’شکست کا تصور ہی خوفناک ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں شائقینِ کرکٹ نے بھارت کی فتح پر مختلف قسم کا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ بغض نے پاکستانی ٹیم اور اس کے منتظمین کو تنقید کا نشانہ بنایا تو چند ایک نے اسے پاکستان اور بھارت میں تعلقات کی بہتری کے لیے پاکستان کی قربانی کہا۔ فاروق عزیز نے کہا ہے کہ بھارت کے ہاتھوں پاکستان کی سرزمین پر دونوں سیریز میں شکست کا تصور ہی خوفناک ہے۔ یہ یقین نہیں آرہا کہ واقعی پاکستان ہار گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب بھارتی کرکٹر خوشی سے ناچ رہے تھے تو انہیں یوں لگ رہا تھا جیسے وہ پاکستان کی کرکٹ کی لاش پر بھنگڑا ڈال رہے ہیں۔ شاہ فرید پارک ملتان روڈ لاہور کے رہائشی ایک اسٹنٹ اکاؤنٹنٹ فرید سمیع نے کہا کہ نجانے پاکستانی ٹیم کو کیا ہو جاتا ہے اچھا پرفارم کرتے کرتے اچانک اتنا برا کھیل پیش کرتی ہے کہ افسوس ہونے لگتاہے ۔انہوں نے کہا کہ میرا دل تو نہیں مانتا لیکن جب پاکستانی ٹیم ریت کی دیوار کی طرح ڈھ جاتی ہے تو میچ فکسنگ کی افواہیں سچ لگنے لگتی ہیں۔ اقبال ٹاؤن لاہور کے ایک بے روز گار نوجوان محمد وسیم نے کہا کہ انہوں نے سارے میچ غور سے دیکھے ہیں اور ان کا تبصرہ یہی ہے کہ پاکستانی کھلاڑی میچ فکسنگ کی آڑ میں اپنی نااہلی اور نالائقی کو نہیں چھپا سکتے۔
دسویں کی ایک طالبہ ثنا سید نے کہا کہ شعیب اختر ایک سفید ہاتھی ہے اور ان سے پاکستانی قوم نے بے پناہ توقعات وابستہ کر لی تھیں لیکن وہ ایکشن دکھانے اور آپس میں لڑائی کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکے۔ ایک صحافی غلام حیدر نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پہلے آدھ گھنٹے میں چھ کیچ گر جانے کے باوجود پاکستانی بلے باز کیوں نہ جم کر کھیل سکے۔ راہول ڈراوڈ کا ایک کیچ گرا تھا تو انہوں نے دو سو اکہتر سکور کر لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی باؤلنگ اور بیٹنگ دونوں تباہ حال ہیں۔ شیخ آصف نےکہا کہ پاکستان کو بدلہ لینے کے لیے تیاری کرکے بھارت جانا ہوگا اور پاکستان جب بھارت کو اس کے ملک میں ایسی شکست دے گا تب ہی ہمارے کلیجے میں ٹھنڈ پڑے گی۔ سید اجمل حسین نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم کی سلیکشن ہی غلط تھی۔ اچھے اور سینیئر کھلاڑی باہر بٹھا دیے گئے تھے اور نااہل کھلاڑی ٹیم میں شامل کر لیے گئے ۔خاص طور پر پاک بھارت کرکٹ اعصاب کی جنگ ہوتی ہے اور سینیئر کھلاڑی ہی اس امتحان میں پورا اتر سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||