BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرکٹ انکوائری: کمیٹی بنا تماشا دیکھ

اب پتہ نہیں یہ نئی کمیٹی شکست کا کیا جواز سامنے لائے گی؟
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی انتہائی مایوس کن کارکردگی کے اسباب جاننے کے لیے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے۔ ڈاکٹر نسیم اشرف کی جانب سے اس کمیٹی کا قیام ان اقدامات کا ایک حصہ ہے جو انہوں نے صدر پرویز مشرف کی جانب سے اپنا استعفی نامنظور ہونے کے بعد میڈیا کے سامنے زورشور سے پیش کیے ہیں اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ طویل اور مختصر مدتی ان منصوبوں کے ذریعے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ایک مثالی ادارہ بنا دیں گے۔

ورلڈ کپ کی تحقیقات کے لیے قائم اس کمیٹی کا کام کھلاڑیوں، آفشلز اور دیگر افراد سے انٹرویو کرکے ورلڈ کپ کی ناکامی کی وجہ تک پہنچنا اور ایک رپورٹ مرتب کرنا ہے۔ کیا اس رپورٹ سے گزرا ورلڈ کپ واپس آجائے گا، اس کی ناکامی کا مداوا ہوسکے گا اور اگر کوئی وجہ سامنے آئےگی تو اسے ایمانداری سے دور کیا جائے گا؟ کم از کم ماضی میں توایسا نہیں ہوا ہے۔

پاکستان میں ہر سیاسی سانحے، ہراقتصادی اکھاڑ پچھاڑ اور کھیلوں میں بہت بڑی ناکامی پر ٹریبونل اور کمیشن بنا کراس ناکامی کے جواز تلاش کیے جاتے ہیں۔ سیکڑوں صفحات کی رپورٹیں مرتب کی جاتی ہیں جو داخل دفتر ہوجاتی ہیں۔ جواز موجود رہتے ہیں ان کے حل کے لیے کیے جانے والے دعوے عملی شکل کم ہی اختیار کرتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ میں بھی یہی کچھ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ایسی ہی کمیٹی
 ایسی ہی ایک تحقیقاتی کمیٹی چار سال قبل یہ تجویز کیا تھا کہ کھلاڑی عمررسیدہ تھے لہذا ٹیم ہارگئی اور ان کھلاڑیوں کو باہر کرکے نوجوان کرکٹرز کو سامنے لایا جائے لیکن وسیم اکرم اور وقاریونس کو چھوڑ کر وہ عمررسیدہ کرکٹرز2007 بھی دیکھ گئے۔

ایسی ہی ایک تحقیقاتی کمیٹی چار سال قبل ورلڈ کپ کے بعد بھی بنی تھی کیونکہ اس وقت بھی ٹیم برا کھیلی تھی۔ اس کمیٹی نے یہ تجویز کیا تھا کہ کھلاڑی عمررسیدہ تھے لہذا ٹیم ہارگئی اور ان کھلاڑیوں کو باہر کرکے نوجوان کرکٹرز کو سامنے لایا جائے لیکن وسیم اکرم اور وقاریونس کو چھوڑ کر وہ عمررسیدہ کرکٹرز2007 بھی دیکھ گئے۔ راشد لطیف، انضمام الحق، ثقلین مشتاق، مشتاق احمد، اظہرمحمود جو اس ورلڈ کپ کا حصہ تھے اس کے بعد بھی ٹیم کا حصہ رہے۔

اب پتہ نہیں یہ نئی کمیٹی شکست کا کیا جواز سامنے لائے گی اور اگر وہ کسی کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے تو اس کے لیے کیا سزا ہوگی؟ اور اگر ذمہ دار حالات ہی کو ٹھہرادیا گیا تو پھر سزا کے لیے کسے منتخب کیا جائے گا؟۔

ڈاکٹر نسیم اشرف نے ملٹی نیشنل کمپنی کی طرز پر کرکٹ بورڈ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن وہ ایسوسی ایشن کو فعال اور اس کا پرانا کردار بحال کرنے کی بات نہیں کر رہے ہیں۔ وہ جن لوگوں کو بورڈ میں لائے ہیں ان میں سے زیادہ تر وہی ہیں جو پہلے بھی کرکٹ بورڈ سے کسی نہ کسی حیثیت سے وابستہ رہے ہیں۔ شفیق احمد پاپا پہلے بھی ڈومیسٹک کرکٹ کے معاملات میں شریک رہے ہیں۔

اب ہر کوئی شہریارخان کے دور پر تنقید کرتا نظرآ رہا ہے۔

ذاکر خان پہلے بھی پی سی بی میں رہے ہیں اور ڈیپوٹیشن پر آئی سی سی بھیجے گئے تھے اور اب دوبارہ اپنوں میں لوٹا دیئے گئے ہیں۔ سبحان احمد پہلے بھی انٹرنیشنل معاملات کی نگرانی کرتے رہے ہیں اب بھی کریں گے۔ عاقب جاوید اور مدثرنذر پہلے سے ہی اکیڈمی سے وابستہ رہے ہیں جبکہ سلیم الطاف بھی کرکٹ بورڈ کے لئے نئے نہیں ہیں۔

صرف دو صاحبان حسن احمد اور شفقت حسین نغمی باہر سے لائے گئے ہیں۔ وزارت خوراک و زراعت سے لائے گئے شفقت نغمی کی وجہ شہرت یہ بتائی گئی ہے کہ کرکٹ سے انہیں بہت محبت ہے اور جب وہ ڈپٹی کمشنر تھے انہوں نے شیخوپورہ میں کرکٹ اسٹیڈیم بنوایا تھا۔ حسن احمد بھی کرکٹ سے براہ راست تعلق نہیں رکھتے وہ حساب کتاب کے آدمی ہیں۔ انہیں چیف فنانشل افسر مقرر کیا گیا ہے۔

ماضی میں بھی کرکٹ بورڈ کو کارپوریٹ انداز میں چلانے کے لئے شہریارخان نے لاکھوں روپے خرچ کرکے لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز کی خدمات حاصل کی تھیں اور جاننے کی کوشش کی تھی کہ کرکٹ بورڈ کو کتنی افرادی قوت کی ضرورت ہے اور کتنے لوگ فاضل ہیں لیکن اس رپورٹ کا کچھ پتہ نہیں چلا اور کرکٹ بورڈ کے معاملات یونہی چلتے رہے۔

 ماضی میں بھی کرکٹ بورڈ کو کارپوریٹ انداز میں چلانے کے لئے شہریارخان نے لاکھوں روپے خرچ کرکے لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز کی خدمات حاصل کی تھیں۔

جب ڈاکٹرنسیم اشرف پاکستان کرکٹ بورڈ میں آئے توان سے بھی یہی سوال کیا گیا کہ کرکٹ بورڈ میں فوج ظفرموج ہے لیکن ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ کرکٹ بورڈ میں کوئی فالتو پرزہ نہیں۔

پاکستان میں یہ روایت رہی ہے کہ جانے والے کے کام پر بجا اور بے جا تنقید کی جاتی ہے۔ اب ہر کوئی شہریارخان کے دور پر تنقید کرتا نظرآ رہا ہے۔ ڈاکٹر نسیم اشرف کا یہ کہنا کہ انہیں کام کرنے کے لئے چھ ماہ ہی ملے انہوں نے ٹیم میں تسلسل کے سبب باگ ڈور سنبھالتے ہوئے سخت فیصلے نہیں کئے تو یہ اس لئے عجیب معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایک عرصے تک شہریارخان کی ایڈوائزری کمیٹی میں بیٹھ کر ان کے فیصلوں کی توثیق کرتے رہے ۔اگر شہریارخان کے فیصلے شخصی ہوتے تھے تو ایڈوائزری کمیٹی میں بیٹھ کر ان کے فیصلوں کو تسلیم کیوں کیا جاتا رہا؟

باب وولمر نے ورلڈ کپ میں جانے سے قبل ڈاکٹر نسیم اشرف سے ملاقات میں سلیم الطاف کے رویئے کی شکایت کی تھی۔

ڈاکٹر نسیم اشرف نے آنے کے بعد سے واڈا، آئی سی سی اور کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت سے محاذ آرائی اختیار کرلی۔ یہاں تک کہ مشتاق احمد کو اسسٹنٹ کوچ بنا کر جسٹس قیوم کی رپورٹ سے انحراف کیاگیا جس پر ڈاکٹر صاحب یہ کہتے ہیں کہ مشتاق احمد پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ان کا یہ کہنا بالکل درست ہے کیونکہ مشتاق احمد کے کھیلنے پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن واضح کردیا گیا ہے کہ انہیں بورڈ اور ٹیم میں کوئی عہدہ نہ دیا جائے۔

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ شہریارخان کے زمانے میں سلیم الطاف نے کھل کر وسیم باری، ظہیرعباس اور باب وولمر کی مخالفت کی۔ یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ باب وولمر نے ورلڈ کپ میں جانے سے قبل ڈاکٹر نسیم اشرف سے ملاقات میں سلیم الطاف کے رویئے کی شکایت کی تھی۔

