وولمرکیس: رپورٹ وزارت داخلہ میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
باب وولمر قتل کیس کی تفتیش کے سلسلے میں جمیکا میں پاکستانی تحقیقاتی ٹیم نے اپنی رپورٹ وزارت داخلہ کے حوالے کر دی ہے۔ حکومت پاکستان نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر کے قتل کی تفتیش کے سلسلے میں ڈی آئی جی انوسٹی گیشن میر زبیر اور ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے کلیم امام کو اپریل کے پہلے ہفتے میں جمیکا بھیجا تھا۔ میر زبیر نے بی بی سی سے مختصر بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے اپنی رپورٹ وزارت داخلہ کو دے دی ہے لیکن انہوں نے رپورٹ کے مندرجات کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں وزارت داخلہ ہی باضابطہ بیان جاری کرسکتی ہے۔ میر زبیر نے اس بارے میں بھی کچھ بتانے سے انکار کردیا کہ ان کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق باب وولمر کو کیسے ہلاک کیا گیا۔ ڈی آئی جی انوسٹی گیشن نے کہا کہ ان کے جمیکا جانے کا مقصد وہاں جاری تحقیقات میں مقامی پولیس کے ساتھ تعاون کرنا تھا اور وہ اس میں باقاعدہ شریک رہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کام ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور وہ جمیکا کی پولیس سے رابطے میں ہیں۔ باب وولمر کی موت قتل قرار دیئے جانے کے بعد جمیکا کی پولیس نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو بھی اپنی تحقیقات میں شامل کرتے ہوئے کنگسٹن میں روک لیا تھا تاہم بعد میں اسے وطن جانے کی اجازت ملی۔ حکومت پاکستان نے واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے دو افسران کو بھی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے جمیکا بھیجا تھا۔ | اسی بارے میں وولمر، لاش حوالے کرنے کا فیصلہ24 April, 2007 | کھیل ’وولمر کو سانپ کا زہر نہیں دیا گیا‘27 April, 2007 | کھیل ’باب وولمر کو پہلے زہر دیا گیا‘29 April, 2007 | کھیل وولمر کی آخری رسومات05 May, 2007 | کھیل وولمر کے قتل کی تحقیقات ملتوی20 April, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||