BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 April, 2007, 03:02 GMT 08:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوش و خروش سے عاری ورلڈ کپ

روایتی جوش خروش سے اب تک عاری اس عالمی کپ سے ہر کوئی ہی حیران ہے
ویسٹ انڈیز میں عالمی کپ کے انعقاد سے منتظمین کو امید تھی کہ جنون کی حد تک کرکٹ کے شوقینوں سے اس خطے میں سٹیڈیم بھرے رہیں گے اور تل دھرنے کی جگہ بھی نہ ہوگی۔ تاہم صورتحال اس کے قطعی برعکس دکھائی دیتی ہے۔

ویسٹ انڈیز میں عالمی کرکٹ کپ کے انعقاد کی ایک بڑی دلیل یہ دی گئی تھی کہ سن دو ہزارسات سے پہلے یہ ٹورنامنٹ دنیا کے ان تمام خطوں میں ہوچکا ہے جہاں کرکٹ مقبول ہے اور اب باری کیریبئین کی ہے۔

منتظمین کا اندازہ یہ بھی تھا کہ عالمی کپ کے انعقاد سے ویسٹ انڈیز کے ملکوں میں کہ جہاں صنعتی اور اقتصادی سرگرمیاں بہت زیادہ نہیں ہیں، بڑی تعداد میں ساری دنیا سے کرکٹ شائقین کی آمد سے خطے کے عوام کو زبردست معاشی فوائد حاصل ہوں گے جبکہ کرکٹ کا بنیادی ڈھانچہ بہتر ہونے سے ویسٹ انڈین کرکٹ کو طویل المدت فوائد بھی ملیں گے۔

تاہم ایسا کچھ ہوا نہیں۔ خالی سٹیڈیم اور روایتی جوش خروش سے اب تک عاری اس عالمی کپ سے ہر کوئی ہی حیران دکھائی دیا ہے۔
لیکن اینٹیگا کے وزیرصحت اور مقامی ورلڈ کپ کمیٹی کے سربراہ جون میگنلی کے مطابق لوگوں کو مستقبل میں عالمی کپ سے حاصل ہونے والے فوائد پر توجہ دینی چاہیے۔

جون میگنلی کے مطابق ہوسکتا ہے کہ لوگ کاروبار میں جس فوری تیزی کی توقع کررہے تھے وہ فوری طور پر انہیں دکھائی نہ دے۔ لیکن حکومت کا اصل مقصد اس عالمی کپ کا طویل المدت فائدہ ہے جو یقیناً سامنے آئے گا کیونکہ اس عالمی کپ نے واضح طور پر اینٹیگا اور ویسٹ انڈیز کے دوسرے ملکوں کو عالمی نقشے پر ابھارا ہے۔

جون میگنلی نے یہ بھی بتایا کہ عالمی کپ سے ہونے والی تشہیر کی بناء پر واشنگٹن ٹائمز نے اینٹیگا پر اٹھارہ صفحے کا ضمیمہ شائع کیا جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔

موجودہ عالمی کپ کے حوالے سے سب سے زیادہ حیرانی لوگوں کو شائقین کے بہت کم تعداد پر ہے خصوصاً ویسٹ انڈیز کے میچوں میں خالی پڑے سٹینڈز پر۔

گیانا میں اتوار کو سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان میچ وہ پہلا مقابلہ تھا جس میں سٹیڈیم بھر گیا تھا ورنہ ویسٹ انڈیز کے میچوں میں بھی تماشائی کم ہی رے ہیں۔

خود ویسٹ انڈین کپتان برائن لارا نے بھی اس اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پوری ٹیم کو تماشائیوں کی کم تعداد پر مایوسی ہے اور اس کی وجہ بھی سمجھ میں نہیں آرہی۔

لارا کے مطابق ٹیم نےآسٹریلیا، انگلستان اوربھارت وغیرہ کے خلاف عام سیریز بھی کھیلی ہیں جن میں تماشائیوں کی تعداد خاصی زیادہ ہوتی تھی۔ ہوسکتا ہے اس کی وجہ کرکٹ کے علاوہ کچھ اور ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ بہرحال ٹیم کی کوشش ہوگی کہ لوگوں کواپنی کارکردگی سےسٹیڈیم کھینچ لائیں۔

