BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 April, 2007, 15:13 GMT 20:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وولمر کی ای میلز عام نہ کی جائیں‘
باب وولمر کی بیوہ جل اپنے دونوں بیٹوں کے ہمراہ
باب وولمر پاکستان کے کپتان انضمام کو ناپسند نہیں کرتے تھے: جل
باب وولمر کی بیوی نے کہا ہے کہ باب وولمر کے مبینہ طور پر قتل سے پہلے جو ای میلز انہوں نے بھیجی تھیں ان کو کبھی عام نہ کیا جائے۔

جل وولمر نے کہا کہ پولیس کے پاس ابھی تک باب وولمر کا لیپ ٹاپ ہے اور وہ اس کے ذریعے تحقیقات کر رہی ہے۔

انہوں نے دی ٹائمز اخبار کو بتایا کہ ’انہوں نے وہ ای میلز پڑھی ہیں جو اس (باب وولمر) نے مجھے اور دوسروں کو بھیجی تھیں۔‘

’یہ سب ذاتی نوعیت کی ای میلز ہیں اور میں کبھی بھی عام لوگوں کو یہ پڑھنے نہیں دوں گی۔‘

پولیس جن نکات پر تحقیق کر رہی ہے ان میں سے ایک کرکٹ میں کرپشن بھی ہے۔

تاہم مسز وولمر نے کہا کہ اگرچہ ان کے شوہر نے اپنی ای میل میں کہا تھا کہ وہ پاکستان کی آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد ’واقعی مایوس‘ہیں لیکن انہوں نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا تھا کہ وہ ڈرے ہوئے ہیں یا کوئی میچ فکسنگ ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا جمیکا جانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور نہ ہی انہیں بتایا گیا ہے کہ ان کے شوہر کی لاش کب ان کے خاندان کے حوالے نجی طور پر آخری رسومات کے لیے دی جائے گی۔ لیکن وہ کنگسٹن میں پولیس کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں ہیں۔

باب وولمر کے لیے تقریب
باب وولمر اپنے کمرے میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے

انہوں نے کہا کہ ’ظاہر ہے میں مارک شیلڈز سے نہیں ملی لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ تحقیقات ٹھیک طریقے سے کر رہے ہیں۔‘

مسز وولمر نے کہا کہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ وولمر پاکستان کے کوچ بنیں۔

’باب نے مجھے کہا تھا کہ وہ علی باقر اور جنوبی افریقہ کے ساتھ کوچنگ کرنے کے بعد کسی بھی بین الاقوامی ٹیم کی کوچنگ نہیں کریں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر کے پاکستان کے کپتان انضمام الحق کے ساتھ تعلقات ہمیشہ سے آسان نہیں تھے۔

انہوں نے کہا باب انضمام کو ناپسند نہیں کرتے تھے اور ان کے موڈ بدلتے رہتے تھے۔

مسز وولمر نے کہا کہ ان کے شوہر ورلڈ کپ کی ڈائری نہیں لکھ رہے تھے۔ مجھے معلوم ہے کہ باب پاکستان میں اپنے قیام کے متعلق کچھ لکھنا چاہتے تھے، لیکن وہ ان کی پاکستان کی ٹیم کی کوچنگ کی معیاد ختم ہونے کے بعد کا منصوبہ تھا۔

’اب یہ اچھا ہو گا کہ اس کتاب کی اشاعت نہ ہو۔ اگر اس سے کوئی پریشانی ہوتی ہے تو یہ اشاعت کی ضرورت نہیں ہے۔‘

یونس خان’ٹیم کو آگے بڑھنا ہے‘
یونس خان پہلے کھلاڑی جو وطن واپس پہنچے ہیں
رِچرڈ پائبس کی اپیل
’پاکستان، کرکٹ کو نشانہ نہ بنائیں‘
باب وولمر تعزیت، خراج تحسین
وہ پاکستانی ٹیم کی دنیا تھے: ڈکی برڈ
وولمروولمر کا ’استعفیٰ‘
ایک مختلف ٹیم کی کوچنگ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد