’باب وولمر کو پہلے زہر دیا گیا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کے تحقیقاتی ٹی وی پروگرام ’پینوراما‘ میں اس بات کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران پاکستان کے کرکٹ کوچ باب وولمر کو گلا گھونٹنے سے پہلے زہر دیا گیا تھا۔ یہ تحقیقاتی پروگرام ٹیلی ویژن چینل بی بی سی ون پر پیر کی شام برطانوی وقت کے مطابق شام کے ساڑھے آٹھ بجے نشر کیا جارہا ہے۔ بی بی سی کے اس پروگرام میں ابتدائی کیمیائی ٹیسٹ کے حوالے سے یہ بتایا گیا ہے کہ باب وولمر کے جسم میں اس طرح کا زہر موجود تھا جس کی وجہ سے وہ اس قابل نہ رہ سکے ہوں گے کہ وہ اپنے قاتلوں کا مقابلہ کرسکیں۔ پروگرام کے مطابق ’اب ایسا یقینی لگتا ہے کہ جب ان کا گلا گھونٹا جارہا تھا اس وقت انہیں لاچار بنادیا گیا تھا۔ اس سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ کوئی شخص چھ فٹ دو انچ قد والے ہٹے کٹے باب وولمر پر حاوی کیسے ہوا۔‘ باب وولمر کے جسم پر کیے جانے والی کیمیائی تجزیاتی ٹیسٹ کی فائنل رپورٹ جمیکا پولیس کو آئندہ ہفتے فراہم کی جائے گی۔ بی بی سی کے مطابق اس فائنل رپورٹ میں ’زہر کی تفصیلات کی مدد سے قاتل کا سراغ لگانے میں کافی پیش رفت کی توقع ہے۔‘
کرکٹ ورلڈ کپ میں آئرلینڈ کے ہاتھوں پاکستان کی شکست کے اگلے روز باب وولمر کو پیگسس ہوٹل کے اپنے کمرے میں تشویشناک حالت میں پایا گیا اور انہیں ہسپتال لے جانے پر مردہ قرار دیا گیا تھا۔ اس بات کی قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں کہ کیا وولمر کے قتل کے پیچھے کرکٹ میں میچ فِکسنگ اور کرپشن کے محرکات عمل پیرا تھے۔ پینوراما نے اس بات کی تحقیق کرنے کی بھی کوشش کی ہے کہ کیا وولمر قتل پر اس بات کا کوئی اثر ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی ترجیح مذہب تھا یا کھیل۔ پاکستانی ٹیم کے میڈیا مینیجر پی جے میر نے کہا ہے کہ باب وولمر ان کے اس بات سے متفق تھے کہ ٹیم کے سینیئر کھلاڑی ’کھیلنے میں نہیں، عبادت کرنے میں زیادہ‘ دلچسپی رکھتے تھے۔ پی جے میر نے پینوراما کو بتایا: ’باب کے تحفظات تھے کہ لڑکوں (کھلاڑیوں) کو مذہبی پہلو پر توجہ دینے کے بجائے کرکٹ پر توجہ دینی چاہیے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ باب وولمر ’کوئی زیادہ خوش نہیں تھے جب کھیل کے دوران کھلاڑی عبادت کرنے جارہے ہوتے تھے۔۔۔‘ پی جے میر نے بتایا کہ آئرلینڈ کے خلاف پاکستان کی کارکردگی پر ان کی تنقید پر غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ پی جے میر نے تصدیق کی ہے کہ ان کے خلاف ایک فتویٰ جاری کیا گیا ہے جس کی وجہ سے انہیں ملک چھوڑنا پڑا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کی شکست کے بعد ’وولمر کو بھی اسی سطح کے غصے کا سامنا رہا ہوگا۔‘ پینوراما نے اس بس کے ڈرائیور سے بھی بات کی ہے جس پر آئرلینڈ سے شکست کے بعد پاکستانی کھلاڑی اپنے ہوٹل لوٹے تھے۔ ڈرائیور برٹرم کار نے بتایا ہے کہ ہوٹل واپس ہوتے وقت پاکستانی کھلاڑیوں کے درمیان کسی غصے کا اظہار نہیں ہوا تھا اور وہ لگ بھگ خاموش تھے یا فون پر بات کررہے تھے۔ |
اسی بارے میں وولمر: موت کے حالات ’مشکوک‘ 21 March, 2007 | کھیل ’تاحال کوئی شک سے خارج نہیں‘26 March, 2007 | کھیل وولمر کیس: تفتیش میں مدد کی اپیل28 March, 2007 | کھیل وولمرقتل: رپورٹ پولیس کے پاس15 April, 2007 | کھیل ’وولمر کا مقصد پیسہ کمانا تھا‘17 April, 2007 | کھیل وولمر کے قتل کی تحقیقات ملتوی20 April, 2007 | کھیل وولمر، لاش حوالے کرنے کا فیصلہ24 April, 2007 | کھیل کرکٹ انکوائری: کمیٹی بنا تماشا دیکھ 04 April, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||