BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 May, 2007, 10:41 GMT 15:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پولیس کو بوتلوں کا علم ہے‘

 مشتاق احمد
مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ کاؤنٹی کرکٹ کیھلنے کے دوران انہیں کئی بار شیمپین کی بوتلیں تحفے میں ملتی ہيں جنہيں وہ دوسروں کو دے دیتے ہیں
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق اسسٹنٹ کوچ مشتاق احمد نے سابق میڈیا منیجر پی جے میر کے شیمپئن کی بوتلوں کے بارے میں تازہ ترین بیان کو سنسنی پھیلانے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمیکن پولیس کو اس تمام واقعہ کا بخوبی علم ہے۔

ایک برطانوی اخبار نے کہا ہے کہ باب وولمر کی موت شراب کے ذریعے دیے گئے زہر سے ہوئی ہے۔ اسی ضمن میں پی جے میر نے ایک نجی ٹی وی چینل پر، جس کے لیے وہ کام کرتے ہیں، یہ کہا ہے کہ شراب کی جو بوتلیں وولمر کے کمرے سے برآمد ہوئی ہیں وہ انہیں مشتاق احمد نے دی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ مشتاق کو بھی یہ بوتلیں کسی نے تحفے میں دی تھیں۔

مشتاق احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شیمپئن کی بوتلوں والا پورا واقعہ جمیکن پولیس کو اس وقت بتا دیا تھا جب مشتاق نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا۔ وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس مرحلے پر پی جے میر نے یہ بات کیوں کی ہے۔

مشتاق احمد نے اس واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’ تمام کھلاڑیوں کے ایک مشترکہ دوست عبدل کو ٹیم کے ہوٹل میں کمرہ نہیں مل رہا تھا تو ٹیم کے مقامی ٹرینر اسٹیو نے انہیں کمرہ دلانے میں مدد کی تھی جس پر خوش ہوکر عبدل ویسٹ انڈیز سے روانہ ہوتے وقت شیمپئن کی دو بوتلیں ہوٹل کے استقبالیہ پر چھوڑ گئے تھے‘۔

مشتاق احمد نے کہا کہ جب ان کی ناک پر گیند لگی تھی تو تمام کھلاڑی ان کی خیریت معلوم کرنے کے لیے ان کے کمرے میں موجود تھے اسی دوران باب وولمر بھی وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے جب کمرے میں شیمپئن کی بوتلیں دیکھیں تو اپنی روایتی بذلہ سنجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بوتلیں تمہارے کمرے میں کیا کررہی ہیں جس پر انہیں بتایا گیا کہ یہ اسٹیو کے لیے ہیں جس پر باب نے پوچھا کہ کیا وہ یہ بوتلیں لے جائیں؟ تو مشتاق احمد نے کہا کہ انہیں کیا اعتراض ہوسکتا ہے بلکہ انہوں نے ٹیم کے فزیو اور ٹرینر لفسن اور مرے اسٹیونسن سے بھی کہا کہ وہ بھی ان بوتلوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔مشتاق نے بتایا کہ یہ واقعہ جمعرات کا ہے جبکہ وولمر کی موت اتوار کو ہوئی تھی۔

مشتاق احمد کے مطابق ان کی کاؤنٹی سسیکس بھی پانچ وکٹوں یا سنچری پر کھلاڑی کو شیمپئن کی بوتل لازماً دیتی ہے لیکن وہ ملنے والی بوتلیں کسی اور کو دے دیتے ہیں کیونکہ وہ مے نوشی نہیں کرتے۔

مشتاق احمد نے کہا کہ چونکہ پی جے میر نے ان پر براہ راست الزام عائد نہیں کیا ہے لہذا وہ ان کے خلاف قانونی کاروائی نہیں کرسکتے لیکن اگر کسی نے اس ضمن میں غیرذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور انہوں نے سمجھا کہ انہیں براہ راست باب وولمر کی موت کے معاملے میں ملوث کیا جارہا ہے تو وہ اپنی ساکھ اور عزت کے لیے عدالت سے رجوع کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد