سبائنا خاموش، دل اداس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ورلڈ کپ سے پاکستان کے باہر ہوجانے کے بعد اب میں بھی کنگسٹن جمیکا سے رخصت ہونے والا ہوں لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ یہاں سے چلنے سے پہلے اس گراؤنڈ کو ایک نظر پھر دیکھ لوں جہاں پہلے ویسٹ انڈیز اور پھر آئرلینڈ سے پاکستانی ٹیم اپنی تاریخ کی بدترین ناکامی سے دوچار ہوئی تھی۔ میں اس وقت سبائنا پارک میں ہوں۔ چاروں طرف بالکل خاموشی ہے۔کرسیاں خالی ہیں۔ نہ بینڈ باجا ہے اور نہ وہ آئرش تماشائی جنہوں نے پاکستان کے میچ میں ڈھول تاشوں اور شورہنگاموں کے ساتھ گشت کرتی کمر در کمر انسانی ریل بنائی تھی جس نے آئرلینڈ کی ٹیم کی ہمت بڑھانے کے لئے اپنے گلے تک بٹھا لیے تھے۔ سبائنا پارک کی خاموشی کو توڑنے کے لیے اب صرف پرندوں کی آوازیں ہیں جو ادھر سے ادھر اڑتے نظرآ رہے ہیں۔ میں مغربی سمت میں واقع سمندر میں کھڑے دوتین جہازوں کو بھی دیکھ رہا ہوں۔ میں گراؤنڈ کے اس حصے کی طرف آیا ہوں جہاں میڈیا اور کمنٹری باکس ہیں جہاں میں نے مائیکل ہولڈنگ، عامرسہیل، فل سمنز اور رمیز راجہ سے میچوں کی گہماگہمی والے دنوں بات کی تھی۔ یہ فلور بھی دور دور تک بھائیں بھائیں کر رہا ہے اور بالکل خاموش ہے۔ اس سے نیچے سٹینڈ کی نیلی پیلی، سفید اورلال کرسیاں بھی خالی پڑی ہیں، البتہ ایک کرسی پر ایک بلی کسی گہری سوچ میں بیٹھی ہے۔ لگتا ہے جیسے میری طرف دیکھ رہی ہے۔ سبائنا پارک ہی وہ میدان ہے جہاں آئرلینڈ سے شکست کے بعد پاکستان اپنے کوچ باب وولمر سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ یہی وہ میدان ہے جہاں آئرلینڈ سے ہارنے کے بعد پاکستانی کپتان پہلےحوصلہ پھر ہمت اور پھر اپنی کپتانی بھی ہارگیا۔ اس نے یہ فیصلہ وولمر کی موت والے دن ہی کیا جس پر ایک اخبار نے لکھا تھا کہ ’کس قدر بزدلی تھی انضمام کی ۔وہ رک نہیں سکتے تھے۔ ایک دن ہی رک جاتے۔‘ آج سبائنا پارک میں کوئی میچ نہیں۔ پھر نہ جانے میں یہاں کیوں آیا ہوں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے انیس سو ننانوے کے ورلڈ کپ فائنل کے بعد میں لارڈز گیا تھا اور کافی دیر تک وہاں بیٹھا سوچتا رہا تھا۔ آج بھی میں سوچوں میں گم ہوں۔ مجھے یاد آرہا ہے کہ اسی سبائنا پارک میں بھارت کے میچ میں بھی ایک خونی تاریخ لکھی گئی تھی۔ اس وقت میں انگلینڈ نہیں گیا تھا، پاکستان میں ہی تھا لیکن پڑھا تھا کہ1976ء میں ویسٹ انڈین فاسٹ بولر مائیکل ہولڈنگ نے بھارتی بیٹسمینوں کی اتنی توڑ پھوڑ کی تھی کہ آدھی سے زیادہ ٹیم اسٹریچر پر یا ہسپتال میں تھی اور کپتان بشن سنگھ بیدی کے پاس پویلین سے سفید تولیہ دکھاکر اپنی شکست تسلیم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہ تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سبائنا پارک ایک بہت بڑے پہاڑی نما ٹیلے کو کاٹ کر بنایا گیا ہے اور یہ دو سابق عالمی چیمپئن ٹیموں کی بلی لے چکا ہے۔ یہ خالی سٹیڈیم اب مجھے ڈرا رہا ہے۔ خاص طور پر خاموشی جس کی اپنی عجیب سی زبان اور آواز ہوتی ہے کہ جسے آپ سن نہیں سکتے بلکہ دیکھ سکتے ہیں۔ خاموشی کے یہ سائے اور یہ چھبیاں اس پورے میدان میں کود پھاندتی نظرآتی ہیں۔ میں لندن میں سورج کو عموما عمارتوں کے پیچھے چھپتا دیکھتا رہا ہوں۔ سبائناپارک میں اب سے چند منٹ پہلے میں نے سورج کو سمندر میں ڈوبتے دیکھا ہے۔
خاموش میدانوں، کھلے قبرستانوں اور شمشان گھاٹوں میں روحیں کیسے آتی ہوں گی اور جب آتی ہوں گی تو کیا کرتی ہوں گی یہ خیال آتے ہی مجھے جھرجھری سی آ گئی۔ میں نے تیزی سے اپنی ریکارڈنگ مشین اور بیگ سنبھالے میدان سے باہر آنا شروع کیا۔ وہ چوکیدار جس نے مجھ سے اندر آتے وقت یہ کہا تھا کہ اندر کچھ بھی نہیں مت جاؤ اب مجھے دیکھ کر حیرانگی سے بولا: ’میں توسمجھا تھا کہ تم خاموشی سے چلے گئے میں تو اسٹیڈیم کا آخری گیٹ بند کرنے والا تھا۔‘ میں تیزی سے قدم بڑھاتے ہوئے آگے بڑھا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ واقعی اگر وہ یہ آہنی دروازہ بند کردیتا تو میں کیا کرتا؟ ’خاموشی‘ سے واقعی میری ملاقات ہوجاتی تو کیا میں بول پاتا۔ روحوں جیسے ہیولوں والے خیالات کے تکیے پر سر رکھ کر کیا کسی کرسی پر میں بیٹھا سوجاتا۔ اسی طرح جیسے لارڈز میں پاکستان کے فائنل ہارنے کے بعد مجھے نیند آگئی تھی اور کسی نے جھنجھوڑ کر اٹھایا تھا۔ واقعی اگرمجھے یہ گیٹ بند ملتا اور میں باہر نہ نکل پاتا تو ماسوائے واپس اوپر جاکر باہر نکلنے کے لیئے چھلانگ لگاتا یا کچھ اور کرپاتا ایسے میں ’خاموشی‘ مجھے جو دھکا دیتی وہ کیسا ہوتا۔ میں اس گھبراہٹ کے عالم میں سب کچھ پیچھے چھوڑتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||