادان اس رپورٹ اور اس سے متعلق اجزاء کا معائنہ کرکے اپنی رائے دیں گے اور اس کے بعد اس موت کی وجوہ کے بارے میں وثوق سے کوئی بات کہی جا سکے گی۔ لہذا اس بات کا امکان موجود ہے کہ صرف ایک پوسٹ مارٹم کی بنیاد پر بنائی گئی یہ رائے یہ تین مزید رپورٹس آنے کے بعد تبدیل کر لی جائے۔

پاکستانی تفتیش کاروں نے جمیکا میں اپنے قیام کے دوران جمیکا کے پولیس حکام اور دیگر تفتیش کاروں کے رویے کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ انہیں اس دوران ہر قسم کا تعاون فراہم کیا گیا۔

باب کی یاد میں
تعزیتی تقریب کی تصاویر
جل وولمربیوہ کی اپیل
’باب وولمر کی ای میلز عام نہ کی جائیں‘
باب وولمر ’سانپ کا زہر نہیں‘
پولیس کے مطابق وولمر کو یہ زہر نہیں دیا گیا
پی جے میرمیر کا نیا انکشاف
مشتاق نےوولمر کو شراب کی بوتلیں دی تھیں
 انضمام الحقالزامات بے بنیاد ہیں
تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے انضمام الحق کی تردید
 مشتاق احمد مشتاق کا بیان
جمیکن پولیس شیمپین کی بوتلوں سے واقف
باب وولمرنیا انکشاف
’وولمر کو گلا گھونٹ کر نہیں مارا گیا‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد