BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 April, 2007, 14:10 GMT 19:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میچ فکسنگ کے الزامات بے بنیاد‘

انضمام الحق کے طویل بیان کے سبب جمعرات کو کسی دوسرے سے بات نہیں ہوسکی
انضمام الحق نے عالمی کپ میں شکست کے اسباب کی تحقیق کرنے والی کمیٹی کے سامنے میچ فکسنگ سے متعلق تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین سال سے ان کی قیادت میں ٹیم کامیابی حاصل کرتی آئی تھی اس وقت کسی نے میچ فکسنگ کی بات نہیں کی لیکن دو میچز ہارنے کے بعد اب اس طرح کے بے بنیاد الزامات عائد کیئے جا رہے ہیں۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر اعجاز بٹ کی سربراہی میں یہ تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی پاکستان کرکٹ بورڈ نے قائم کی ہے جس نے بدھ کے روز سے کام شروع کردیا ہے ۔ پہلے روز کمیٹی نے اسسٹنٹ کوچ مشتاق احمد کا بیان ریکارڈ کیا تھا۔

کمیٹی کے سربراہ اعجاز بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ انضمام الحق کے طویل بیان کے سبب مزید کسی دوسرے سے بات نہیں ہوسکی البتہ جمعہ کو ورلڈ کپ ٹیم کے میڈیا منیجر پی جے میر اور پیر کو ٹیم منیجر طلعت علی کے بیانات ریکارڈ ہوں گے۔

اعجاز بٹ نے کہا کہ انہیں بخوبی احساس ہے کہ ماضی میں بھی اس طرح کی کئی کمیٹیاں بن چکی ہیں جن کی تجاویز یا سفارشات داخل دفتر ہوگئیں۔ ان کے بقول اگر ان کے پاس اختیارات ہوتے تو وہ یہ بات بتا سکتے تھے کہ وہ کیا عملی قدم اٹھائیں گے لیکن ان کا کام تحقیقات مکمل کرکے اپنی سفارشات بورڈ کے حوالے کرنا ہے۔

سفارشات داخل دفتر
 اگر میرے پاس اختیارات ہوتے تو میں بتا سکتا کہ عملی قدم اٹھائے جائیں گے لیکن میرا کام تحقیقات مکمل کرکے اپنی سفارشات بورڈ کے حوالے کرنا ہے۔
اعجاز بٹ

انہتر سالہ اعجاز بٹ نے، جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری، سلیکٹر اور ٹیم منیجر کی حیثیت سے بھی کام کرچکے ہیں، کہا کہ ان کی تجاویز اور سفارشات پر ضرور ایکشن لیا جانا چاہیئے اور ’اگر ایسا نہ ہوا تو یہ وقت کا ضیاع ہوگا۔‘

اعجاز بٹ نے کہا کہ جن لوگوں نے میچ فکسنگ اور دیگر سنگین نوعیت کے الزامات لگائے ہیں ان سے بھی پوچھا جائے گا کہ انہوں نے کن شواہد اور ثبوت کی بنیاد پر ایسا کیا۔

تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی ملک کے مختلف شہروں میں بھی جاکر لوگوں سے بات کرے گی تاہم اعجاز بٹ نے کہا کہ تحقیقات کو غیرضروری طول نہیں دیا جائے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسی طرح کی ایک کمیٹی2003 ورلڈ کپ میں ٹیم کی ناقص کارکردگی کے بعد بھی قائم کی تھی لیکن وہ بھی محض رسمی رپورٹ دینے کے سوا کچھ نہ کرسکی تھی۔

سلیکٹرز بھی مستعفی
وسیم باری، اقبال قاسم، احتشام الدین بھی مستعفی
نسیم اشرف مستعفی
مختصر دور میں انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا
پاکستان کی شکست
’انضمام الحق، باب وولمر اور باری استعفیٰ دیں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد