 | | | باب وولمر کو اٹھارہ مارچ کو ان کے ہوٹل کے کمرے میں مردہ پایا گیا تھا |
جمیکا میں حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر کی لاش کو حوالگی میں رکھنے کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے اور اسے کو اب جنوبی افریقہ میں وولمر کے خاندان والوں کو بھجوایا جا رہا ہے۔ اٹھاون سالہ باب وولمر کو اٹھارہ مارچ کو جمیکا کے شہر کنگسٹن میں ان کے ہوٹل کے کمرے میں مردہ پایا گیا تھا۔ غصل خانے میں الٹی اور دست کے اثار تھے لیکن بعد میں جمیکا پولیس نے کہا تھا کہ وولمر کو قتل کیا گیا ہے اور قتل کی تفتیش شروع کر دی تھی۔  |  جمیکا کی وزارت قومی سلامتی کے بیان کے مطابق لاش کو چھوڑنے کا فیصلہ پولیس کے نائب کمشنر مارک شیلڈز اور کورونر کی ملاقات کے بعد کیا گیا  |
ان کی موت کے بارے میں پولیس تحقیقات کی سماعت (یعنی ’اِنکویسٹ‘) پیر تئیس مارچ کو ہونی تھی لیکن حکام نے اس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا تاہم اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔ برطانوی پولیس سکاٹ لینڈ یارڈ کے چار افسر اس وقت جمیکا میں ہیں جو کہ جمیکہ کی حکومت کی درخواست پر اس تفتیش میں مدد کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان نے بھی دو پولیس افسران کلیم امام اور میر زبیر کو اس تفتیش کے سلسلے میں جمیکا بھیجا گیا ہے۔ فرانس کے بھی دو فورینزِک ماہرین اس تفتیش میں کام کر رہے ہیں۔ جمیکا کی وزارت قومی سلامتی کے بیان کے مطابق لاش کو چھوڑنے کا فیصلہ پولیس کے نائب کمشنر مارک شیلڈز اور کورونر کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
|