کرکٹ اور پاکستانی سٹے باز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں ایک مکان کی چھت پر بنائے گئے کمرے میں ہر طرف موبائل فون بکھرے پڑے ہیں۔ کمرے میں چار آدمی موجود ہیں اور کونے میں ٹی وی پر کرکٹ چل رہا ہے۔ موبائل فونز کی مختلف رنگ ٹونز سے نئے داؤ لگتے ہیں۔ ہر کال کو ٹیپ ریکارڈر پر ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک آدمی شرط پر لگائی گئی رقم اور منافع کی رقم کو لکھتا جا رہا ہے۔ اس غیر قانونی سٹے بازی کی دکان سے ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ کے کھیل پر لاکھوں روپے داؤ پر لگائے جا رہے ہیں۔ کمرے کے دوسرے کونے میں پڑے کالے رنگ کے ایک بڑے فون سیٹ کا سپیکر کھلا ہوا ہے۔ جہاں سے اس سٹے بازی کا سربراہ موبائل فونز سے پورے شہر میں چلنے والے اپنے کارو بار کی نگرانی کرتا رہتا ہے۔ پاکستان میں سٹے بازی شاید غیر قانونی ہو لیکن یہ ایک بہت بڑا کاروبار ہے اور جدید موبائل ٹیکنالوجی نے اس کے خلاف کارروائی کو تقریبا نا ممکن بنا دیا ہے۔ ورلڈ کپ اس کاروبار کے لیے سنہرا موقع ہوتا ہے جس میں ہر میچ کے نتائج پر سٹہ لگایا جاتا ہے۔ ورلڈ کپ میں جب پاکستانی ٹیم کو نو آموز آئرلینڈ نے شکست دے کر ورلڈ کپ سے باہر کر دیا تو فکسنگ کے متعلق مختلف باتیں سامنے آئیں۔
سٹہ بازی کے خلاف عالمی کرکٹ کونسل کی کوششوں کے باوجود سٹہ لگانے میں اتنی بڑی رقوم لگی رہتی ہیں کہ میچ پر اثر انداز ہونا بڑے بڑوں کے مفاد میں ہوتا ہے۔ لاہور میں سٹے بازی کا کاروبار کرنے والے ایک شخص جن کی شناخت یہاں ہم مسٹر سی کے نام سے کریں گے، کہتے ہیں: ’لوگ ہمیں فون کر کے کسی بھی گیند پر پانچ لاکھ روپے کی شرط لگاتے ہیں۔ اگر وہ گیند ان کی شرط کے مطابق نہیں ہوتی تو وہ پانچ لاکھ ہمیں دینے کے پابند ہیں‘۔ وولمرکو آخر کیا ہوا؟اس سوال کے بارے میں ہر کسی کی طرح مسٹر سی کا بھی اپنا خیال ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’میرے خیال میں وولمر کو مافیا نے قتل کردیا لیکن پھر بھی ہمیں رپوٹس کا انتظار کرنا چاہیے‘۔ ان کے مطابق مافیا صرف پاکستان اور انڈیا میں نہیں ہر طرف پھیلا ہوا ہے یہاں تک کہ وہ دبئی اور انگلینڈ میں بھی موجود ہے۔ پاکستان کے نئے کوچ بننے کے لیے جن لوگوں کا نام لیا جا رہا ہے ان میں عاقب جاوید بھی ایک ہیں۔ عاقب بھی کرکٹ میں سٹے بازی کا اعتراف کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا:’میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ کرکٹ میں سٹہ بازی نہیں ہوتی کیونکہ کہیں نہ کہیں یہ ہوتی ہے‘۔ قومی ٹیم کے یوتھ کوچ عاقب جاوید کے مطابق جب ٹیم میچ ہار گئی تو شائقین کو صدمہ ہوا اور وہ بہت غصے میں تھے تاہم باب وولمر کے قتل کے بعد حالات بدل گئے ہیں اور لوگوں کا غصہ ہمدردانہ احساسات میں بدل گیا ہے۔ عاقب جاوید کا کہنا ہے: ’یہ تمام قیاس آرائیاں ہیں لیکن آپ باب وولمر کے قتل کو میچ فکسنگ سے نہیں جوڑ سکتے‘۔ | اسی بارے میں اظہر کو اجازت ہے سلیم کو نہیں17 April, 2006 | کھیل میچ فکسنگ سے نمٹنے کا فیصلہ14 June, 2004 | کھیل ’کھلاڑی گرفتار ہوسکتے ہیں‘18 September, 2005 | کھیل کپتان نے پیسوں کی پیشکش کی: گِبس12 October, 2006 | کھیل میری محنت ضائع گئی: جسٹس قیوم30 March, 2007 | کھیل ’میچ فِکسنگ ختم نہیں ہو سکتی‘17 March, 2004 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||