لیکن جون میگنلی کے مطابق آئی سی سی کی طرف سے غیر حقیقی اندازوں پر ضرورت سے زیادہ گنجائش کے سٹیڈیم بنوانا اور پھر ٹکٹوں کی قیمتیں زیادہ مقرر کرنا بھی اس کی ایک وجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ عام ٹیسٹ میچ کے ٹکٹوں کی قیمت پندرہ بیس ڈالر ہوتی تھی۔ ورلڈ کپ کے ٹکٹ ستر اسی اور سو ڈالر کے بھی ہیں۔ ایسے میں تو جتنے لوگ آئے ہیں وہ بھی بڑی بات ہے۔

اور ویسٹ انڈیز ہی کیا، دوسری ٹیموں کو بھی تماشائیوں کی کم تعداد پر تشویش ہے۔ آسٹریلین کپتان رکی پونٹنگ بھی اس کے شاکی ہیں اور کہتے ہیں کہ تماشائیوں کا نہ ہونا سمجھ میں بھی نہیں آتا۔

بقول پونٹنگ انہیں تو یقین نہیں آرہا کہ خود ویسٹ انڈیز کے میچوں میں تماشائی نہیں ہیں۔ اگر ویسٹ انڈیز عالمی کپ سے باہر ہوگیا تو شائد بچے کھچے تماشائی بھی نہ آئیں جو خاصی مایوس کن بات ہوگی۔

پونٹنگ نے کہا کہ ٹورنامنٹ کے باقی میچوں میں تو شائد بیرون ملک سے لوگ اپنی ٹیموں کے میچ دیکھنے آئیں لیکن اگر مقامی لوگوں کی کمی تو بہرحال محسوس ہوگی۔

تاہم منتظمین کے خیال میں تماشائیوں کی کم تعداد اور تجارتی نقطۂ نظر سے ایک نسبتاً کم کامیاب عالمی کپ کی ایک بڑی وجہ ابتدائی راؤنڈ میں ہی بھارت اور پاکستان جیسی ٹیموں کا اخراج ہے کیونکہ دونوں ملکوں کے شائقین کی بڑی تعداد میں آمد متوقع تھی۔

جون میگنلی کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی کوئی خامی تونہیں ہے لیکن مارکیٹنگ کے نقطۂ نظر سے سوچا جائے تو بنگلہ دیش کے بجائے ٹنڈولکر، سہواگ اور دھونی ہوتے تو کیا ہوتا۔

اسی طرح پاکستان بھی نہیں ہے۔ عالمی کپ میں انضمام اور شاہد آفریدی اور شعیب نہیں ہیں۔ یعنی جہاں پاکستان اور بھارت کا میچ متوقع تھا وہاں بنگلہ دیش اور آئرلینڈ کا میچ ہونا ہے۔

جون میگنلی کی بات کی تائید اوہائیو امریکہ سے ایشیائی شائقین کا ایک گروپ امریکہ لانے والی بھارتی نژاد ٹریول ایجنٹ کیتکی مودی بھی کرتی ہیں جن کا کہنا ہے بہت سے لوگ جو آنے والے تھے پاکستان اور بھارت کے اخراج کے بعد نہیں آئے۔

کیتکی مودی نے یہ بھی بتایا کہ جب وہ اینٹیگا کے لیے جہاز میں سوار ہوئیں تو تیس پینتیس فیصد نشستیں خالی تھیں حالانکہ شروع میں سیٹیں مل نہیں رہی تھی اور خالی سیٹیں انہی کی ہوں گی جنہوں نے اپنا ارادہ بدل دیا۔

بعض مبصرین کے خیال میں عالمی کرکٹ کونسل نے ویسٹ انڈیز میں عالمی کپ منعقد کراتے ہوئے جو غیر حقیقی اندازے لگائے تھے اور ان اندازوں پر قیاس کرتے ہوئے جو تیاری کی تھی، اس کے نتیجے میں عالمی کپ آئی سی سی کے لیے منافع بخش ہونے کے بجائے خسارے کا سودا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد