وولمر کی یاد میں لاہور میں تقریب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پی سی بی کے سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف، پاکستانی ٹیم کے سبکدوش ہونے والے کپتان انضمام الحق، کرکٹ ٹیم کے متعدد کھلاڑیوں اور اعلٰی حکام سمیت قریباً ساڑھے تین سو افراد نے سابق کوچ باب وولمر کی یاد میں سیکرڈ ہارٹ کیتھیڈرل لاہور میں ایک دعائیہ تقریب میں شرکت کی ہے۔ ایک گھنٹے تک جاری رہنے والے اس’سروس‘ کا انعقاد پاکستان کرکٹ بورڈ نے کیا تھا۔ تقریب کے دوران باب وولمر کی ایک بڑی تصویر کے سامنے شمعیں روشن کیں گئی تھیں جبکہ انضمام الحق سمیت دیگر افراد نے تصویر کے پاس گلدستے رکھ کر آنجہانی کوچ کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر انضمام الحق کا کہنا تھا کہ باب وولمر کی موت کا دکھ کھلاڑیوں سے زیادہ صرف ان کے اپنے خاندان کو ہے۔ کرکٹ بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف نے باب وولمر کو ایک عظیم انسان قرار دیا اور کہا کہ پاکستانی قوم ان کے موت سے غم میں ڈوب گئی ہے۔ باب وولمر کی یاد میں جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں بھی بدھ کو ایک سروس کا انعقاد ہوگا۔ باب وولمر نے جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کی بھی کوچنگ کی تھی اور ان کی اہلیہ اب بھی وہیں قیام پذیر ہیں۔ باب وولمر سنہ دو ہزار چار سے پاکستان کے کوچ تھے اور ورلڈ کپ میں پاکستان کی آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد اپنے ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائے گئے تھے۔ جمیکا کی پولیس نے بعد میں یہ کہا تھا کہ انہیں گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا۔
دریں اثناء پاکستان باب وولمر کے قتل کی تفتیش میں مدد کے لیے جمیکا میں اپنے دو سینئر افسر بھی بھیج رہا ہے۔ گزشتہ روز جمیکن پولیس نے باب وولمر کے قتل کی تفتیش کے سلسلے میں سکاٹ لینڈ یارڈ کی تعاون کی پیشکش قبول کر لی تھی اور توقع ہے کہ اگلے ہفتے کے اوائل میں سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین کی ایک ٹیم جمیکا پہنچ جائے گی۔ اس ٹیم کا کام زیادہ تر مشاورت کا ہوگا اور اس کے ارکان دیگر گواہوں کے علاوہ باب وولمر کے اہلِ خانہ سے بھی بات چیت کریں گے۔ ادھر جمیکا کی پولیس اس ہوٹل کے کمرے کی راہ داری میں نصب سی سی ٹی وی سے حاصل شدہ فلم کا معائنہ کر رہی ہے جہاں باب وولمر کو قتل کیا گیا۔ باب وولمر کے کمپوٹر کی ہارڈ ڈرائیو کا معائنہ بھی جاری ہے۔ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ غالباً باب وولمر اپنے قاتل یا قاتلوں سے آگاہ تھے۔ ان کے ہوٹل کے کمرے میں زبردستی کسی کے گھسنے کے کوئی نشانات نہیں ملے اور نہ ان کی کوئی چیز چوری کی گئی۔ ابتدائی طور پر کہا گیا ہے کہ وولمر کو گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا لیکن برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے وولمر کے گلے پر بظاہر نشانات نہ ہونے کے سبب اس خیال کو مشکوک قرار دیا ہے۔ اخبار نے یہ مفروضہ بھی پیش کیا ہے کہ ممکن ہے باب وولمر قدرتی موت مرے ہوں البتہ بعض جگہوں سے یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ شاید انہیں زہر دیا گیا۔ |
اسی بارے میں وولمر کیس: تفتیش میں مدد کی اپیل28 March, 2007 | کھیل ’تفتیش میں وقت لگ سکتا ہے‘27 March, 2007 | کھیل لاعلم تھے کہ باب کو خطرہ تھا: فیملی24 March, 2007 | کھیل وولمر کوچ رہنا چاہتے تھے: شہریار24 March, 2007 | کھیل ورلڈ کپ جاری رہے گا: آئی سی سی23 March, 2007 | کھیل پولیس کو وولمر کے قاتلوں کی تلاش23 March, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||