میچ فکسنگ سے نمٹنے کا فیصلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سکیورٹی اور بدعنوانی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک مینیجر کی تقرری کرے گا۔ خیال ہے کہ اس اقدام کا فیصلہ روایتی حریف انڈیا کے ہاتھوں اپریل میں کھیلی جانے والی ٹیسٹ سیریز میں 1-2 سے شکست کے بعد سامنے آنے والے میچ فکسنگ کے الزامات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ تاہم پی سی بی کے سربراہ رمیز راجہ نے تردید کی ہے کہ اس اقدام کا فیصلہ مذکورہ الزامات کی بنا پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ان الزامات کے باعث ہمیں بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اس اقدام کا مقصد کھلاڑیوں کو مزید انکوائریوں سے بچانا ہے۔‘ رمیز راجہ نے کہا کہ اس ضمن میں نامزد کیے جانے والے نئے مینیجر بظاہر پولیس یا آرمی انٹیلی جنس کے ریٹائرڈ افسر ہوں گے اور وہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے انسدادِ بدعنوانی اور سیکیورٹی کے امور سے نمٹنے والے ادارے کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ پاکستان انیس سو اٹھانوے سے لے کر سن دو ہزار تک میچ فکسنگ کے دو الزامات کی انکوائری کروا چکا ہے۔ وسیم اکرم، وقار یونس، سعید انور، مشتاق احمد، اکرم رضا اور ٹیم کے موجودہ کپتان انضمام الحق کو جرمانہ کیا جا چکا ہے اور سابق کپتان سلیم ملک پر تاعمر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے انسدادِ بدعنوانی اور سیکیورٹی کے امور سے نمٹنے والے ادارے کے سربراہ لارڈ کونڈون کی جانب سے لکھے گئے خط میں یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ پاکستانی ٹیم نے دو ہزار دو کی سیریز میں اپنی صلاحیت سے کم کا مظاہرہ کیا تھا۔ یہ خط اس سال کے اوائل میں عوامی سطح پر منظر عام پر لایا گیا تھا۔ تاہم رمیز راجہ نے اس بات کی تردید کی کہ پی سی بی کو یہ پریشانی درپیش ہے کہ مذکورہ موقعہ دوبارہ دہرایا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||