یہ اکثر سننے کو ملتا ہے کہ شہریارخان کے زمانے میں اکیڈمیاں کام نہیں کرسکیں جنہیں توقیرضیا نے بنایا تھا لیکن یہ بات کوئی نہیں جانتا کہ سلیم الطاف ہی نے وقاریونس اور عاقب جاوید کو قریب نہیں آنے دیا۔

ون مین شو
 سلیم الطاف ٹی وی پر بیٹھ کر یہ بات بڑی آسانی سے کہہ جاتے ہیں کہ شہریارخان کے زمانے میں معاملات ون مین شو چلائے جاتے تھے لیکن اس کی انہوں نے کوئی واضح مثال نہیں دی۔اب شہریارخان کے دور کو ون مین شو قرار دینے کا کیا فائدہ؟

ڈاکٹر نسیم اشرف نے سلیم الطاف کو سپیشل پراجیکٹ، جوکہ ورلڈکپ ہے، کی ذمہ داری دی ہے لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک لحاظ سے سلیم الطاف کو کنارے کردیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شہریارخان بھی سلیم الطاف سے محاذ آرائی کے بعد انہیں اسی عہدے پر لاکر اپنے لئے آسانی پیدا کرنا چاہتے تھے لیکن وہ ایسا نہ کرسکے۔

سابق چیف سلیکٹر وسیم باری آج انضمام الحق کو پاورفل کپتان قرار دے کر خود کو بے بس ثابت کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ جب سب کچھ انضمام الحق ہی کر رہے تھے تو اس وقت آپ نے چپ کا روزہ کیوں رکھا ہوا تھا؟ اس وقت تو آپ ہر سوال کے جواب میں باہمی مشاورت کی بات کہتے نہیں تھک رہے تھے لیکن کوئی ان سے یہ پوچھے کہ کیا شعیب اختر کو جنوبی افریقہ بھیجنے کا فیصلہ بھی انضمام الحق کا تھا؟ اس فیصلے کے بارے میں دنیا یہ کہتی ہے کہ ڈاکٹر نسیم اشرف نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے شعیب اختر کو جنوبی افریقہ بھجوایا اور حج سے واپس آنے والے وسیم باری کو پتہ نہیں تھا کہ کیا ہورہا ہے؟
وسیم باری کی سلیکشن کمیٹی کے بقول شخصے ڈمی ہونے کی ایک اور مثال ان فٹ شبیراحمد کو جنوبی افریقہ بھیجا جانا ہے۔

وسیم باری تو اس وقت بھی خاموش تھے جب شعیب ملک کا نام کاٹ کر اظہرمحمود کو شامل کردیا گیا تھا

وسیم باری تو اس وقت بھی خاموش تھے جب 2003 کے ورلڈ کپ میں شعیب ملک کا نام کاٹ کر اظہرمحمود کو شامل کردیا گیا اور وہ چار سال بعد دوبارہ اظہرمحمود کی شمولیت پر محض دبے دبے لہجے میں احتجاج سے زیادہ کچھ نہیں کرسکے۔ رہی بات ان کے استعفے کی تو ان ہی کے ایک ساتھی اقبال قاسم کے نزدیک ان استعفوں کی اس لئے کوئی حیثیت نہیں تھی کہ ورلڈ کپ کے بعد ان کی مدت ہی ختم ہو رہی تھی۔

سیانے لوگ صحیح ہی کہہ رہے ہیں کہ باب وولمر نے مرکر پاکستانی کرکٹ کے ارباب اختیار کو نئی زندگی دے دی ہے۔ ورلڈ کپ کی شکست ان کی موت کے سبب پس منظر میں چلی گئی اور ہر ایک کو نیا چانس مل گیاہے!

’شمشان گھاٹ‘
سبائنا پارک کی خاموشی اور شفیع کا اداس دل
سلیکٹرز بھی مستعفی
وسیم باری، اقبال قاسم، احتشام الدین بھی مستعفی
نسیم اشرف مستعفی
مختصر دور میں انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا
ایشین کھانا ٹیم کی مشکل
حلال حرام کھانا، اردو انگریزی پریس کانفرنس
ہوٹل پیگیسز’میدان نہیں ہوٹل‘
میڈیا کی توجہ کرکٹ کی بجائے ہوٹل پیگیسز پر
پاکستان کی شکست
’انضمام الحق، باب وولمر اور باری استعفیٰ دیں‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد