’میچ فکسنگ کے الزامات بے بنیاد‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انضمام الحق نے عالمی کپ میں شکست کے اسباب کی تحقیق کرنے والی کمیٹی کے سامنے میچ فکسنگ سے متعلق تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین سال سے ان کی قیادت میں ٹیم کامیابی حاصل کرتی آئی تھی اس وقت کسی نے میچ فکسنگ کی بات نہیں کی لیکن دو میچز ہارنے کے بعد اب اس طرح کے بے بنیاد الزامات عائد کیئے جا رہے ہیں۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر اعجاز بٹ کی سربراہی میں یہ تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی پاکستان کرکٹ بورڈ نے قائم کی ہے جس نے بدھ کے روز سے کام شروع کردیا ہے ۔ پہلے روز کمیٹی نے اسسٹنٹ کوچ مشتاق احمد کا بیان ریکارڈ کیا تھا۔ کمیٹی کے سربراہ اعجاز بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ انضمام الحق کے طویل بیان کے سبب مزید کسی دوسرے سے بات نہیں ہوسکی البتہ جمعہ کو ورلڈ کپ ٹیم کے میڈیا منیجر پی جے میر اور پیر کو ٹیم منیجر طلعت علی کے بیانات ریکارڈ ہوں گے۔ اعجاز بٹ نے کہا کہ انہیں بخوبی احساس ہے کہ ماضی میں بھی اس طرح کی کئی کمیٹیاں بن چکی ہیں جن کی تجاویز یا سفارشات داخل دفتر ہوگئیں۔ ان کے بقول اگر ان کے پاس اختیارات ہوتے تو وہ یہ بات بتا سکتے تھے کہ وہ کیا عملی قدم اٹھائیں گے لیکن ان کا کام تحقیقات مکمل کرکے اپنی سفارشات بورڈ کے حوالے کرنا ہے۔
انہتر سالہ اعجاز بٹ نے، جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری، سلیکٹر اور ٹیم منیجر کی حیثیت سے بھی کام کرچکے ہیں، کہا کہ ان کی تجاویز اور سفارشات پر ضرور ایکشن لیا جانا چاہیئے اور ’اگر ایسا نہ ہوا تو یہ وقت کا ضیاع ہوگا۔‘ اعجاز بٹ نے کہا کہ جن لوگوں نے میچ فکسنگ اور دیگر سنگین نوعیت کے الزامات لگائے ہیں ان سے بھی پوچھا جائے گا کہ انہوں نے کن شواہد اور ثبوت کی بنیاد پر ایسا کیا۔ تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی ملک کے مختلف شہروں میں بھی جاکر لوگوں سے بات کرے گی تاہم اعجاز بٹ نے کہا کہ تحقیقات کو غیرضروری طول نہیں دیا جائے گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسی طرح کی ایک کمیٹی2003 ورلڈ کپ میں ٹیم کی ناقص کارکردگی کے بعد بھی قائم کی تھی لیکن وہ بھی محض رسمی رپورٹ دینے کے سوا کچھ نہ کرسکی تھی۔ |
اسی بارے میں ’پٹےہوئےمہروں سے جان چھڑائیں‘ 31 March, 2007 | کھیل ’دو میچ ہارے تو کیا پاکستانی نہیں رہے‘31 March, 2007 | کھیل کرکٹ اور پاکستانی سٹے باز31 March, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||