BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 April, 2007, 06:46 GMT 11:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وولمر:سانپ کا زہر نہیں دیا گیا‘

باب وولمر کے ہوٹل کا کمرے کے باہر
پولیس کا اب کہنا ہے کہ سکیورٹی کیمروں پر وولمر کے کمرے سے کسی شخص کو نکلتے نہیں دیکھا گیا
جمیکا میں پاکستان کے کرکٹ کوچ کی موت کی تفتیش کرنے والی پولیس کا کہنا ہے کہ باب وولمر کو سانپ کا زہر نہیں دیا گیا تھا۔

حال میں ذرائع ابلاغ میں کچھ رپورٹوں میں کہا گیا تھا کہ ممکن ہے کہ اٹھاون سالہ باب وولمر کو انجیکشن کے ذریعے سانپ کا زہر دیا گیا ہو۔

تاہم اب جمیکا پولیس کے نائب کمشنر مارک شیلڈز کا کہنا ہے کہ یہ سانپ کا زہر نہیں تھا۔ باب وولمر کو اٹھارہ مارچ کو جمیکا کے شہر کنگسٹن میں ان کے ہوٹل کے کمرے میں مردہ پایا گیا تھا۔ مارک شیلڈز کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں خون اور زہریلی مادے (پیتھولوجی اینڈ ٹوکسیکولوجی) کے ٹیسٹ کے نتائج جلد مکمل ہو جائیں گے۔

باب وولمر کی لاش پاکستانی ٹیم کی ورلڈ کپ میں ائرلینڈ کے ہاتھوں شکست کے اگلے روز ملی تھی۔ اس میچ میں شکست سے پاکستان ورلڈ کپ سے باہر ہو گیا تھا۔ پولیس نے کہا تھا کہ وہ باب وولمر کی موت کو قتل سمجھ کر تفتیش کر رہے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ باب وولمر کا گلا گھونٹا گیا تھا۔

اس کے بعد عالمی میڈیا میں دیگر قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں، کہ اس کا تعلق سٹہ بازوں سے تھا، کہ باب وومر کو زہر دیا گیا تھی، کہ وہ کرکٹ میں سٹے بازوں کی کارروائیوں اور دیگر افراد کی ملوث ہونے کو ایک کتاب میں بے نقاب کرنے والے تپھے، وغیرہ وغیرہ۔

 ’ہم چاہتے ہیں کہ جلد از جلد اس کیس میں کسی نتیجہ پر پہنچ سکیں۔‘
جمیکا پولیس کے ترجمان کارل اینجیل

لیکن اب پولیس رفتہ رفتہ اس تفتیش کو کم سنسنی خیز بناتی جا رہی ہے۔ پچھلے ہفتے حکام نے فیصلہ کیا تھا کہ وولمر کی لاش کو تحویل میں رکھنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے علاوہ پولیس تحقیقات کی سماعت (یعنی ’اِنکویسٹ‘) پیر تئیس مارچ کو ہونی تھی لیکن حکام نے اس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا تاہم اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔

مارک شیلڈز کا کہنا تھا کہ اس تفتیش میں حقیقت تک پہنچنا سب سے اہم چیز ہے اور اس لیے پولیس اس میں جلدبازی نہیں کر رہی بلکہ مختلف ماہرین سے رجوع کر رہی ہے۔ مارک شیلڈز نے یہ بھی کہا کہ ہوٹل میں وولمر کے کمرے والی منزل پر سکیورٹی کیمروں کی فلم پر وولمر کے کمرے سے نکلتے ہوئے ایک شخص کی فلم درست نہیں ہے کیونکہ دراصل یے کیمرے وولمر کے کمرے کے دروازے کے قریب نہیں بلکہ لفٹ کے قریب نصب تھے۔

جمیکا پولیس کے ترجمان کارل اینجیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم چاہتے ہیں کہ جلد از جلد اس کیس میں کسی نتیجہ پر پہنچ سکیں۔‘

پاکستان پولیس کے دو افسران کلیم امام اور میر زبیر کو اس تفتیش کے سلسلے میں تین ہفتے پہلے جمیکا بھیجا گیا ہے۔ان میں سے ایک ڈی آئی جی میر زبیر نے اس سلسلے میں کہا کہ وہ اس تفتیش کی سمت سے پوری طرح مطمئن ہو کر جمیکا سے روانہ ہو رہے ہیں۔

وولمروولمر کا ’استعفیٰ‘
ایک مختلف ٹیم کی کوچنگ
وولمر’آخری انٹرویو‘
’سمجھ نہیں آرہا پاکستانی عوام کو کیا جواب دوں‘
ہوٹل پیگیسز’میدان نہیں ہوٹل‘
میڈیا کی توجہ کرکٹ کی بجائے ہوٹل پیگیسز پر
جل وولمربیوہ کی اپیل
’باب وولمر کی ای میلز عام نہ کی جائیں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد